از قلم ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
موسموں کی تبدیلی شب وروز کا اختلاف گرمی وسردی کی آمد ، مہینوں اور سالوں کی تبدیلی ، دھوپ وساۓ کا اپنے اپنے وقت پر آنا یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ،ربوبیت وقیومیت پر دلالت کرتی ہیں اور اس کی عظمت وکمال تدبیر نیز عبادت کے صرف اور صرف وہی مستحق ہونے پر دلیل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَیۡءࣲ قَدِیرٌ ١٨٩ إِنَّ فِی خَلۡقِ ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَـٰفِ ٱلَّیۡلِ وَٱلنَّهَارِ لَـَٔایَـٰتࣲ لِّأُو۟لِی ٱلۡأَلۡبَـٰبِ ١٩٠﴾ [آل عمران ١٨٩-١٩٠]
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
﴿وَفِی ٱلۡأَرۡضِ ءَایَـٰتࣱ لِّلۡمُوقِنِینَ ٢٠ وَفِیۤ أَنفُسِكُمۡۚ أَفَلَا تُبۡصِرُونَ ٢١ وَفِی ٱلسَّمَاۤءِ رِزۡقُكُمۡ وَمَا تُوعَدُونَ ٢٢﴾ [الذاريات ٢٠-٢٢]
اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں،اور خود تمہاری ذات میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔
﴿أَوَلَمۡ یَنظُرُوا۟ فِی مَلَكُوتِ ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَیۡءࣲ وَأَنۡ عَسَىٰۤ أَن یَكُونَ قَدِ ٱقۡتَرَبَ أَجَلُهُمۡۖ فَبِأَیِّ حَدِیثِۭ بَعۡدَهُۥ یُؤۡمِنُونَ﴾ [الأعراف ١٨٥]
اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کیں ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آپہنچی ہو (١) پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔
علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے فرمایا غور کرو اللہ تعالیٰ کے اس حکمت بالغہ پر یعنی گرمی وسردی کے موسم کے بارے میں کہ یک بعد دیگرے کیسے ایک موسم ختم ہوتا ہے اور دوسرا آتا ہے ، جانداروچوپائیوں و نباتات کے لئے یہ طریقہ کتنا مفید ہے، ،کیسے بالتدریج اور مہلت کے ساتھ ایک دوسرے کی ابتداء وانتہاء ہوتی ہے ۔ اگر اچانک موسم سرما آجاۓ یا اچانک گرمی کا زمانہ شروع ہوجاۓ تو انسان کا کیا حال ہوگا ۔ انسان کے جسم کو بیماری لاحق ہوجائے گی اور نباتات ہلاک وبرباد ہوجائیں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی حکمت اوراحسان ورحم وکرم ہے کہ تدریجا ایک دوسرے کو لاتا ہے ۔
بحوالہ مفتاح دار السعادۃ 2/610
محترم قارئین!موسم کے تغیر اور دن ورات کی آمد کواللہ سبحانہ وتعالی نے تدریجی نظام کے ساتھ جوڑا ہے اور اس کا وقت متعین کر رکھا ہے،اندازہ کیجئے اگر اچانک رات آ جائے یا گرمی وسردی بغیر اطلاع کے آن پڑے اور پہلے ہی دن سے کڑاکے کی سردی پڑنے لگے یا اول دن سے لو کے تھیٹروں کا سامنا ہونے لگے تو ظاہر ہے بغیر انتظامات کے انسان کی کیا گت بنے گی ؟؟
موسم کی تبدیلی ہی سے غلوں اور پھلوں کے پکنے ، نباتات و جمادات کی نشو ونمامتعلق ہے اور بہت سی تجارتیں اور بزنس ( Business ) صرف موسم کی بنیاد پرچلتی ہیں قرآن مجید میں اس کا ذکر موجود ہے ،﴿لِإِیلَـٰفِ قُرَیۡشٍ ١ إِۦلَـٰفِهِمۡ رِحۡلَةَ ٱلشِّتَاۤءِ وَٱلصَّیۡفِ ٢ فَلۡیَعۡبُدُوا۟ رَبَّ هَـٰذَا ٱلۡبَیۡتِ ٣ ٱلَّذِیۤ أَطۡعَمَهُم مِّن جُوعࣲ وَءَامَنَهُم مِّنۡ خَوۡفِۭ ٤﴾ [قريش ١-٤]قریش کے مانوس کرنے کے لئے،یعنی انہیں سردی اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے لئے۔پس انہیں چاہیے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں۔جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور ڈر (اور خوف) میں امن و امان دیا ۔
موسم کے تغیر کے لحاظ سے اللہ نے اس کے شایان شان لباس اور دیگر انتظامات کئے ہیں یہ سب اللہ کی ایسی بیش قیمت نعمتیں ہیں جو انسان کو خالق و مالک کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور اس کی ہدایت کا سامان بھی کرتی ہیں ، اللہ نے اس احسان کا تذکرہ ان الفاظ میں فرمایا۔﴿خَلَقَ ٱلۡإِنسَـٰنَ مِن نُّطۡفَةࣲ فَإِذَا هُوَ خَصِیمࣱ مُّبِینࣱ ٤ وَٱلۡأَنۡعَـٰمَ خَلَقَهَاۖ لَكُمۡ فِیهَا دِفۡءࣱ وَمَنَـٰفِعُ وَمِنۡهَا تَأۡكُلُونَ ٥﴾ [النحل ٤-٥]
اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا،اسی نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں اور بھی بہت سے نفع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں۔
﴿وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۢ بُیُوتِكُمۡ سَكَنࣰا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ ٱلۡأَنۡعَـٰمِ بُیُوتࣰا تَسۡتَخِفُّونَهَا یَوۡمَ ظَعۡنِكُمۡ وَیَوۡمَ إِقَامَتِكُمۡ وَمِنۡ أَصۡوَافِهَا وَأَوۡبَارِهَا وَأَشۡعَارِهَاۤ أَثَـٰثࣰا وَمَتَـٰعًا إِلَىٰ حِینࣲ﴾ [النحل ٨٠]
اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے گھروں میں سکونت کی جگہ بنا دی ہے اور اسی نے تمہارے لئے چوپایوں کی کھالوں کے گھر بنا دیئے ہیں، جنہیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن بھی،اور ان کی اون اور روؤں اور بالوں سے بھی اس نے بہت سے سامان اور ایک وقت مقررہ تک کے لئے فائدہ کی چیزیں بنائیں
وَجَعَلَ لَكُمۡ سَرَ ٰبِیلَ تَقِیكُمُ ٱلۡحَرَّ وَسَرَ ٰبِیلَ تَقِیكُم بَأۡسَكُمۡۚ كَذَ ٰلِكَ یُتِمُّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَیۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُونَ﴾ [النحل ٨١]
اور اسی نے تمہارے لئے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں وہ اس طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ۔
محترم قارئين . زمانے کے تغیرات وچینجنگ،رات و دن کا گزرنا جہاں ايك مؤمن ومتقي مسلمان کو فرحت وتازگی ونشاط عطاء كرتا ہے تووہی اس کو اس فکر میں بھی مبتلا کر دیتاہے کہ زندگی کے ایام کم ہور ہے ہیں موت کی گھڑیاں قریب ہورہی ہیں گرمی یا سردی کی آمد اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ زندگی کا اور ایک سال کم ہوگیا ، پچھلے دنوں توشۂ آخرت تو کچھ تیار نہ ہوسکا۔ مزید یہ کہ گناہوں کا ایک بھاری بوجھ لد گیا ۔
کڑاکے کی سردی جب آتی ہے یا جب لو کے تھپیڑے چلتے ہیں تو جنت و جہنم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے،
جیسا کہ حدیث ہے ۔اشْتَكَتِ النَّارُ إلى رَبِّهَا، فَقالَتْ: يا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فأذِنَ لَهَا بنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ في الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ في الصَّيْفِ، فَهْوَ أَشَدُّ ما تَجِدُونَ مِنَ الحَرِّ، وَأَشَدُّ ما تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ.. أخرجه البخاري (3260)، ومسلم (617)
جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب ! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے ، تو اللہ تعالی نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی ایک ٹھنڈی میں اور ایک گرمی میں ، تم انتہائی گرمی اور سردی جو محسوس کرتے ہو اسی کی وجہ سے ہے۔
جاڑے کے ایام یا موسم سرما مؤمن کیلئے ایک نعمت ہے ۔ ایام شتاء غنیمت کے اوقات ہیں ،دن مختصر اور رات لمبی ، قیام اللیل میں مزہ اور صوم نہار میں کیا ہی لذت ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف اس موسم کا استغلال کرتے تھے ، جیساکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "الشتاء غنيمة العالدين "موسم سرما عبادت گزاروں کے لیے بہار کازمانہ ہے يعني موسم سرما عبادت گزار بندوں کیلئے بڑۓ ہی غنیمت کے اوقات ہیں ، وہ عبادت کا لطف موسم سرما میں لیتے ہیں یعنی موسم سرما کو غنیمت جانتے ہیں ،( بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ 9835)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے "مرحبا بالشتاء تنزل فيه البركة ،ويطول فيه الليل للقيام ،ويقصر فيه النهار للصوم "(بحوالة، لطائف المعارف لإبن رحب 327)
خوش آمدید ٹھنڈک کا زمانہ ! اس موسم میں برکتوں کا نزول ہوتا ہے ،رات لمبی ہوتی ہے قیام اللیل کے لئے ،اور دن چھوٹا ہوتا ہے روزہ رکھنے کے لئے ۔
ابن أبی الدنیا نے المحتضرین میں ایک واقعہ ذکر کیا ہے کہ ۔ عامر بن عبداللہ رحمہ اللہ کا جب وفات کا وقت قریب ہوا یا حالت احتضار میں عامر عبداللہ رونے لگے کسی نے رونے کا سبب پوچھا تو جواب دیا کہ میں موت سے ڈر کر نہیں رو رہا ہوں اور نا دنیا چھوڑنے کے فراق میں رو رہا ہوں بلکہ میں رو رہا ہوں کہ گرمی کے موسم میں روزہ رکھنے اور شتاء یعنی جاڑۓ کے موسم میں قیام اللیل سے محروم ہورہا ہوں ۔ بحوالہ المحتضرين لإبن أبي الدنيا 178،
سردی یا گرمی کا موسم ۔ ہمیں یاد دلاتی ہیں ۔کہ جب سخت گرمی یا سردی ہوتی ہے توانسان کوجنت کی آرائش وجہنم کی سختیوں کو ،قبر کی تنگی وظلمت کو اور میدان محشر کے دھوپ وپسینہ کو یاد کریں ۔
گرمی وسردی کا موسم ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان کی حالت سچویشن ہمیشہ یکساں نہیں رہتی حالات میں اتار چڑھاؤ ،نرم گرم ہوتا رہتا ہے ۔ اور یہ کہ ظالم کو بقاء نہیں جسطرح کہ گرمی کے ایام چاہے کتنا ہی زیادہ ہو یا ٹھنڈک کی راتیں کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہوں صبح تو نمودار ہوکے رہے گی ۔ سورج کی شعائیں پوری دنیا کو روشن کردۓ گی ، اسی طرح ظلم وستم کے ایام ،اور تلخیاں کتنے ہی دیرپا کیوں نہ ہوں انحطاط و زوال مقدر ہے ،
موسم سرما ہمیں سبق دیتاہےکہ ہم ٹھنڈک سے بچنے کے لیے جسطرح گرم وموٹے لباس جیکیٹ سوئٹر وغیرہ خریدتے ہیں تاکہ ٹھنڈک سے محفوظ رہیں خود بھی اور اپنے رشتے دار اور اہل وعیال بھی۔ اسی طرح ہمیں جہنم کی عذاب جو ٹھنڈک کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے۔ تو جہنم کی ٹھنڈک سے اپنے آپ اور بچوں کو بچانے کی فکر کریں ۔
اسی طرح ہم فقراء غرباء ومساکین ارامل ویتامی کو بھی ٹھنڈک سے محفوظ رکھنے کے لئے مدد کریں ۔ صدقہ وخیرات کریں اور انھیں بھی راحت پہنچائیں۔
موسم سرما میں ہماری شریعت کی رہنمائی ۔
دین اسلام دین یسر وسماحت ہے ،سہل و آسان وپریکٹیکلی اور تطبیقی دین ہے ، ہر طرح کی رہنمائی اس دین میں موجود ہے ، آئیے ذیل کے سطور میں ہم موسم سرما کے کچھ احکام ومسائل کا ذکر کرتے ہیں ۔
1 ۔ اسباغ الوضوء یعنی مکمل طورپر وضوء کرنا ۔اور پانی کو مسخن یعنی گرم کرکے استعمال کرنا جائز ہے ۔ کسی مسلمان کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اپنے نفس کو خطرہ میں ڈالے اور نہ اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے آپ کو مشقت وپریشانی میں ڈالے مثلا موسم سرما میں ٹھنڈۓ پانی سے وضوء کا قصد کرنا زیادہ نیکی وثواب کی نیت سے ۔ جبکہ سخت ٹھنڈ ک کا زمانہ ہے ،ٹھنڈ پانی کے استعمال سے وہ بیمار پڑ سکتا ہے مرض لاحق ہوسکتا ہے ۔بلکہ یہ غلو وتعنت ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ گرم پانی ٹھنڈ پانی کے جیسا ہے طاہر ومطہر کا وصف ان میں موجود ہے ۔ جیسا ابن المنذرنے ‘[الأوسط لابن المنذر:1/250] میں ذکر کیا ہے ۔بلکہ پانی کو گرم کرکے استعمال کرنا زیادہ افضل ہے اسلئے کہ اس سے اسباغ وضوء وتدلیک اعضاء وغیرہ کیلئے آسانی ہے اور کمال طہارت بھی ہے ۔
2 ۔ اگر شدید ٹھنڈک ہو تو وضوء وغسل جنابت کے بدلے تیمم کرنا جائز ہے ۔ لیکن یاد رہے کہ مجرد موسم سرما کے آمد سے ہی تیمم کرنا جائز نہیں ہے ۔ جیسا کہ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے فرمایا "وان خافَ مِن شدة البرد، وأمكنه أن يُسَخَّنَ الماء، أو يستعمله على وجه يأمن الضرر، مثل أن يَغْسِل عُضوًا عضوًا، وكلما غسل شيئًا ستره؛ لَزِمَه ذلك. وإن لم يقدر ؛ تيمم وصلى في قول أكثر أهل العلم”
بحوالہ المغني لإبن قدامه 1/339،
اگر شدت برد (ٹھنڈک )کا خوف ہو اور اس کے لئے ممکن ہو کہ پانی گرم کرسکے ،یا یہ کہ ٹھنڈ پانی سے اس طور پر وضوء کرۓ کہ اسے ضرر لاحق نہ ہو مثلا ایک عضوء کو دھوۓ اور اس کو ڈھانپ دۓ تو اسے ایسا کرنا ضرور چاہئیے ،اگر اسے ان کی طاقت نہ ہو تو تیمم کرکے نماز پڑھے یہی اکثر اہل علم کا قول ہے ۔
لہذا معلوم ہوا کہ جب سخت ٹھنڈک یا برد شدید ہو تب تیمم کرنا جائز ہے ۔ کیسے جانے کہ سخت ثھنڈک ہے ؟۔ تو برد شدید کے معرفت کیلئے چار قاعدہ یا چار صورت ہیں نمبر ایک ۔ اگر پانی کے استعمال سے بدن کو ضرر لاحق ہو تو تیمم کرسکتے ہیں ، نمبر دو ۔ اگر پانی کے استعمال سے بیماری کے ٹھیک ہونے میں تاخیر ہونے کاخدشہ ہو تب تیمم کرسکتے ہیں ۔ نمبر تین ۔ اگر پانی کے استعمال سے مرض میں مزید اضافہ وخطرناک صورت اختیار کرنے کاخدشہ ہو ۔ اس صورت میں بھی تیمم کرسکتے ہیں ۔ نمبر چار ۔ اگر پانی کے استعمال سے ایسی مشقت لاحق ہوں جو خارج عن العادۃ ہوں ۔ یعنی ایسی مشقت جسکا برداشت کرنا محال ہوں ۔ اگر ان چار صورتوں میں سے کوئی بھی صورت پایا جاۓ تو تیمم کیا جاسکتا ہے ۔ (شیخ عبدالسلام الشویعر حفظہ اللہ نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے)
3 ۔ سخت ٹھنڈک کی وجہ سے گھروں میں نماز پڑھنا اور جمع بین الصلاتین کرنا بھی جائز ہے ۔ یعنی اصل تو یہ ہے کہ نماز باجماعت اور وقت پر پڑھا جائے لیکن انتہائی تیز وتند ہوائیں چل رہی ہوں ، یابارش ہورہی ہوں،باہر نکلنے میں سخت پریشانی ہو ،مرض میں مبتلا ہوجانے کا خدشہ ہوتو تخلف عن الصلاۃ وجمع بین الصلاتین کیا جاسکتا ہے چاہے دن ہو یا رات ۔ دیکھئے تفصیل کیلئے ،المغني لإبن قدامه 2/378،الشرح الممتع 4/317، )
لیکن اس معاملہ میں تساہل برتنا درست نہیں ہے یعنی ٹھنڈک کو عذر کے طور پر استعمال نہ کرنے لگے زیادہ ٹھنڈ نہ ہو پھر بھی جماعت میں حاضری نہیں ۔ خاصکر وہ لوگ جن کے گھر سے مسجد بالكل قريب هو اسی طرح یہاں یہ واضح رہے کہ عورتیں جمع بین الصلاتین نہ کرۓ ۔ (شیخ عبدالسلام الشویعر )
4 ۔ نماز کے دوران چہرہ وفم کو ڈھانپنا بغیر ضرورت کے مکروہ ہے ۔ جیسا کہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص حالت نماز میں چہرہ ڈھانپنے سے منع کیا ہے ، (رواه أبوداود 548وابن ماجه 956 ،وحسنه الألباني )
لیکن یاد رہے کہ اگر پورا چہرہ نہیں ڈھانپا ہے بلکہ بعض حصہ ڈھانپا ہے تو معفو عنہ ہے ، اسی طرح اگر ضرورت ہوکسی کو چہرہ ڈھانپنے کی مثلا سخت سردی وٹھنڈک کااحساس ہو ،سردی زکام نزلہ وغیرہ ہو تو اس وقت جائز ہے چہرہ ڈھانپنا ۔
5 ۔ مسح علی الخفین کی رخصت !
یعنی موزوں پر مسح کرنا متواتر احادیث سے ثابت ہے بلکہ مسح علی الخفین کے رواۃ کی تعداد 80 سے زیادہ ہے ان میں سے دس ایسے صحابہ ہیں جنکے جنتی ہونے کی خوشخبری دنیا ہی میں دۓ دی گئی تھی ، اہل سنت والجماعت کا اس کے جواز پر اتفاق ہے صرف اہل بدعت ،شیعہ روافض وغیرہ اس کا انکار کرتے ہیں ۔ آئیے ذیل میں موزوں پر مسح کے چند احکام بیان کرتے ہیں ۔
1۔ ہر وہ لباس جو قدمین میں پہنا جاتا ہے یا جس کو خف یعنی موزہ کہاجاتاہے چاہے وہ چمڑے کے ہوں، اون کے ہوں ، نائیلن کے ہوں یا سوتی وغیرہ ہوں اس پر مسح جائز ہے بشرط یہ کہ وہ قدمین کے اکثر حصے ڈھانپے ،
2 ۔ موزوں پر مسح کیلئے شرط یہ ہے کہ وہ نجاست سے پاک ہو گندگی نہ لگی ہو اس میں ،اسی طرح وہ محل فرض یعنی دونوں قدم اور ایڑیوں کو ڈھانپتے یا چھپاتے ہوں،بعض موزے
ایسے ہوتے ہیں جن میں ایڑیوں کے دونوں طرف کی ابھری ہوئی ہڈی کھلا رہتا ہے۔ ایسے موزوں پر مسح نہیں کیا جا سکتا۔ موزوں پر مسح کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ وہ بذات خود پاک ہوں اور کامل طہارت کی حالت میں پہنے گئے ہوں ۔ یعنی وضو کرنے کے بعد انہیں پہنا گیا ہو۔ جو موزے باوضو حالت میں نہیں پہنے گئے ہیں ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ وضو کے فورا بعد موزہ پہننا ضروری نہیں ہے۔ ضروری یہ ہے کہ وضو ٹوٹنے سے قبل وہ موزہ پہنا گیا ہو۔
3۔ مقیم شخص ایک دن اور ایک رات ( 24 گھنٹے ) تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے ۔ اور مسافر تین دن اور تین رات (72گھنٹے ) تک ، الا یہ کہ کوئی بیمار ہو اور سخت ٹھنڈک کا احساس ہوں اور مشقت میں پڑجائے تو ان کیلئے کوئی مدت متعین نہیں ہے وہ جبیرہ یعنی پٹی باندھنے کے حکم میں ہوگا ۔
4- مسح کے مدت کا آغاز اول حدَث بعد اللبس سے ہوگا ۔یعنی جب موزہ پہننے کے بعد پہلی بار مسح کیا جائے۔ مثلا اگر کسی شخص نے ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا اور موزے پہن لیے اور اس کا وضو باقی رہا یہاں تک کہ اس نے اس وضو سے عصر، کی نماز پڑھی اور عصر کے بعد انہیں حدث اصغرلاحق ہوئی تو اب انھوں نے وضوء کیا اور مسح کیا توان کے مسح کی مدت کا آغاز اب سے شروع ہورہاہے۔یعنی وہ کل عصرتک اس موزۓ پر مسح کرسکتا ہے۔مختصر یہ کہ جس وقت موزے پہنے گئے ہیں اس وقت سے مدت کا شمار نہیں ہوگا بلکہ جس وقت پہلی بار ان پر مسح کیا جائے اس وقت سے مدت کا شمار ہوگا۔
5 ۔ موزوں پر مسح کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی بھیگی ہویی انگلی دائیں پیر پر اور بائیں ہاتھ کی بھیگی ہوئی انگلی بائیں پر رکھکر پنڈلی تک ایک بار لے جاۓ ایک بار ہاتھ ہاتھ پھیرۓ دو تین بار نہیں کرنا چاہئیے ۔ اسلئے کہ علماء کے یہاں قاعدہ ہے” لا تعدد في الممسوحات ” یعنی مسح میں تعدد وتکرار نہیں ۔ واللہ أعلم۔
6 ۔ شدت برد کی وجہ سے الیکٹرونک ہیٹر وغیرہ جسمیں آگ کا شعلہ نہ ہو (دفایات کھربائیۃ ) کے طرف رخ کرکے نماز پڑھنا درست ہے ۔اور یہ استقبال نار میں داخل نہیں ہے ۔
7 ۔ موسم سرما میں اکثر تیز وتند ہواییں چلتی ہیں لہذا انہیں گالی نہ دیں وہ تو اللہ کے فرمابردارمسخر فوج ہے ۔ جب ہوا چلے تو یہ دعاء پڑھیں ۔ اللَّهُمَّ إنِّي أسألُكَ مِن خَيرِها وخَيرِ ما فيها وخَيرِ ما أُرْسِلَت بِهِ وأعوذُ بِكَ مِن شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أُرْسِلَت بِهِ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی تعلیمات کاپابند بنائیں ، اور مکمل اسلام وشریعت پر چلنے کی توفیق دۓ اور تفقہ فی الدین عطاء فرمائے آمِین ۔
