احمد حسين مظاہریؔ
جدید اجتماعی وسیاسی تغیرات نے بہت سے قومی و مذہبی مسائل کو موضوعِ بحث بنا دیا ہے،اور زندگی کے بہت سے شعبوں اور اداروں کی ضرورت اور فائدہ پر بحث و تنقید کا دروازہ کھل گیا ہے۔
مدارس کا تذکرہ قرآن میں : اگر پوچھا جائے کہ قرآن مجید میں ہر طرح کے علوم ہیں ہر طرح کے حقائق اس میں ہیں، اور ہر طرح کی خبریں اس میں دی گئی ہیں،کیا مدارس اور جامعات کا بھی کہیں تذکرہ ہے؟ ہم نے جہاں تک مطالعہ کیا، کہیں نام نہیں دیکھا،نہ جامعہ کے نام سے کوئی چیز ہے، نہ مدرسہ کے نام سے کوئی چیز ہے۔ یہ مدر سے کہاں سے آئے؟ اور کب سے؟ یہ کہاں سے نکالے گئے ؟ کیسے ان کو قائم کیا گیا؟ اور یہ دانش گا ہیں اور جامعات کب سے قائم ہو گئے؟ یہ تعلیم و تعلم کے مراکز ،یہ کتابوں کا مطالعہ، ان میں جو مخصوص علوم میں قرآن فہمی کے لیے، حدیث کے لیے،ان کا پڑھنا،ان میں سالہا سال لگا لیتا،اپنے کو اس کے لیے وقف کر دینا،اور یکسو ہو جانا،اپنے گھروں پہ نہ کمائی کرنا، اور نہ کوئی دوسرا فن سیکھنا،اور نہ کسی دوسری مشغولیت میں اپنے کو وقف کر دیا،اس کا قرآن مجید میں کہاں ذکر آیا ہے؟ تو ہم کہیں گے اپنے مطالعہ کی بنا پر اور قرآن مجید سے جو توفیق الہی سے فہم حاصل ہوا ہے، اس کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت سے مراد مدارس و جامعات ہیں۔(بحوالہ :طالبان علوم نبوت کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں/136)
مسلمانوں کے بعض حلقوں میں سنجیدگی کے ساتھ یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ عربی مدارس کی اس انقلابی دور میں کیا ضرورت ہے، ان کے نہ ہونے سے ہماری زندگی کا کونسا خانہ خالی رہتا ہے۔
اس سلسلے میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ فرماتے ہیں: سب کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ایک دینی مدرسہ کا مقام اور منصب کیا ہے؟ مدرسہ کیا ہے؟ مدرسہ سب سے بڑی کارگاہ ہے، جہاں آدم گری اور مردم سازی کا کام ہوتا ہے، جہاں دین کے داعی اور اسلام کے سپاہی تیار ہوتے ہیں، مدرسہ عالم اسلام کا بجلی گھر (پاور ہاؤس) ہے جہاں سے اسلامی آبادی بلکہ انسانی آبادی میں بجلی تقسیم ہوتی ہے، مدرسہ وہ کارخانہ ہے جہاں قلب و نگاہ اور ذہن و دماغ ڈھلتے ہیں، مدرسہ وہ مقام ہے جہاں سے پوری کائنات کا احتساب ہوتا ہے، اور پوری انسانی زندگی کی نگرانی کی جاتی ہے،جہاں کا فرمان پورے عالم پر نافذ ہے،عالم کا فرمان اس پر نافذ نہیں،مدرسہ کا تعلق کسی تقویم،کسی تمدن، کسی عہد،کسی کلچر،زبان و ادب سے نہیں کہ اس کی قدامت کا شبہ اور اس کے زوال کا خطرہ ہو،اس کا تعلق براہ راست نبوّت محمّدیﷺ سے ہے جو عالمگیر بھی ہے اور زندۂ جاوید بھی،اس کا تعلق اس انسانیت سے ہے جو ہردم جواں ہے، اس زندگی سے ہے جو ہمہ وقت رواں دواں ہے،مدرسہ درحقیقت قدیم و جدید کی بحثوں سے بالاتر ہے،وہ تو ایسی جگہ ہے جہاں نبّوت محمّدیﷺ کی ابدیت اور زندگی کا نمو اور حرکت دونوں پائے جاتے ہیں۔(بحوالہ :پاجا سراغِ زندگی/94)
مدارسِ دینیہ کی ضرورت: اگر دین اور اس کے شرعی نظام کی ضرورت ہے اور مسلمانوں کو محض ایک قوم بن کر نہیں، بلکہ ایک صاحبِ شریعت و کتاب قوم بن کر رہنا ہے، تو مذہب کے محافظین و حاملین اور شریعت کے ترجمان و شارحین کی ضرورت ہے،اور اگر ان کی ضرورت ہے تو لا محالہ ان مرکزوں اور اداروں کی ضرورت ہے جو ایسے اشخاص پیدا کر سکتے ہیں،اور یہ ضرورت مسلمانوں کی ہر قومی ضرورت سے اہم ہے۔
خلافتِ راشدہ کے طرز کی اسلامی سلطنت میں بھی دینی مدارس اور تربیت گاہوں کی ضرورت ہے،تاکہ امت کے اسلامی جسم میں ہر دم تازہ خون پہنچتا رہے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ جس نظام کی پشت پر ایسا ادارہ یا تربیت گاہ نہ ہو جو اس قسم کے اشخاص پیدا کرتا رہے جو اس نظام کو چلا سکیں، اگلوں کی جگہ لے سکیں اور اس مشین میں فٹ ہوسکیں ، اس نظام کی جڑ یں ہمیشہ کھو کھلی اور اس کی عمر ہمیشہ کم ہوتی ہے۔
اگر برائے نام اسلامی سلطنت بھی ہے تو بھی ایسے اداروں کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کو اپنے ذمہ دارانہ عہدوں کے لیے دیندار، امین اور مسلمانوں کی ضرورت سمجھنے والے کار کن مل سکیں۔
جب ہندوستان میں حکومت مغلیہ کا چراغ گل ہو گیا اور مسلمانوں کا سیاسی قلعہ ان کے ہاتھوں سے نکل گیا تو بالغ نظراور صاحب فراست علماء نے جابجا اسلام کی شریعت و تہذیب کے قلعے تعمیر کر دیے، انھیں قلعوں کا نام ”عربی مدارس ہے،اور آج اسلامی شریعت و تہذیب انھیں قلعوں میں پناہ گزیں ہے اور اس کی ساری قوت و استحکام انھیں قلعوں پر موقوف ہے۔۔(بحوالہ :مدارس اسلامیہ کی اہمیت و ضرورت اور مقاصد /183)
امتِ مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء کرام نے انجام دیا ہے اور ہر دور میں اللہ تعالی نے ایسے علماء پیدا فرمائے ہیں جنہوں نے امت کو خطرات سے نکالا ہے اور اس کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش کی ہے۔
بارِ الہ سے دعاگُو ہوں کہ حق جل مجدہ جملہ مدارسِ دینیہ کی نگہداشت فرمائے اور باطل کی نظر بد سے مامون رکھے۔آمین۔
