غزل

ستمبر 13, 2023

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرؔبیدری، کرناٹک

دِل کو لگا صدمہ نہیں جاتا
اُن سے بھی چاہا نہیں جاتا

چھوٹا یا بڑکا نہیں جاتا
جب تک یہ پیسہ نہیں جاتا

معجزے بھیجتا رہتا ہے وہ
ہم سے بھی سجدہ نہیں جاتا

امن کی کوشش تو کرلی ہے
کیوں وہ فاختہ آ نہیں جاتا

ہوگی نجات اس کی یہ سمجھ کر
دنیا سے جھوٹا نہیں جاتا

یہ کیسا ہے امتحاں پیارے
بھیجتا ہوں چمچہ نہیں جاتا

میرؔ حکومتوں کا نعرہ ہے
غربتوں کو چھینا نہیں جاتا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے