تحریر: نامعلوم 

نوٹ: حالاتِ حاضرہ پر لکھی گئی ایک تحریر، افادہ عام کی خاطر ہدیہ ناظرین ہے 

 

آج لڑکے لڑکیاں 15 سال میں ہی شہوت محسوس کر رھے ہوتے ہیں وجہ فاسٹ فوڈ ، چکن ، گندے دوست اور موبائل ہیں۔ اس سے والدین سمجھ سکتے ہیں کہ آج بچوں کے جنسی ہارمونز پندرہ سولہ کی عمر میں ہی ایکٹو ھو چکے ہوتے ہیں۔

جبکہ شادی کا پلان تیس سال کی عمر تک ملتوی ھو چکا ھو تو سوچیں دماغ اور جسم کا کیا حال ھو گا؟

تیس سال کی عمر میں کی گئی شادی میں کوئی اپنے پارٹنر کے ساتھ دل سے خوش نہیں رھے گا بلکہ وہ جنسی طور پر سڑ چکا ھو گا یا پھر ڈپریشن کا شکار یا پھر بد کرداری کی عادت میں پکا ھو چکا ھو گا۔

کیونکہ اتنے سال جسم کو جسم کی ضرورت سے محروم رکھنا ظلم کہلاتا ھے۔

اور اس ظلم کو دماغ قبول نہیں کرتا اس لئے وہ بغاوت کرتا ھے اور غلط رستہ چنتا ھے یا پھر جنسی تکلیف کو برداشت کرتے کرتے،

نفسیاتی مریض بن جاتا ہے ۔

 

اپنے بچوں کو نفسیاتی پن

یا پھر بدکرداری سے بچائیں اور شادی جلدی کریں تاکہ حلال رزق سے ان کے جسم اور ذہن کو سکون مل سکے یقینا سکون صرف نکاح میں چھپا ہے .

۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے