~ عبد المقیت

   عبید اللّہ فیضی

‘صحافت’ مولانا ابوالکلام آزاد کے لیے خاص اہمیت اور توجہ کی حامل رہی۔ انھوں نے جس طرح شاعری، تصنیف وتالیف اور ترجمہ نگاری کا آغاز بچپن میں ہی کردیا تھا، اسی طرح صحافت کے وسیع وعریض میدان میں بھی کمسنی کی عمرمیں قدم رکھ دیا تھا۔ جب مولانا کی عمر محض بارہ سال چند ماہ تھی، تو وہ کلکتہ سے نکلنے والے ہفتہ وار "المصباح” کے مدیر تھے- یہ اخبار جنوری ۱۹۰۱ میں منظر عام پر آیا تھا۔ بعض حضرات کے نزدیک اس کی اشاعت کا عمل ۱۹۰۰ میں شروع ہوا لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کی اشاعت۲۲؍ جنوری ۱۹۰۱ کو عمل میں آئی۔ کیونکہ اس کا پہلا شمارہ عیدالفطر کے موقع پر شائع ہوا تھا اور اُس سال عیدالفطر ماہ جنوری ۱۹۰۱ کی ۲۲؍تاریخ کو واقع ہوئی تھی۔ یہ اخبار صرف تین چار مہینے ہی نکل پایا۔ مولانا آزاد کے "المصباح” کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا آزاد اس کے مدیر بننے سے پہلے ہی صحافت سے وابستہ ہوگئے تھے۔

جب مولانا آزاد اپنا گلدستہ "نیرنگ عالم” نکال رہے تھے تو وہ اس دوران متعدد رسائل و اخبارات مثلاً "اودھ اخبار” لکھنؤ، "الپنچ” پٹنہ ، "دارالسلطنت کلکتہ” کا مطالعہ کرتے تھے۔ اسی کے ساتھ عربی جرائد جیسے "الہلال” اور "المنار” بھی پڑھتے تھے اور ان سے کماحقہٗ استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ کیونکہ ان کی مادری زبان عربی تھی۔ مولانا کی عربی اخبارات ورسائل تک رسائی اس لئے آسانی سے ہوجاتی تھی کہ مولانا کے والد کے پاس عرب دنیا کے معروف رسائل واخبارات آتے تھے۔ کثرت کے سا تھ اردو، عربی اخبارات و جرائد کے مطالعہ کے سبب مولانا شاعری سے زیادہ صحافت میں دلچسپی لینے لگے اور پھر جلد ہی عملی طور پر اس سے باضابطہ وابستہ بھی ہوگئے۔ "المصباح” کے بعد مولانا آزاد جس دوسرے پرچے سے جڑے وہ "احسن الاخبار” تھا جو ۱۹۰۲ میں کلکتہ سے نکلنا شروع ہوا تھا۔ مولانا اس رسالے کی ترتیب و اشاعت میں معاونت کرتے تھے- اسی کے ساتھ وہ عربی اخبارات کی خبر وں و مضامین کا ترجمہ کرکے "احسن الاخبار” میں شائع کرنے کی ذمہ داری بھی نبھاتے تھے- اگرچہ مولانا کی صحافت میں گہرائی تھی، تاہم اس میں عربی کے مؤقرجرائد و رسائل کے مستقل مطالعے نے مزید چار چاند لگا دیئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریریں عام صحافیوں کی تحریروں سے ممتاز نظر آنے لگیں۔ قارئین کے درمیان بڑھتی مقبولیت اور مستند ومعروف قلمکاروں کے حوصلہ افزا تبصروں نے مولانا کے شوقِ صحافت میں روح پھونک دی۔ مولانا نے اپنے مضامین کو کسی محدود رسالے یا اخبار تک محدود نہ رکھا بلکہ انھیں متعدد اخبارات ورسائل کو اِرسال کیا۔ اسی لیے چند سال کے عرصے میں ان کے جامع مقالات ” لسان الصدق” کلکتہ، "خدنگ نظر” لکھنؤ، "الندوہ” لکھنؤ ، "وکیل” امرتسر، "دارالسلطنت‘‘ کلکتہ، "ماہنامہ مخزن” لاہور اور ہفتہ وار”الپنچ” کے زریں صفحات پر نظر آئے۔

اس اثنا میں مولانا آزاد کو متعدد اخبارات ورسائل کی ادارت کا تجربہ بھی حاصل ہوا اور کئی اخبارات و رسائل انھوں نے خود بھی جاری کیے۔ مثلاً جنوری۱۹۰۱ میں مولانا نے”المصباح” نکالا۔ ۱۹۰۲ میں "احسن الاخبار” کلکتہ کی ادارت سنبھالی۔ مارچ ۱۹۰۳ میں "خدنگ نظر” لکھنؤ کے معاون ایڈیٹر ہوئے۔ ۱۹۰۳ کے رواں سال میں ہی "ایڈورڈ گزٹ” شاہجہاں پور کے بھی مدیر بنے اور اسی سال ۲۰؍نومبر کو ماہنامہ "لسان الصدق” جاری کیا، جو مئی ۱۹۰۵ تک شائع ہوتا رہا۔ اکتوبر ۱۹۰۵ میں ماہنامہ "الندوہ” لکھنؤ کی سب ایڈیٹری کی ذمہ داری کو قبول کیا، لیکن ١٩٠٦ میں اس سے علیٰحدگی اختیار کرلی اور امرتسر سے شائع ہونے والے سہ روزہ اخبار "وکیل” کے مدیر بن گئے مگر اسی سال اس کی ادارت کو خیرباد بھی کہہ دیا۔ جنوری ۱۹۰۷ میں مولانا کی ادارت میں ہفت روزہ "دارالسلطنت” کا کلکتہ سے ازسرِ نو اجراء ہوا۔ اس دوران "وکیل” امرتسر کے مالک شیخ غلام محمد کا مسلسل اصرار رہا۔ لہذا ایک بار پھر "وکیل” کی ادارت قبول کرلی مگر اخبار کی پالیسیوں سے اختلاف کے باعث اس سے دوبارہ بھی زیادہ مدت تک وابستہ نہ رہ سکے اور بالآخر اگست ۱۹۰۸ میں اخبار سے الگ ہوگئے۔

قارئین! مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت اس وقت بام عروج کو پہنچ گئی جب وہ ہفت روزہ اخبار "الہلال” جاری کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ الہلال کا پہلا شمارہ ۱۳؍جولائی ۱۹۱۲ کو جلوہ گر ہوا۔ کتابت، طباعت اور مضامین و مواد کے لحاظ سے اخبار کا معیار بہت بلند تھا، اس لئے مشاہیر علماء و ادباء اور قد آور شخصیات نے اس کی اشاعت پر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا اور قارئین نے اسے بے حد پسند کیا۔ چند ماہ کے اندر الہلال کی اشاعت ہزاروں تک پہنچ گئی۔ اپنی خواہش کے مطابق "الہلال” کو منظرعام پر لانے میں مولانا آزاد کو کتنی محنت و جدوجہد کرنی پڑی اور وہ اس کے لئے کتنے تڑپے و بے قرار رہے، پہلے ہی شمارے میں اس کی بابت یوں لکھتے ہیں….

’’ ۱۹۰۶ کے موسم سرما کی آخری راتیں تھیں جب امرتسر میں میری چشم بیداری نے ایک خواب دیکھا۔ انسان کے ارادوں اور منصوبوں کو جب تک ذہن وتخیل میں ہیں عالم بیداری کا ایک خواب ہی سمجھنا چاہئے- کامل چھ برس اس کی تعبیر کی عشق آمیز جستجو میں صرف ہوگئے، امیدوں کی خلش اور ولولوں کی شورش نے ہمیشہ مضطرب رکھا اور یاس وقنوط کا ہجوم بارہا حوصلہ و عزم پر غالب آگیا لیکن الحمدللہ کہ ارادے کا استحکام اور توفیق الہی کا اعتماد ہر حال میں طمانیت بخش تھا، یہاں تک کہ آج اس خواب عزیز کی تعبیر عالم وجود میں پیش نظر ہے-” (الہلال: ۱۳جولائی ۱۹۱۲)

"الہلال” کی اشاعت کے پیچھے عظیم جذبات و مقاصد کار فرما تھے۔ مولانا آزاد اس کے ذریعے ایک طرف ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے تھے تو دوسری طرف دین کی اشاعت کا مقصد بھی ان کے پیش نظر تھا۔ جیسا کہ خود لکھتے ہیں….

"میری حالت الحمدللہ کہ عام حالات سے مختلف ہے۔ میں اپنے تمام کاموں کو ایک خالص دینی دعوت کی حیثیت سے انجام دیتا ہوں اور میرے پاس احکام دینی کے قوانین کی ایک کتاب موجود ہے پس میری نظر ہمیشہ اس پر رہتی ہے کہ خداوند کے ساتھ میرا رشتہ کیسا ہے؟” ( الہلال :۲۴؍ ستمبر ۱۹۱۳،جلد ۳،شمارہ ۱۳)

مولانا آزاد صحافت برائے خدمت پر یقین رکھتے تھے اور صحافت برائے تجارت کے قائل نہ تھے۔ دراصل مولانا کے نزدیک انسانی زندگی میں دولت کی کوئی وقعت نہ تھی- اس لیے انھوں نے کبھی دولت جمع کرنے کی قطعا ً کوشش نہ کی، حتی کہ اس کے مواقع ہونے کے باوجود بیزاری اختیار کی۔ اس کا اندازہ ۲۱؍جنوری کے شمارے میں شائع ان کی تحریر کے مندرجہ ذیل اقتباس سے کیا جاسکتا ہے، لکھتے ہیں….

"میرے آگے دنیوی عزت کے حصول اور دولت وجاہ سے مالامال ہونے کی بہت سی راہیں آئیں اور اگر میں صرف تھوڑی سی غیر محسوس تبدیلی بھی اپنی روش میں کردیتا تو حق پرستی کے دعوؤں کو باقی رکھ کر بھی دنیا حاصل کر سکتا تھا، پر خدا نے میرے دل کو ہمیشہ اپنی قدوس انگلیوں میں اس طرح رکھا کہ چند لمحوں کے فانی تزلزل کو مستثنیٰ کر دینے کے بعد میں اس کے تخت جلال و عظمت کی قسم کھا سکتا ہوں کہ میں نے کبھی اپنے ذاتی فائدے کے لیے ایک رائی برابر بھی اعراض کرنا پسند نہیں کیا-” (الہلال:شذرات، ۲۱؍جنوری ۱۹۱۴ ، جلد :نمبر ۴، شمارہ :۳)

مولانا کی صحافت خالص تھی، اس میں کسی طرح کے مفاد کی کوئی آمیزش نہ تھی۔ اگر مولانا چاہتے تو یقیناً الہلال کے واسطے سے بڑی رقم جمع کرسکتے تھے کیونکہ کتنے ہی اہلِ ثروت حضرات مولانا کے ایک اشارے پر روپیوں کے ڈھیر لگاسکتے تھے، لیکن مولانا نے اسے قطعا ً گوارہ نہ کیا، یہاں تک کہ الہلال کی خستہ مالی حالت کے باوجود تعاون کی طرف نظرنہ کی، ہاں اخراجات کو متوازن کرنے کے لیے قارئین کی تعداد میں اضافے کی ضرور کوشش کی۔ مشکل سے مشکل وقت میں مولانا آزاد نے ثابت کردیا کہ وہ سچے صحافی ہیں، تاجرنہیں۔ ان کا مقصد ملک وملت کی خدمت کرناہے، دولت وجاہ کمانا نہیں۔

الہلال’ اگرچہ بہت طویل مدت تک جاری نہ رہ سکا، تاہم انتہائی قلیل مدت میں اس نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے اور صحافت کا جو معیار پیش کیا، اُردو صحافت اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ الہلال کے بعد سے آج تک ہزاروں اخبارات ورسائل شائع ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے مگر الہلال اپنی زبان و مواد اور معیار میں سب سے نمایاں نظرآتا ہے۔

مالک رام لکھتے ہیں….

"الہلال کئی لحاظ سے عہد آفریں ثابت ہوا۔ اس شان کا کوئی ہفتہ وار پرچہ اردو میں شائع نہیں ہوا تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد بھی جو پرچے نکلے، ان کے سامنے نمونہ "الہلال” کا ہی رہا۔ ہر ایک کی یہی خواہش رہی کہ شکل وصورت، مضامین کی ترتیب، اداریے، تصاویر وغیرہ میں "الہلال” کا تتبع کریں-” (کچھ ابوالکلام آزاد کے بارے میں، از مالک رام ، صفحہ: ۶۱)

الہلال کا پہلا شمارہ ۱۳؍جولائی ۱۹۱۲ کو سر زمین کلکتہ سے نکلا اور اس کا آخری شمارہ ۱۸؍نومبر ۱۹۱۴ کو شائع ہوا ۔ اس کے بند ہونے کی وجہ حکومت کی جانب سے طلب کی گئی ضمانت تھی- ابتدائی الہلال سے دو ہزار روپئے کی ضمانت طلب کی گئی جسے ادا کر دیا گیا مگر اس کے بعد مزید دس ہزار روپئے کی ضمانت مانگی گئی۔اخبار اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کا متحمل نہیں تھا، اس لئے لاچار ومجبور ہو کر اسے بند کرنا پڑا- بظاہر تویہ اخبار ضمانت کی عدم ادائیگی کے سبب بند ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت اسے اس لیے بند کرانا چاہتی تھی کہ اس کے ذریعے تحریکِ آزادی کوفروغ اور ہندو مسلم اتحاد کی فضا سازگار ہو رہی تھی- اربابِ اقتدار کو خطرہ تھا کہ اگر الہلال جاری رہا تو ان کی پالیسی ‘لڑاؤ اور حکومت کرو’ دم توڑ دے گی اور پھر انھیں ہندوستان چھوڑ کر جانا پڑے گا۔

ڈاکٹر شفیع ایوب رقطراز ہیں….

” ۱۹۱۴ میں جب پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی تو الہلال نے انتہائی بے خوفی سے سامراج کی بدعنوانی کی قلعی کھولنی شروع کردی۔ نہ صرف حکومت کے سنسر کا محکمہ بلکہ انگریز دوست حلقے تلملا اٹھے۔ الہ آباد سے اس زمانے میں انگریزی اخبار "پانیئر” نکلتا تھا، جو مشہور ومقبول بھی تھا اور حکومت نواز بھی۔ پانیئر نے الہلال کے خلاف ایک زبردست اداریہ لکھا اور حکومت کو الہلال کی تحریروں کے خلاف کارروائی کرانے پر اکسایا۔حکومت نے جب مزید ضمانت طلب کی تو مولانا نے طے کیا کہ اب اخبار بھلے ہی بند ہوجائے لیکن مزید ضمانت کی رقم ادانہیں کریں گے، لہذا انہوں نے الہلال بند کردیا-” (تحریک آزادی اور الہلال ، از : ڈاکٹر شفیع ایوب ، ص: ۳۷۔۳۸، )

الہلال کے بند ہونے کے ایک سال بعد ۱۹۱۵ میں مولانا ابوالکلام آزاد نے ایک دوسرا اخبار "البلاغ” جاری کیا۔ٹائٹل کے علاوہ یہ اخبار ۱۸؍ صفحات پر مشتمل تھا۔ مولانا آزاد "البلاغ” کو بھی ہفتہ وار نکالنا چاہتے تھے مگر انھیں پہلے شمارے کی اشاعت کے دوران محسوس ہوا کہ اسے ہفتہ وار نکالنا مشکل ہوگا۔ چنانچہ مہینے میں دوبار شائع کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ مولانا آزاد کی خواہش تھی کہ "البلاغ” الہلال کی طرح معیاری ہو اور پابندی سے نکلتا رہے۔

مالک رام لکھتے ہیں….

’’ کوئی سال بھر کے التوا کے بعد انھوں نے دوسرا پرچہ ۱۲؍نومبر ۱۹۱۵ کو "البلاغ” جاری کر دیا، صرف نام کا فرق تھا، ورنہ دونوں کی صوری اور معنوی حیثیت میں کوئی فرق نہیں تھا-” (کچھ ابوالکلام آزاد کے بارے میں ، از : مالک رام ، ص: ۶۰)

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا نے "البلاغ” کی شکل میں "الہلال” ہی نکالا تھا۔ ‘الہلال’ چونکہ ضمانت کے سبب بند ہوا تھا، اس لیے اسی نام سے نکالنے کے لئے ضمانت کی ادائیگی اور دیگر کارروائیوں کو انجام دینا پڑتا- ان سب چیزوں سے بچنے کے لیے مولانا نے ‘الہلال’ کو ‘البلاغ’ کے نام سے جاری کردیا۔ اسی لیے ماہرین نے اس ‘البلاغ’ کے اجرائ کو ‘الہلال’ کے دوسرے دور کا آغاز کہا۔ لیکن مولانا آزاد ‘البلاغ’ کو اپنی مصروفیات اور متعدد مسائل کے سبب زیادہ وقت نہ دے سکے – نتیجہ یہ ہوا کہ ‘البلاغ’ کی اشاعت میں’الہلال’ جیسی پابندی کو برقرار نہ رکھا جا سکا اور کئی کئی شمارے ایک ساتھ نکالنے پڑے- مثال کے طورپر شمارہ ۱۳؍۱۴، شمارہ ۱۵،۱۶،۱۷، ایک ساتھ چھاپے گئے۔

انگریزی حکومت مولانا ابوالکلام آزاد کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتی تھی۔ ان کی صحافت وخطابت نے انگریزی افسران کے ہوش اڑا رکھے تھے۔ اس لیے حکومت کو "الہلال” کی طرح "البلاغ” بھی برداشت نہ تھا ۔چنانچہ مولانا پر یہ الزام لگایا کہ وہ ملک معظم کے دشمنوں سے سازباز رکھتے ہیں۔ گورنمنٹ بنگال نے ڈیفنس ایکٹ کی دفعہ ۳ کی بنیاد پر انہیں صوبہ بنگال سے باہر نکل جانے کا حکم جاری کردیا۔ اس طرح حکومت "البلاغ” کو بند کرانے میں کامیاب ہوگئی۔’البلاغ’ نے تقریباً پانچ مہینے کی عمر پائی- اس مدت میں اس کے ۱۱؍پرچوں میں ۱۷؍شمارے شائع ہوئے۔

قارئین: مولانا آزاد ۸؍جولائی ۱۹۱۶ سے ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۹ تک رانچی میں نظر بند رہے۔ رہائی ملنے کے بعد مولانا آزاد یکم جنوری ۱۹۲۰ کو کلکتہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس کے بعد پھر جدوجہدِ آزادی سے متعلق مصروفیات میں منہمک ہوگئے، لیکن صحافت کی جانب ان کی طبیعت کا میلان پھر بھی باقی رہا اور وہ اس دوران بھی اخبار کی اشاعت کے بارے میں غوروفکر کرتے رہے ۔

ان کی اسی فکر اور تڑپ کا نتیجہ ہفتہ وار "پیغام” کی شکل میں ایک بار پھر سامنے آیا۔ اس کا پہلا شمارہ ۲۳؍ستمبر ۱۹۲۱ میں کلکتہ سے منظر عام پر آیا۔ مولانا نے اس اخبار کی نگرانی کی، البتہ اپنی مشغولیات کے سبب ترتیب وتدوین کی ذمہ داری مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کے سپرد کردی۔ جلد ہی اس اخبار کو خاصی مقبولیت حاصل ہوگئی اور اس کی اشاعت ۱۰ ہزار تک پہنچ گئی۔قارئین اس اخبار کو پڑھنے کے لئے کتنے مشتاق رہتے تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی قیمت دو آنہ فی شمارہ تھی لیکن کبھی کبھی وہ ایک ایک روپے میں فروخت ہو جاتا اور ناشر قارئین کا مطالبہ پورا نہیں کر پاتا تھا۔ حکومت روز بروز ترقی کرتے ہوئے اس اخبار کو آخر کیسے برداشت کرسکتی تھی، اس لیے اسے بند کرانے کے لئے سرکار نے منصوبہ بندی شروع کردی، چنانچہ ایڈیٹر عبدالرزاق ملیح آبادی کو گرفتار کیا گیا اور ۱۰؍دسمبر ۱۹۲۱ کو خود مولانا آزاد کی گرفتاری بھی عمل میں آگئی۔ اس کے بعد یہ اخبار بند ہوگیا۔مجموعی طورپر یہ اخبار صرف ساڑھے تین مہینے ہی نکل سکا۔

جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا تھا، مولانا آزادی سیاسی وتحریکی سرگرمیوں میں زیادہ مصروف ہوتے جارہے تھے اور کسی چیز کے لیے بھی وقت نکال پانا مشکل ہوتا تھامگر چونکہ مولانا کا رشتہ صحافت کے ساتھ بہت گہرا تھا اور صحافت گویا کہ ان کے خون میں شامل تھی، اس لیے ایک بار پھر اخبار نکالنے کا جذبہ ان کے سینے میں کروٹیں بدلنے لگا، اس بار ان کا رُجحان روزنامہ نکالنے کی طرف ہوا، مگر پھر بعض وجوہات کی بنا پر یہ ارادہ تبدیل کردیا اور الہلال ہی کو دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

عبدالقوی دسنوی لکھتے ہیں:

” آخر ۱۹۲۷ پہنچتے پہنچتے ایک بار ہمت کر کے روزانہ نکالنے کا فیصلہ کرلیا لیکن معلوم نہیں کن وجوہات سے وہ اپنی اس خواہش کی تکمیل نہ کرسکے اور روزانہ اخبار کی جگہ کلکتہ سے ہفتہ وار "الہلال” نکالنے پر آمادہ ہوگئے‘-” (حیات ابوالکلام آزاد: از عبدالقوی دسنوی، صفحہ: ۵۸۵۔۵۸۶)

مالک رام نے اردو روزنامہ نہ نکالنے کی وجہ وسائل و سرمایہ کی کمی کو قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں…

"پیغام” کے بند ہو جانے کے بعد سیاسی سرگرمیوں نے انھیں کسی اور موضوع کے بارے میں سوچنے کی فرصت نہ دی لیکن وہ صحافت سے بے خبر نہیں رہے، کچھ دن وہ ایک روزنامہ جاری کرنے کے منصوبے پر بھی غور کرتے رہے، لیکن اس کے لیے جتنے سرمایے اور اہتمام اور لاؤ لشکر کی ضرورت ہے اس کا انتظام آسان نہیں تھا۔ آخر کار انھوں نے روزنامے کا خیال چھوڑ دیا اور الہلال ہی کو دوبارہ زندہ کرنے کی ٹھان لی-” (کچھ ابوالکلام آزادکے بارے میں ، از مالک رام: ص: ۶۴)

مولانا آزاد کی صحافت کے مقام کا تعین کرنے کے لیے ‘الہلال’ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ جس قدر صحافت کے جوہر مولانا آزاد نے اس کے صفحات پر دکھائے ہیں، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی- اگرچہ ‘ الہلال’ مجموعی طور پر تقریباً تین سال شائع ہوا لیکن اتنے قلیل عرصے میں اس نے کئی سطح پر قابل رشک کارنامے انجام دیے- دعوت دین جو مولانا آزاد کا اولین مقصد تھا، اسے الہلال نے بڑے دلکش اور پُرجوش انداز میں پیش کیا۔ الہلال نے موثر کن انداز میں آزادی کے لئے بھی ماحول سازگار کیا۔ الہلال نے اردوصحافت کو ایک معیار بخشا اور اسے عروج تک پہنچایا۔ الہلال نے صحافت کے ساتھ اردوادب کی بھی خدمت کی۔

الہلال کے بعد مولانا آزاد سیاسی سرگرمیوں میں بہت زیادہ مصروف ہونے کے سبب کوئی اور اخبار نہیں نکال سکے۔گویاکہ ادب وصحافت سے ان کا تعلق منقطع ہوگیا لیکن ان کے قلم کی تازگی ہمیشہ باقی رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے