ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادت گنج، بارہ بنکی، یوپی
ہے کتنی پُر اوصاف یہ تخلیقِ خدا بھی
سورج میں تمازت بھی ہے ظلمت بھی ضیا بھی
اے جانِ غزل کچھ تجھے اس کا ہے پتہ بھی
کے تو ہی تو خوشبو بھی ہے گل بھی ہے صبا بھی
کچھ اور ہمارے ہو محبت کے سوا بھی
اس بات پہ کیا تم نے کبھی غور کیا بھی
وہ کیوں نہیں آیا میں کہوں کیسے کہ جبکہ
آتے ہوئے چلنے کے لئے اس کو کہا بھی
سب کچھ جو ہوا خاک تو کیا اس میں تعجب
جب پاس ہی پاس آگ بھی ہے اور ہوا بھی
بن جاؤ اگر تم مرے اے جانِ تمنا
پھر آئے مجھے زندگی جینے میں مزہ بھی
مجھ کو دلِ بیتاب کا قصہ نہ سنا کے
جو حال ترا ہے، ہے وہی حال مرا بھی
اس درجہ مروت کہ بنا وہ بھی قصیدہ
ہونٹوں پہ ہمارے جو کبھی آیا گلہ بھی
افسوس مری سمت اٹھائی نہ نظر تک
وہ مجھ کو اچانک جو سرِ راہ ملا بھی
کتنی بھی وفائیں کرو یا جان لٹاؤ
ملتا ہے مقدر سے محبت کا صلہ بھی
اس پر "ذکی” بنیادِ یقیں کیسے میں رکھّوں
وہ ایک دیا جو کہ جلا بھی ہے بجھا بھی
