احمد حسين مظاہریؔ
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اعتقادات ہوں یاعبادات ،معاملات ہوں یاعقوبات ہر شعبہ زندگی میں شریعتِ اسلامی مشعلِ ہدایت ہے،زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے لیے اسلام نے نظامِ اعتدال و توازن نہ پیش کیا ہو۔لیکن فی الوقت حقِ مہر کے سلسلے میں بڑی کوتاہی برتی جارہی ہے،کئی غلظ فہمیاں پنپ رہی ہیں،بیشتر علاقوں میں مہر باندھتے وقت بڑی کشا کشی ہوتی ہے،خاندان کے سارے افراد مل کر مہر طئے کرتے ہیں لیکن بعد میں ادائیگی کی قطعاً فکر نہیں کی جاتی،حالانکہ یہ عورتوں کی حق تلفی ہے جو کہ از روئے شرع درست نہیں ہے،چنانچہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:مہرعورت کا حق ہے اس کا مانگنا عیب کی بات نہیں۔
ایک عملی غلطی یہ ہے کہ عورتیں مہر مانگنے کو یا بے مانگے لینے کو عیب سمجھتی ہیں اور اگر کوئی ایسا کرے تو اس کو بدنام کرتی ہیں۔سو خوب سمجھ لینا چاہئے کہ اپنے حق واجب کا مانگنا یا وصول کرنا جب شرعاً کچھ عیب نہیں تو محض اتباع رسم کی وجہ سے اس کو عیب سمجھنا گناہ سے خالی نہیں۔ (اصلاح انقلاب صفحہ ۱۳۹ جلد ۲)
شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں:مہر درحقیقت بیوی کا اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگا دی ہے کہ تم مہر پر ہی نکاح کرو گے،مہر کے بغیر نہیں،بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مہر بیوی کی قیمت ہے،گویا کہ مہر کے عوض بیوی کو شوہر نے خرید لیا ہے۔ خوب سمجھ لیں۔مہر کا قیمت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اعزاز ہے دیکھئے، جب آدمی بازار سے کوئی چیز خریدتا ہے، اور اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ اب اگر بیچنے والا یہ کہے کہ میں اس چیز کی قیمت تم سے نہیں لیتا۔ تم مفت لے جاؤ تو اس کے لئے مفت لینا جائز ہے، اس لئے کہ دکاندار اس چیز کا مالک ہے، وہ اگر چاہے تو قیمت لے لے، چاہے تو مفت دیدے لیکن مہر کے بارے میں کوئی عورت یہ کہے کہ میں نکاح مہر کے بغیر کرتی ہوں، مفت کرتی ہوں، تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ اس کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں۔ ماس لئے شوہر اعزاز کے طور پر یہ مہر بیوی کو ادا کرے۔(بحوالہ:اصلاحی خطبات)
سب سے خطرناک مرض جو لاحق ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اکثر لوگ مہر دینے کا ارادہ ہی دل میں نہیں رکھتے پوری عمر گز جاتی ہے،لیکن مہر کا تذکرہ نہیں ہوتاہے،حکیم الامت حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں:ایک کوتاہی یہ ہے کہ شوہر کے مرض الموت میں عورت مہر معاف کر دیتی ہے۔ اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر خوشی سے معاف کردے تو معاف ہو جاتا ہے اور اگرعورتوں کی زبردستی گھیرا گھیری سے معاف کرے تو عند اللہ معاف نہیں ہوتا اور اوپر والوں کو (یعنی بڑوں بوڑھوں کو) اس طرح مجبور نہ کرنا چاہئے۔ (اصلاح انقلاب صفحہ ۱۳۷ جلد ۲)
امیرِ ہندحضرت مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم اپنی شہرہ آفاق کتاب” کتاب المسائل“میں رقم طراز ہیں: قابلِ تشویش ہے کہ موجودہ مسلم معاشرے میں مہر کی ادائیگی کے معاملے میں بڑی کوتاہی کی جاتی ہے،پوری عمر گزر جاتی ہے اور مہر کا نام بھی زبان پر نہیں آتا،اور ماحول اس طرح کا بنا دیا گیا ہے کہ عورت کی طرف سے مہر کا مطالبہ بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے،اور اس کا ذکر بس اسی وقت ہوتا ہے جب خدا نہ کرے میاں بیوی میں کشیدگی پیدا ہو،یا طلاق کی نوبت آئے؛ بلکہ بہت سی جگہوں پر تو با قاعدہ بیوی سے مہر کی معافی کا مطالبہ ہوتا ہے،اور بیوی شر ما حضوری میں یا خاندانی دباؤ میں بادل ناخواستہ معافی کا اقرار کر لیتی ہے،حالاں کہ اس طرح کی جبری معافی کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں،مہر ادا نہ کرنے پرسخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔چنانچہ ایک حدیث میں پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: جو شخص کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر شادی کرے،اور اس کے دل میں اس عورت کے حق مہر کو ادا کرنے کا اِرادہ نہ ہو؛ بلکہ اس نے اسے دھوکہ دیا ہو پھر وہ عورت کا حق ادا کئے بغیر مر جائے تو اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اس کا شمار بدکاروں میں ہوگا۔
بریں بنا معاشرہ میں پیدا شدہ مذکورہ کوتاہی کو دور کرنے کی سخت ضرورت ہے، اور اس بات کی ذہن سازی عام ہونی چاہئے کہ مہر عورت کا لازمی حق ہے، اور جتنی جلد اس کی ادائیگی ہو جائے بہتر ہے؛ کیوں کہ زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں؛بلکہ افضل یہ ہے کہ نکاح کے وقت ہی یا رخصتی سے پہلے ہی مہر کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔ چناں چہ احادیث سے ثابت ہے کہ ام المؤمنین سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح پہلے ہو چکا تھا،لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس وقت تک رخصتی نہیں فرمائی،جب تک کہ مہر وغیرہ کا انتظام نہیں ہو گیا ،اور اس انتظام کی وجہ سے قدرے تاخیر بھی ہوئی۔نیز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے امیرالمومنین سید نا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو حکم دیا تھا کہ وہ خاتونِ جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رخصتی سے قبل کچھ نہ کچھ مہر ادا کریں۔(کتاب المسائل)
عصرِ حاضر میں مہر کے معاملے میں اس لیے جگ ہنسائی ہورہی ہے کہ وسعت سے زیادہ مہر مقرر کرنے کو فخر محسوس کرتے ہیں حالانکہ ان کی نیت اداکرنے کی نہیں ہوتی جبکہ حدیث میں ایسی نیت سے شادی کرنے والے کو زانی کہا ہے۔
حکیم الامت حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں:اصل بات یہ ہے کہ افتخار (تکبر و فخر) کے لئے ایساکرتے ہیں کہ خوب شان ظاہر ہو۔سو فخر کے لئے کوئی کام کرنا گو اصل میں مباح (اور جائز بھی )ہو حرام ہوتا ہے چہ جائیکہ فی نفسہٖ بھی وہ خلاف سنت اور مکروہ ہو تو اور بھی ممنوع ہو جائے گا،مہر کے زیادہ ٹھہرانے کی رسم خلاف سنت ہے۔
زیادہ مہر مقرر کرنا درست نہیں بلکہ شریعت کی رو سے مہر مقرر کرنا چاہیے، اس سلسلے میں حکیم الامتؒ فرماتے ہیں:احادیث میں مہر زیادہ ٹھہرانے کی کراہت اور کم ٹھہرانے کی ترغیب آئی ہے۔
چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا کہ مہروں میں زیادتی مت کرو کیونکہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات یا اللہ کے نزدیک تقویٰ کی بات ہوتی تو سب سے زیادہ اس کے مستحق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کسی بیوی کا اور اسی طرح کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں ہوا ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتاہے اور ایک درہم تقریباً چار آنہ چارپائی کا ہوتا ہے (یعنی چاندی کے چار آنہ چار پائی) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: کہ عورت کا مبارک ہونا یہ بھی ہے کہ اس کا مہر آسان ہو۔(٢) حدیث میں ہے کہ مہر میں آسانی اختیار کرو۔
(٣) حدیث میں ہے کہ اچھا مہر وہ ہے جو آسان اور کم ہو۔(بحوالہ :اسلامی شادی)
حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں:ایک کوتاہی شوہر کی طرف سے یہ ہوتی ہے کہ اپنی رائے سے یوی کو کوئی چیز خواہ زیور کی قسم سے ہو یا سامان اور کپڑے کی قسم سے یا مکان اور زمین‘ بیوی کو دے دیتے ہیں اور اس کے نام کر کے خود نیت کرتے ہیں کہ میں مہر دے چکا اور مہر ادا کر دیا۔ سو سمجھ لینا چاہئے کہ مہر کے بدلے میں یہ چیزیں دینا بیع (خرید و فروخت) ہے اور بیع میں دونوں جانب سے رضا مندی شرط ہے پس اگر ان چیزوں کا مہر میں دینا منظور ہے تو بیوی سے صریح الفاظ میں پہلے پوچھنا چاہئے کہ ہم تمہارے مہرمیں یہ چیزیں دیتے ہیں تم رضامند ہو؟ پھر اگر وہ رضا مند ہو تو جائز ہے۔ (اصلاح انقلاب صفحہ ۱۳۷)
آخری گزارش:علمائے امت سے بصد نیاز استدعا ہے کہ عوام الناس کو مہر کے مسائل سے روشناس کرائیں، بیشتر لوگ مسائل سے نابلد ہیں۔
بارِالہ سے دعا گُو ہوں کہ مذکورہ بالا باتوں پر ہمیں اور امت مسلمہ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔
