ازقلم شہاب الدین فلاحی
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد
طلباء برادری سے مراد کیا ہے؟
ہر وہ شخص ہے جو کسی بھی میدان میں کسی بھی موضوع کا علم حاصل کرنے کا طالب ہو، خواہ وہ موضوع علم سیاسیات یا علم سماجیات یا علم معاشیات یا علم ماحولیات یاعلم ارضیات یا علم سماویات یا علم طبعیات یا علم تحقیقات پر مبنی ہو ۔
طلباء برادری ایک ایسی برادری ہے جو ابتداء آفرینش سے ہی چلی آرہی ہے، وجود کائنات سے قبل طلباء برادری کا سہرا جسکے سر جاتا ہے وہ ہیں ہمارے اور آپ کے بابا حضرت آدم علیہ السلام، جس وقت اللہ رب العزت نے اس دار فانی میں اپنا خلیفہ پیدا کرنے کا فرشتوں کے سامنے ارادہ ظاہر کیا تو فرشتوں نے کہا کہ اے پروردگار تو ایسی مخلوق کو کیوں پیدا کر رہا ہے جو زمین پر خونخرابا کریں گے ہم تو تیری تسبیح و تقدیس بیان کرنے کے لیے کافی ہیں اس پر اللہ نے جواب دیا کہ فرشتوں میں جو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے اسکے بعد اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بیشمار اشیاء کے اسماء یاد کرایا بعد ازاں تمام فرشتوں کو اپنی بارگاہ میں جمع کیا پھر فرشتوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اے فرشتوں اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تم مجھے ان تمام اشیاء کے نام بتاؤ جس پر فرشتوں نے جواب دیا اے اللہ آپ کی ذات پاک ہے، ہم نہیں جانتے، ہم صرف وہی جانتے ہیں جو آپ نے ہمیں سکھایا ہے پھر اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ آدم اب تم بتاؤ اور حضرت آدم نے تمام چیزوں کے نام بتادیا، جس پر اللہ نے کہا کہ اے فرشتوں میں نے تم سے کہا تھا نا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔
پتہ یہ چلا کہ طلباء برادری کا سفر حضرت آدم علیہ السلام ہو شروع ہوا ہے۔
اور سفر کی یہ گاڑی حضرت آدم علیہ السلام سے نکل کر دور مسیح سے ہوتے ہوئے دور نبوت کے راستے دور صحابہ میں جاتی ہے اور وہاں سے تابعین و تبع تابعین کے ادوار کو چھوتے ہوئے اکیسویں صدی کے ٹکنالوجی پیلٹ پر آکر رکتی ہے۔
اگر بات کی جائے طلباء برادری کے انقلابی رودات کی تو انہوں نے اپنے اس علم کے ذریعے جسکے یہ طالب تھے اپنی شناخت کا لوہا منوایا اور اپنی قوم و ملت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ جیسے ارسطو جو کہ طالب علم تھے افلاطون کے ارسطو يونان کے ممتاز فلسفی مفكر جامع العلوم اور ماہر منطق تھے جنہوں نے فلسفے کے ساتھ ساتھ کئی مضامین پر کتابیں لکھیں جن میں طبیعیات، حیاتیات، حیوانیات شاعری ڈراما ،موسیقی ،نفسیات معاشیات، لسانیات سیاسیات، اور ارضیات شامل ہیں اور یہ وہ مضامین ہیں جس پر لوگ آج ریسرچ کر رہے ہیں، جنکے ایک ایک قول پر گھنٹوں لیکچر دے رہے ہیں۔
اسی طرح طلباء برادری میں اور بھی اسماء ہیں جیسے امام ابو حنیفہ، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل ، امام مالک، مولانا ابوالکلام آزاد، بابا بھیم راؤ امبیڈکر ، سر سید احمد خان وغیرہ، انہوں نے بھی اپنے علم کے ذریعے جسمیں وہ ماہر تھے اپنی قوم و ملت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور ملک کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر آزادی کی راہ پر لا کھڑا کیا۔
یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے علم کو سینہ بسینہ سیکھا ان کے زمانے میں نہ تو انٹرنیٹ تھا نہ ھی اسمارٹ فون لیکن جوں جوں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کی ایجادات بڑھتی گئی ویسے ویسے وہ طلبہ کے ذہنی طاقت کو متاثر کرتی گئی طلباء کو سوچنے و سمجھنے کی صلاحیت سے اور کتب مطالعہ سے دور کرتی گئی مثلاً مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ جی پی ٹی ، گوگل ، یوٹیوب وغیرہ ۔
یہ وہ دور جدید کے ٹیکنالوجیز ہیں جن پر آج طلباء کی اکثریت منحصر ہے ۔ اور انحصار کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ
آج ہمارے معاشرے کی حالت یہ بن چکی ہے کہ جب ہمارے گھروں میں بچہ دو تین برس کا روتا ہے یا کسی چیز کے لیے ضد کرتا ہے تو اسے بھلانے کے لیے کھلونے کی جگہ موبائل فون کا استعمال کیا جاتا ہے ۔جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ جیسے جیسے عمر دراز ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اسے موبائل فون کی لت لگتی چلی جاتی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ دور جدید انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے راستے پر رواں دواں ہے ، آج دنیا کے ہر شعبہ میں انٹرنیٹ سے استفادہ حاصل کیا جا رہا ہے ، تعلیم اداروں میں بھی اسکا استعمال بڑے زورو شور سے کیا جاتا ہے ، لیکن اسکے استعمال سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے اسکی دو قسمیں ہوتی ہیں ۔ (1) مثبت ( 2 ) منفی۔
مثبت کا مطلب یہ ہے کہ اسکے ذریعہ طالبعلم مقابلہ ذاتی امتحان میں اعلیٰ کردار کا نتیجہ اخذ کرتے ہیں ۔
جیسے GRF, NET, CTET, IAS PCS وغیرہ ، اگر کوئی طالبعلم یوٹیوب ، گوگل، یا کسی دیگر ویب سائٹس سے حصول علم کے لیے اچھے مواد دیکھتا یا پڑھتا یا سنتا ہے تو وہ بھی مثبت نتیجہ ہوتا ہے ،
لیکن اگر کوئی انہیں کا استعمال حصول علم کے لیے نہیں بلکہ تفریح کے لیے کرتا ہے یا فحش مواد پر وقت ضایع کرتا ہے تو اب انٹرنیٹ اورموبائل فون کا استعمال اس کے لۓ منفی اثرات مرتب کرتا ہے اس کی مثال
1 ضیاع وقت
2 ذہنی تناؤ
3 نیند کی خرابی
4 صحت کی خرابی
5 فضول خرچی
اس لیے والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل کی لت لگنے سے باز رکھیں بچپن سے ہی ان کی پرورش کریں ،آداب و تہذیب و تمدن کا سہرا پہنایں ، دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرائیں، برائیوں سے بچنے کی تلقین کریں، گناہوں کا ڈر ان کے اندر پیدا کریں، اعمال صالحہ کرنے کی طرف ان کی رغبت دلائیں ۔آج ہمارا معاشرہ ایسا راستہ اختیار کر لیا ہے کی وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو بڑے بڑے موبائل دے کر جو عمر ان کی تہذیب و تمدن ،اخوت و بھائی چارگی، اور تعلیم و تربیت سکھانے کی ہوتی ہے اب وہ موبائل میں صرف ہو رہی ہے ۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بچہ ان تمام برائیوں سے واقف ہو جاتا ہے جس کا دور دور تک اس عمر کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے
آج کا جدید زمانہ سیکولر سوچ سے اس قدر متاثر ہو گیا ہے کہ والدین اپنی اولاد کی دل جوئی کے لئے اسکے موبائل میں مہینے بھر کا ریچارج کرا دیتے ہیں قطع نظر اسکے کہ وہ بچہ انٹرنیٹ کس لئے استعمال کرے گا، جسکا ماحصل یہ نکلتا ہے کہ وہ بچہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اس قدر مدحوش ہو جاتا ہے کہ اسے خود اپنے اچھے اور برے عمل کا اندازہ نہیں ہوتا ہے پھر وہ دھیرے دھیرے ایسی ویڈیوز اور ایسے مواد پر اپنا وقت صرف کرنا شروع کردیتا ہے جو ناقابل برداشت ہوتا ہے اور والدین بھی آزادانہ خیال کے ساتھ اپنے بچے کو موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کی کھلی آزادی دے دیتے ہیں جسکی وجہ سے وہ بچہ دور جوانی تک آتے آتے شیطانی جال میں اس قدر گرفتار ہو جاتا ہے کہ وہاں سے نکلنا دشوار ہوجاتا ہے اور والدین کی آزادانہ خیال کا ایسا نتیجہ آفریں ہوتا ہے کہ وہ کسی حسینہ کی دام کا اسیر ہوکر اپنے ہی والدین کا باغی بن جاتا ہے، اپنے ہی بڑے بھائیوں کا احسان فراموش بن جاتا ہے۔
بایں وجہ حاجت اس امر کی ہے کہ والدین سیکولر نظریات کو پس پشت رکھتے ہوئے اپنی اولاد اچھی تربیت کے ساتھ انکی نگرانی کا بھی اہتمام ضرور کریں۔
