غزل

اکتوبر 14, 2023

محمد ضیاء العظیم پٹنہ

سسکیوں کے لمحوں میں قہقہے لگاتا ہوں
قہقہے لگا کر میں اپنا دل جلاتا ہوں

بس یہ میری عادت ہے، رنج میں ہی راحت ہے
خود سے روٹھتا ہوں اور ، خود کو ہی مناتا ہوں

تجھ سے دور رہ کر بھی آس پاس ہوں تیرے
تیری یاد کے ہمراہ وقت اب بتاتا ہوں

حسن کی ہو دیوی تم اور وفا کی پیکر بھی
اس لئے محبت سے میں گلے لگاتا ہوں

ہجر کے یہ سناٹے جب مجھے ستاتے ہیں
تم پہ لکھی غزلوں کو تب میں گنگناتا ہوں

آپ جانتے ہیں کیا، آپ سے محبت ہے
آپ کو جو دیکھا تو، سب کو بھول جاتا ہوں

اے ضیا تری آنکھیں، جن سے کرتی ہیں باتیں
ان سے دور جاتا ہوں، کچھ نہ پاس پاتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے