حکومت کی لاکھ کوششوں کے بعد امداد یافتہ مدارس کی منما نی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

بارہ بنکی(اترپردیش): یوپی مدرسہ تعلیمی بورڈ کے فارم پر کرنے کی تاریخوں کا اعلان بورڈ نے کردیا ہے جس کی آخری تاریخ 30 نومبر2023 ہے۔ ہر سال کی طرح امسال بھی تمام منظور شدہ اور امداد یافتہ مدارس منشی، مولوی(سکینڈری) عالم, کامل, فاضل (سینئر سکینڈری) کے طلباء و طالبات کو تلاشنا شروع کریں گے کیونکہ بورڈ سے متعین تعداد پوری کرنا پڑتا ہے۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ آزادی کے 76 سال بعد بھی مدارس کے حالات دردست نہیں ہو سکے۔جیسے تیسے یہ امداد یافتہ مدارس جاری و ساری ہیں۔ زیادہ تر یہ امداد یافتہ مدارس سیاست اور من مانی کے اڈے بنے ہوئے ہیں۔سرکار کی لاکھ کوششوں کے باوجود یہاں کے حالات درست ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

اس جمہوری ہندوستان میں مدارس اور سنسکرت اسکولوں کو ایک الگ سی چھوٹ حاصل ہے اور یہی وجہ ہے حکومت سے ملحق تمام مدارس کو سرکار امداد دیتی ہے اور ان مدارس میں عربی فارسی کے علاوہ ہندی اردو، انگلش حساب، سائنس، جغرافیہ، کمپیوٹر ، سلائی کٹائی وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہر سال ہونے والے منشی مولوی ہائی اسکول اور عالم انٹر میڈیٹ کے مساوی ہیں۔ کامل اور فاضل جو بی اے، ایم اے کی طرز پر ہوتے ہیں مگر ان کو ابھی بی اے، ایم اے کا درجہ نہیں مل سکا ہے۔ حالانکہ یہ ڈگریاں مدارس میں کام آتی ہیں۔ کامل سے جونئیر درجات یعنی فوقانیہ اور فاضل سے ہائی اسکول عالیہ درجات میں ملازمت مل جاتی ہے۔ لیکن یہاں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان امداد یافتہ مدارس میں اساتذہ بھرتی کا عمل سرکار نہیں کرتی ہے بلکہ یہاں کی کمیٹی کرتی ہے جس بنا پر کمیٹی کے سربراہ کی منمانی عروج پر رہتی ہے وہ جسے چاہتی ہے رکھتی ہے اور جسے چاہتی ہے نکال دیتی ہے، اس کو یہ پاور حاصل ہوتا ہے۔ اس پاور کی وجہ سے تعلیم یافتہ باصلاحیت ڈگری لے کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتا ہے اور ان کے متعلقین بیٹا، بیٹی، داماد، بھانجہ بھانجی، یہاں تک کہ کچھ مدارس میں سربراہان کی اہلیہ تک ملازمت پر فائز ہوتی ہیں۔ خبر تو یہاں تک ہے کہ ان مدارس کے سربراہان کی بے خوفی کا عالم یہ ہے کہ کھلے عام پیسہ کا مطالبہ کر دیتے ہیں جو زیادہ دیتا ہے اسے منتخب کر لیا جاتا ہے، یہیں پر بس نہیں ہو جاتا ہے، ماہانہ بهی فیصد کے حساب سے ہر استاذ سے وصولی کر تے ہیں۔کسی سے دس فیصد، کسی سے 15 فیصد جس سے جو طے ہو جائے۔ اس حساب سے مدارس سربراہان بڑی رقم ان اساتذہ سے وصولتے ہیں۔ اب سوال اس بات کا ہے کہ یہ اساتذہ دیتے کیوں ہیں؟ وہ اس لئے کہ جہاں اس قدر بے روزگاری ہے وہیں دوسری طرف منيجر، صدر، سکریٹری صاحبان کی بات پر لبیک نہیں کہیں گے تو یہ اپنے پاور کا استعمال کر کے باہر کا راستہ دکھا دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے