رپورٹ: حسن عمار

علیگڑھ: آج مؤرخہ 3 دسمبر 2023 بروز اتوار صبح ۱۰ بجے مدرسۃ العلوم الاسلامیہ، علیگڑھ میں مختلف اسکولوں کےطلبہ اور طالبات (کلاس 9th to 12th) کی فکری تربیت کے لیے ایک ورکشاپ  "Youth Tarbiyah Workshop” کے عنوان سے منعقد کیا گیا۔

الحمد للہ تقریبا ۱۰۰ سے زائد طلبہ و طالبات نے اس میں شرکت کی جس میں خوش آئند بات یہ رہی کہ زیادہ تعداد بچیوں کی تھی۔ اس ورک شاپ میں پہلے سے طے شدہ عناوین کے تحت دو الگ الگ اسپیکرز (جناب ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب(نئی دہلی ) اور حسن عمار ندوی (مدرسہ ہذا) ) نے اپنے اپنے عنوان پر بہت اچھے انداز میں تفصیلی گفتگو کی ۔ پروگرام کا آغاز حسب روایت تلاوت و نعت سے ہوا ۔ پھر مدرسہ ہذا کے پرنسپل جناب ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی صاحب حفظہ اللہ نے ورکشاپ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ زندگی کے مختلف میدانوں میں ہمارے نوجوان اچھے مسلمان اچھے انسان کیسے بنیں ، ان میں ملی شعور کیسے پیدا ہو ، انھوں نے کہا ناخواندگی ہماری قوم کا ایک بڑا مسئلہ ہے مگر میری نظر میں اس سے بڑا مسئلہ پڑھے لکھے لوگوں کا اچھا سچا مسلمان نہ ہونا اور ملی شعور سے خالی ہونا ہے ، انھوں نے نوجوان طلبہ و طالبات کو یوتھ کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے یہ سمجھنا اس لیے بہت ضروری ہے کیونکہ آپ ہی ہماری قوم کا مستقبل اور اسکے نمائندے اور اس کی امید ہیں، انھوں نے غزہ کے نوجوانوں کے شعور کی مثال دی کہ وہ دنیا کی ٹاپ کلاس یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں لیکن واپس آ کر اپنی خدمات اپنے وطن کو دیتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ پتہ نہیں کب دشمن شہید کر دے ، بس اسی شعور کو ڈیویلپ کرنے کی ضرورت ہے ۔

اس کے بعد حسن عمار ندوی نے "Muslim Youth: Abilities and Responsibilities” کے عنوان پر بڑی موثر اور سیر حاصل گفتگو کی ۔ پھر ڈاکٹر غازی صاحب نے "Blessed Life with Imaan” کے عنوان پر اور آخری سیشن میں "Living as One Ummah” کے عنوان پر عصر حاضر کے سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے مفید گفتگو کی۔

ہر سیشن کے بعد میں تمام مشارکین کو کھل کے سوال کرنے کا موقع دیا گیا۔ سوال و جواب سے اندازہ ہوا کہ طلبہ اور طالبات نے بہت توجہ اور اطمینان کے ساتھ نہ صرف یہ کہ گفتگو کو سنا بلکہ انتہائی قیمتی سوالات بھی کیے جس کے تشفی بخش جوابات دینے کی کوشش کی گئ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ اس طبقہ میں کام کرنے کی اور ان طلبہ کے ساتھ روابط بڑھانے کس قدر ضرورت ہے۔ ان کے اندر طلب ہے سوالات ہیں لیکن انھیں ایسے مواقع نہیں مل رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو مناسب انداز میں ان طلبہ کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے فکر اسلامی اور تعلیمات اسلام ان کے سامنے پیش کرسکیں۔ دینی اور ملی شعور ان میں اس لیے بھی پیدا کرنا ضروری ہے کہ آگے چل کر یہی طلبہ نظام زندگی کی زمام سنبھالتے ہیں۔ورکشاپ کے اختتام پر ایک طالب علم اور ایک طالبہ سے اپنے تاثرات پیش کرنے کی درخواست کی گئ جس سے محسوس ہوا کہ الحمد للہ ہمارا یہ عمل اور آج کا یہ اجتماع ان شاء اللہ انکی زندگیوں میں کسی نہ کسی درجہ میں تبدیلی کا سبب بنے گا ۔ اسکے بعد سب سے زیادہ سوالات کرنے والے اور اچھے سوالات کرنے والے پانچ طلبہ اور پانچ طالبات کو MOST ACTIVE PARTICIPANT AWARD سے بھی نوازا گیا ، اور جملہ طلبہ و طالبات کو PARTICIPATION CERTIFICATE سے بھی نوازا گیا۔

الحمد للہ جملہ امور بحسن و خوبی مکمل ہوے اور ارادہ ہے کہ ان شاء اللہ آگے بھی اس طرح کے پروگرام ہم جاری رکھیں گے۔ کیا خوب ہوتا کہ مسلم مینیجمنٹ کے مختلف اسکول اور کالج بھی اس جانب توجہ دیتے اور اپنے کو کریکولم میں ایسے ایونٹ بھی شامل کرتے ، اور اپنے اداروں میں ایسے ورکشاپ منعقد کرتے۔ ورنہ کم از کم اس سلسلے کو مفید بنانے اور جاری رکھنے میں ہماری مدد کرتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے