دعوت فکروعمل: انصر نیپالی

 

بتاؤ کس کی شجاعت ترا شعار کروں ؟

قیود شام وسحر سے تمہیں بیزار کروں

تمہیں ہو قبلئہ اول کے وارث وحافظ

تمہیں کو مسجد اقصیٰ کا پاسدار کروں

ترے ہی صحن میں رب کے ملے ہیمبرسب

نبی پاک کا معراج عرش دار کروں

وہ سجدہ گاہ عمر رو رہی برسوں سے

بتاؤ کس کی امامت کو پائدار کروں ؟

تری زمیں پہ فرشتے بھی پر بچھاتے ہیں

تمہیں کو مسجد اقصیٰ پہ جاں نثار کروں

تمہاری گھات میں بیٹھے ہیں سارے صیہونی

اٹھو ! کمال شجاعت کو تاجدار کروں

کچل دو پاؤں سے غاصب کی ساری طاقت کو

تمہاری جیت کو دنیا میں آشکار کروں

ایوبی دور کی تاریخ پھر سے لکھ انصر

یہودیت کو جہاں بھر میں شرمسار کروں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے