👈رشیدہ منصوری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوڑہ
محمد حسن عمران، عمران راقم کے نام سے لکھتے ہیں اور اب اسی نام سے معروف بھی ہیں۔ نئی آواز ،نئی زمین، غزل زار ، شعری تصانیف ہیں جو منصہء شہود پر آچکی ہیں۔شاعر وقت دیوان غزل تیزاب ،نیا آسمان، نظموں کا مجموعہ زیر اشاعت ہے۔بنجر آسمان افسانوی مجموعہ بھی زیر ترتیب ہے۔عمران راقم ایک براڈ کاسٹر ، مدیر،بزنس ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ شاعری ،افسانہ نگاری، مضمون نگاری ، فکاہیہ نگاری بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کئی ایوارڈ لے چکے ہیں ۔ متحرک انتظامی اور سماجی شخصیت ہیں ۔ عمران رقم سے صحافت اور کاروبار سے وابستہ افراد کا شعر وادب کی طرف آنا قابل تحسین ہے۔ لیکن نقدِ شعری کا تقاضا کچھ اور ہے۔ عمران رقم کی سماجی خدمات اعزازات اور سماجی مرتبہ کے باوجود ان کی شاعری کو صرف شاعری کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ راقم کے ہاں پابند قافیہ عبارات ہیں۔ آرائش خیال اور گہرائی تہ داری اور جذبوں کی فسوں کاری نہیں۔

یوں ان کی شاعری کے بجائے ان کی ادبی خدمات کی تفصیل میں زیادہ وقعت دکھائی دیتی ہے۔ ادب تخلیق کرنا اور ادب کی سرپرستی کرنا الگ اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان کے شعر وادب اور شخصیت پہ ایک مقالہ میں گیاوی صاحب نے ان کی شخصی خوبیوں اور انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ان کے شعرو ادب پر بات کی ہے ۔ یہی وجہ ہے ان کے مضمون سے شاعری سے متعلق اقتباس میں نے اس تحریر کا حصہ بنایا ہے۔ ان کے دیباچہ نگار نے ان پر ظلم یہ کیا کہ مبالغہ کے سارے تیر کمان سے نکال دیئے۔ میان میں کچھ بھی نہ بچ سکا۔۔
میں نے ان کے مجموعہ کو بغور دیکھا لیکن ان کے ہاں کہانی کونٹینٹ اور سکرپٹ کے علاؤہ کچھ بھی نہیں۔ آپ انتخاب دیکھ کر خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ہاں ادب کی سرپرستی اور ادبی تعلقات ہمارے شہر اور ملک میں نئے لکھنے والوں کے لیے حوصلے کا کام دے سکتے ہیں۔
گیاوی صاحب کے بقول آدھی صدی سے بہار شریف کے ادب کے واحد درخشاں ستارے قرار دے کر جو تعریف کی ہے۔ اگر میرے تبصرہ کے بجائے آپ خود گیاوی صاحب کے اس اقتباس کی قراءت کرلیں گے تو ممکن ہے آپ بہتر نتیجہ پر پہنچیں کہ شاعر کو آسماں تک کیسے پہنچایا جاتا ہے تاکہ وہاں سے اس کا گرنا اور کھجور میں اٹک جانا آساں ہوجائے۔ یہ پورا مضمون حرف حرف اسی تحسین و ستائش باہمی کا شہکار ہے۔
عمران راقم دراصل ادبی قدروں کے آفاقی قلم کار ہیں۔وہ پرتوں والی تخلیقی اہلیت رکھتے ہیں۔ان کے اسلوب کی تازگی اور لہجے کی مہک دلوں کو چھو لیتی ہے ۔ان کے شعر میں حسن بھی ہےاور جاذبیت بھی ،الفاظ و خیال ان وجدان میں بنے بنائے اور ڈھلے ڈھائے ہوئے اترتے ہیں۔ عمران راقم کی معصوم شوخی بھی ان کی تحریر میں جا بجا انوکھی جاذبیت پیدا کر دیتی ہے۔ صاف گوئی اور بے باکی انکی تحریر کا لازمی حصہ رہی ہے ۔ انکا تخلیقی وژن ہمہ گیری اور جامعیت کا بہترین نمونہ ہے ۔ اردو ادب پر انکی گہری نظر ہے۔قدیم اور جدید ہر طرح کے میلانات اور رجحانات کے بارے میں انکی اپنی سوچی سمجھی رائے ہے ۔ تحریر میں ضبط واعتماد اور لہجے میں اعتدال و توازن ہے ۔ انداز بیان سنجیدہ اور عالمانہ ہی نہیں شگفتہ اور رواں ہے ۔بہار شریف کے ادبی منظر نامے کا اگر جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ گزشتہ آدھی صدی یعنی پانچ دہائیوں سے زائد کے عرصہ میں عمران راقم کے علاوہ ملکی سطح پر کوئی بھی شاعر ادیب بہارشریف سے نہیں ابھرا۔ اس عرصے میں کوئی بھی شاعر صاحب دیوان نہیں ہوا ۔اردو کے موقررسائل وجرائد کے حوالے سے یا مشاعرہ کے حوالے سے ادبی منظر نامے میں صاحب دیوان عمراں راقم کی ہی ادبی حیثیت وثوق کےساتھ مسلم نظر آتی ہے۔عمران راقم کا ادبی سفر گزشتہ پینتیس برسوں سے صلے کی تمنا کئے بغیر جاری ہے اس عرصے میں ان کی اردو سے محبت کی داستان طلسم ہوشربا سے کم نہیں۔ پچاس سا سے شعر کے لیے پیاسی دھرتی پر ایک شاعر کو یوں منفرد اور آئیڈیل شخصیت کے طور پر پیش کرنا بہت بڑی جسارت ہے۔گیاوی صاحب عمران راقم کی ادبی خدمت کے سلسلے میں جس درجہ کی شاعری کو طلسم ہو شربا کہتے ہیں اس کی جھلک ان اشعار میں دیکھیں ۔اگر گیاوی صاحب طلسم ہوش ربا کی سحر طرازی اور نام کے مفہوم اور اس کے فن پارے پہ اطلاق کی طرف دھیان دیتے تو وہ قطعاً یہ اصطلاح یہاں استعمال نہ کرتے۔۔
شہر ادب میں دیتا نہیں کوئی راستہ
کوئی کسی کو دیتا نہیں فکرو فن کا راز
روٹھ جاتی ہے جو پازیب کبھی پاؤں کی
اس کو پھر حاصل جھنکار منا لیتے ہیں
رات گئے جو آگ لگاتے ہیں گھر میں
ایسے بھی ہمدرد ہمارے ہوتے ہیں
کبھی ایسا بھی لگتا ہے کہیں ہم
کھڑے ہیں اور رستے جا رہے ہیں
گفتار میں تم نرمی رکھو اپنے ہمیشہ
چھوٹے ہو بزرگوں کے برابر نہیں آنا
سہانی رات اکیلے میں جب بھی ہوتی ہے
قلم سے اور بھی کاغذ سیاہ کرتا ہوں
جہاں تھی صحرا نوردی عروج پر میری
وہیں درخت لگائے گئے ببولوں کے
شعر وادب میں واقعی صحرا کی سی کیفیت ہے۔ اور حرف کے بگولے کاشت ہو رہے ہیں ۔ شعری ہیت میں جوڑے گئے حرف بھی شاعری شمار ہوتے ہیں تو میرے اس مضمون کو بھی ایک دیوان کا ابتدائیہ شمار کر لیں ۔ میرے سامنے دیوان عمران راقم ہے، دیباچہ میں ان کے ممدوح نے جو مبالغہ آرائ کی ہے۔ ادب کے ایک قاری کے لیے ان کے اشعار سے بھی بڑی سزا یہ ہے، اس کی ایک جھلک آپ دیکھ چکے ہیں ۔ لگتا ہے صوبہ بہار میں نالندہ کا علمی ماضی شاعر کی روح اور حال ان کی شاعری کا مرہون ہے۔
تھک گئے ہم بھی تو اتوار سے بیٹھے بیٹھے
کیوں نہ لگتے بھلا بیمار سے بیٹھے بیٹھے
جب بھی ملتی ہے غم دنیا سے راقم مہلت
غزلیں پڑھتا ہوں غزل زار سے بیٹھے بیٹھے
تباہ ان کی محبت میں زندگی کرکے
ہوئے زمانے میں رسوا بھی عاشقی کرکے
کھلونا جان کے دل میرا کاہے توڑ دیا
ملا کیا تجھکو بتا مجھ سےدل لگی کرکے
سہانی رات اکیلے میں جب بھی ہوتی ہے
قلم سے اور بھی کاغذ سیاہ کرتا ہوں
جہاں تھی صحرا نوردی عروج پر میری
وہیں درخت لگائے گئے ببولوں کے
ہم اندھیروں کے تصور سے بھی ڈر جاتے ہیں
لوگ کرتے ہیں بسر رات گھنے جنگل میں
دل برباد کا قصہ سنائیں کس طرح راقم
دھواں لگتا ہے آنکھوں میں ہمارے دل کے جلنے کا
عمران رقم پر لکھا گیا مضمون ان کی شاعری سے زیادہ قابل تعزیر ہے۔ کسی شخص کو اس کے قد سے اتنا بڑا نہ کریں کہ اس کا اپنا حقیقی قد وکاٹھ بھی اس مصنوعی شخصیت سازی کے پیچھے چھپ جائے۔ خوف فساد خلق ہے۔ اس لیے میں گیاوی صاحب کے مبالغہ کی صنعت بت گری سے زیادہ نہیں چھیڑتی ۔ آپ یہ چھوٹا سا اقتباس اور دیکھیں اور پھر ان کے دیوان سے انتخاب شعر کی طرف بڑھتے ہیں۔
،،ان کے اشعار میں افکار کی گہرائی، لہجے کی سرگوشی، سوزوگدازکی تلخ و شیریں لہریں سہانے ساز کی طرح معلوم ہوتی ہیں ۔ان کے خیالات میں رعنائی بھی ہے ،خون کی گرمی میں احتجاج اور مزاحمت کے پہلوانی بھی ہیں ۔ عمران راقم کی غزلوں میں کیف و نشاط کی روشناسی بھی ہے اور حزن و ملال کی کربناک فضا بھی مخصوص علامت میں روشن ہیں،، ۔ گیاوی صاحب کا دوسرا اقتباس دیکھیں ان کی نثر الگ سے بحث کی متقاضی ہے۔
لیکن میں نے صرف عمران راقم کی شاعری پر ان کی رائے کی تفہیم کو اہمیت دی یے۔شاعری میں گہرائی تہ داری معنی کی وسعت اور جمال گہ غزل کے کچھ نظارے نہ ہوں تو ایسی شاعری کیفیت کی نہیں ہیئت کی شاعری ہوگیان اشعار میں پابندی قافیہ و ردیف ہے۔ لیکن مصرعہ سازی اور بنت میں قاری کو خود کی سمت کھینچ لانے والی کشش نہیں اس کی بنیادی وجہ خبر سازی اور ناصحانہ انداز ہے۔ قافیہ و ردیف اور وزن نہ ہو تو یہ سماجیات اور کرنٹ افیئر پر کچھ شذرات اور مضامین ہیں ۔ راقم کی افسانہ نگاری اور صحافت یقینا ان کی شاعری سے بہتر ہوگی۔ اس لیے کہ ان کی شاعری میں ان کی جرنلزم اور سماجی کردار سے جڑی شخصیت کی جھلک ہے۔ جس کی وجہ سے میں نے عنوان کی صورت آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔
یوں جلاکےچراغ محبت آندھیوں کو پتا دے رہے ہیں
میرے خط کو مجھی سے چھپاکر آنسوؤں سے جلا دے رہےہیں
موسم گل میں اجڑاہےگلشن الجھا الجھا ہے کانٹوں سے دامن جو مسیحا تھے میری خوشی کے دشمنی کو ہوادے رہےہیں
مجھ ناسمجھ نےآج تک سمجھا نہ ماجرا
کیوں امتحان عقل ہے عاقل کے روبرو
جب عدو نے قہقہہ مجھ پر لگایا زور کا
بس اسی پل سب مری پسپائیاں روشن ہوئیں
منتظر تھا مدتوں سے میں بہاروں کے لئے
تیرے آنے سے مری انگنائیاں روشن ہوئیں
مسجد کے اماموں اور موذنین کی خبر
اور سورج کی حویلی میں اجالا ہونے نہ ہونے کا نوحہ ، محبوب کے ناخن کا پیوند چاند کے ہالے میں لگا دینا۔۔ یہ تراکیب و محاورات شعری لحاظ سے کس ذوق کی علامت ہے۔ ارباب شعر جانتے ہیں ۔ جب ہم نثر لکھ رہے ہوتے ہیں تو روزمرہ اور محاورہ کے استعمال کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔ لیکن شاعری میں تراکیب اور روزمرہ کے تقاضے یکسر بدل جاتے ہیں۔ آپ رقم کی شاعری میں جا بہ جا پابند قافیہ مضمون نگاری دیکھیں گے۔۔لیکن یہ شاعری ہر گز نہ ہوگی، تک بندی نہ کہیں تو قافیہ جوڑنا شمار کرلیں ۔۔
مسجد کے اماموں نے شوالہ نہیں دیکھا
سورج کی حویلی میں اجالا نہیں دیکھا
محبوب کے ناخن کی میں تعریف کروں کیا
تم نے توکبھی چاند کا ہالہ نہیں دیکھا
شعر میں استعارے کا استعمال ایک ہنر اور سلیقہ ہے۔ لیکن چاند کے ہالہ اور محبوب کے ناخن کے درمیاں شعری نزاکتوں اور استعاروں کی کمزور اور حبس کو بڑھاوا دیتی کیفیت طاری رہتی ہے۔ اس کے علاؤہ کیا ممکن ہے۔
وہ مجھے کیسی لگی۔۔۔ اس موضوع اور مضمون کے اشعار بھی خاص طور پر توجہ کے لائق ہیں ۔
یہاں پھر وہی المیہ کہ نثری جملوں اور سادہ بیانی کو شعر کہا جا رہا ہے۔ اس کی تشہیر اور اشاعت شاید ان کے لیے مسئلہ نہ ہو لیکن ہمارے ملک میں نئے شاعرانہ تجربوں اور الگ سے سوچنے کو اس پیمانے کی شاعری خراب کرتی چلی جائے گی جب اپنے ممدوح یا محبوب کو چھتری کی کمانی سے تشبیہ دینے کا مقام آجائے تو شاعر اور شاعری دونوں پر انا للہ پڑھ لینا چاہیے۔اور اگر اس پہ سب چپ ہوں تو شاید کچھ پڑھے اور کہے بغیر ہی سمجھ لینا چاہیے کہ یہاں شاعری سانس نہیں لے رہی آخری سانس لے چکی ہے۔
وہ تو بہت ہی سخت تھی امکان سے بہت
چھتری کی جتنی سہل کمانی لگی مجھے
میں نے اہمیت اسی باعث اسے نہ دی
راقم ازل سے دنیا یہ فانی لگی مجھے
عمران رقم کے ہاں شاعری سے زیادہ خبر ہے سکرپٹ ہے۔ اطلاع ہے۔ اور کہیں کہیں نصیحت ہے۔ ان کے پابند قافیہ و ردیف سطروں کو شعر کہنا شاعری پر ظلم ہوگا۔۔
جن کاسماج ہے نہیں ان کا ہوا سماج
ان سے امید کیا رکھے کوئی بھلا سماج
ہمیں جو گالیاں تو دے رہا ہے سب تسلیم
مگر خدا نہ کرے ہو ترے دہن میں شگاف
نظر کی چوک سے قینچی کتر گئی ورنہ
کبھی تو ہوتا نہیں ہے کسی کفن میں شگاف
ہم اندھیروں کے تصور سے بھی ڈر جاتے ہیں
لوگ کرتے ہیں بسر رات گھنے جنگل میں
دل برباد کا قصہ سنائیں کس طرح راقم
دھواں لگتا ہے آنکھوں میں ہمارے دل کے جلنے کا
وقت کا فنکار مجھ میں ڈوبنے والے ہے اب
خودمیں ڈھالےگاوہ مجھکو اک کہانی کی طرح
وہ کہ رہے تھے آپ کی شیریں زبان ہے
خط لکھاجب حسین کواردو میں ایک دن
غسل خانہ اور مے خانہ کو ایک ہی صف میں رکھنا بھی بڑی ہمت کا کام ہے۔ یہاں شاعری پھر پناہ ڈھونڈتی ہے۔ یہ مبتدیانہ اور بچگانہ سی شعری کاوش لگتی ہے۔ جس میں قافیہ و ردیف کا حسن بھی تلاش کرنا پڑتا ہے۔
بند اندر سے ہے غسل خانہ
اور باہر ہے جھر جھری آواز
فلک کے سارے ستارے زمیں پہ اترے ہیں
چمک رہے ہیں جو حد نظر بدن اس بار
کہیں تو راہ کا پتھر نظر آتا نہیں راقم
کہیں محسوس کرتےہیں مرے تلوے بھی کنکرکو
جاں ہتھیلی پر لئے تلوار پر چلنا پڑا
یوں کوئی بڑھتا نہیں ہے کامرانی کی طرف
خاطر میں جو لاتے نہیں اردو زباں کو
تہذیب وہ رکھتے نہیں اردو کے مطابق
مکان چینخ رہے تھے مکان والے بھی
مگر سنا کہ وہیں شاد ہو رہی تھی آگ
سب نے ہی جان محبت میں گنوائی لیکن
عشق ہے اب بھی خسارے میں کہا جاتا ہے
تقدیر کے ہاتھوں ہی اڑی گرد یقینا
ہم خاک نشینوں کی ہوئی خاک کی گردش
حسرت ہی رہی دل میں مرے کاش کسی دن
سجادہ نشیں سنتے بغل گیر کی آواز
تحفے میں پھول بھیج کے مجھ کو گلاب کا
پھر اس کے بعد کرتا ہے کانٹوں سے روشناس
یہ انتخاب عمران رقم کی قافیہ سازی قافیہ بندی اور ردیف کے حوالے سے ہے۔
اک وقت تھا کہ آنکھ کے تارے تھے ہم یہاں
نظروں میں ہم کسے کے گڑے تھے نہیں نہیں
طوطی ہمیشہ بولتی تھی بس ہماری ہی
ہم سے سبھی جہاں میں بڑے تھے نہیں نہیں
اپنی جگہ پہ کیوں بھلا رہتا نہیں ہے موڈ
کچھ ان دنوں ہمارا بھی اچھا نہیں ہے موڈ
فلسفہ ذات کا دنیا میں عجب ہے اب تک
عمرسے چھوٹےبھی رشتےمیں بڑے ہوتے ہیں
مجھ پہ قدرت کی نوازش ہے ازل سے راقم
میری تعظیم میں سب لوگ کھڑے ہوتے ہیں
ردیف کے رنگ دیکھیں اور ان کی قافیہ پیمائی پر غور کریں ۔ ایسی قافیہ بندی کو لاحاصل آبلہ پائی ہی کہا جا سکتا ہے۔ شاعری کا الزام بھی یہاں شعر و سخن کے ساتھ مذاق ہوگا۔۔ ہر شاعر کے ہاں بھرتی کے شعر ہیں کمزور شعر بھی ہوتے ہیں۔ لیکن شاعری ایک خوبصورت احساس نفیس خیال منفرد انداز اور ہنر مندانہ سرگرمی ہے۔ شاعری خیال کا حسن ہے۔ اور حسنِ ترتیب ہے۔ ایسا ممکن نہ ہو تو وہ صرف نثر ہے خبر ہے معلومات یا الفاظ کا ذخیرہ ہے۔
ہمیں تنقید کی ضرورت بھی اسی لیے پڑتی ہے کہ شاعر کے بجائے شاعری کی درجہ بندی کریں اور شعر و غیر شعر کے درمیان خط امتیاز کھینچیں ۔میں نے عمران رقم کے مختصر تعارف کے بعد ان کی شاعری کے نمونے پیش کیئے ہیں شاعرانہ استعارے تلازمات شعری، قافیہ و ردیف اور بحر کا انتخاب ردھم آہنگ موسیقیت یہ سب حسنِ شعر ہے۔۔۔ جسے قاری نقاد اور خود شاعر بھی محسوس کرتا ہے۔۔ اگر یہ سب نہیں تو ایسا مواد حرفوں اور سطروں کا ایک ڈھیر ہے جو لائنوں کی شعری ترتیب میں ڈھال کر اس پر شاعری کا الزام لگا دیا
ہم بھی خدا کی خاص نگاہ کرم میں ہیں
غربت پہ ہنسی نہیں تو مری مفلسی پہ ناچ
پیر کی خاطر خواہ مدارت کرتے ہیں یہ مرید
حجرے کے سادات کا بوسہ کرنا ہے تفویض
امیر شہر کے آنے میں جو بھی صرف ہوا
تمام خرچ یہاں کے مکیں پہ بیٹھیں گے
سنی سنائی ملی ہے ادھر ادھر کی خبر
وہ اپنے آپ کو پاگل بناکے بیٹھے ہیں
غرائبِ لفظی و معنوی ان اشعار میں دیکھیئے
نظم میں لفظیات و تراکیب کی تشکیل کی یہ صورت گوارہ ہے۔ لیکن غزل میں تو یہ عیب اور غزل سی خوبصورت صنف کے چہرے پر داغ ہے۔
یہ چند اشعار دیکھیں ۔ آپ کی مرضی ان کے تجربے پہ کیا رائے دیتے ہیں ۔ ممکن کسی محفل یا مشاعرہ میں ایسے اشعار پہ داد ملتی ہو ۔ ادبی مروت بھی ہمارے ہاں کا ایک ستم ہے۔ لیکن ایک قاری اور نقاد کو کسی شعری متن کو آنکھیں بند کر کے شہکار لکھ دینا زیب نہیں دیتا ہے۔ جو شاعر نہیں۔ اس کے کام اور احترام کے اور بہت سے میدان ہیں ۔ وہاں اس کی توصیف ہو جانی چاہیے۔ غزل اور شاعری پر ظلم اور ستم ضروری تو نہیں ۔۔
،،یوں نہ ڈوبی الاغ آندھی میں،،
آگ جنگل میں کس طرح پھیلی
ہیں پریشاں کلاغ آندھی میں
خط کےاوپرہی لکھ دیاقطمیر
نامئہ دل بلاغ آندھی میں
اس کو اب ڈھونڈ ئے کہاں راقم
کھو گئے جو فراغ آندھی میں
ساحل کی تمنا لئے کشتی ہے بھنور میں
دریا ترے پانی کی قیادت ہے بڑی چیز
بے فائدہ گزار دیا ہم نے وقت کو
پھر ہم کو اپناہاتھ یہ ملنا بھی چاہئے
کاٹا نہ کسی نے جو وہ ہم کاٹ رہے ہیں
تو دیکھ ترا ہم ہی بھرم کاٹ رہےہیں
انجام محبت کا بھلا کیا ہوگا خدایا
ہاتھوں کی لکیروں کو صنم کاٹ رہے ہیں
آدل کے جذبات کا بوسہ کرنا ہے تفویض
ہجرت کی خیرات کا بوسہ کرنا ہے تفویض
خیال و خواب میں آنے کی ضد میں رہئے مت
ہمارے دل میں سمانے کی ضد میں رہئے مت
گلوں سے پیارجتانے کی ضد میں رہئے مت
یوں خود کو تتلی بنانے کی ضد میں رہئے مت
ہر ایک فن کی الگ حیثیت ہے اے راقم
غزل کو نعت بنانے کی ضد میں رہئے مت
شعور آیا نہیں جن کو بات کرنےکا
زباں پہ وہ بھی مری کنڈیاں لگاتے ہیں
زمانہ جن کو بہت پارسا سمجھتا ہے
وہ لوگ دن میں نہیں رات میں نہاتے ہیں
نہ جانے کس لئے بادل گرجنے لگتا ہے
وہ اپنی زلف کوچھت پرجہاں سکھاتےہیں
رات میں نہانا ، کنڈیاں لگانا ، کپڑوں کو چھت پر سکھانا ۔سپاٹ اور نثر کی طرح اکہرے خیالوں پر شعر ہونے کی تہمتیں دھری ہیں ۔ ہمارے ادیب شاعری پر رحم نہیں کرتے۔ شعری ذوق رکھنے والا ہر شخص ایسے اشعار پر کبیدہ خاطر ہوگا۔ ہمیں کھل کر لکھنا ہوگا کہ شعر اور نثر میں بنیادی فرق تو خیال کی گہرائی و نزاکت تہ داری ہے، استعاروں تلازمات کا خوبصورت اور برمحل استعمال ہے۔ شعر نما سطریں شعر نہیں ہوتیں ۔ یوں ان کی شاعری پہ محتاط رائے یہ ہے کہ یہ ایک صحافی کی منظوم ڈائری ہے۔ صحافتی بیاض ہے ۔ جس میں غزل اور نظم کی صورت، کیفیات اور واقعات درج ہوں۔
