انعام اللہ ندوی
متعلم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ
زندگی میں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اس کی ضرورت و اہمیت پر بات نہیں کی جاتی، اس کے نفع بخش پہلو پر پردہ پڑا رہ جاتا ہے اور اس پر گہرائی کے ساتھ غور و فکر بھی نہیں کیا جاتا، جب کہ اس کی موجودگی انسانی زندگی کے لئے ضروری اور مفید تر ہوتی ہے، انہیں میں سے بعض ضروری رشتہ داریاں بھی ہیں جو عام طور پر موضوع بحث نہیں آتیں , یقینا رشتہ و تعلق خدا کی ایک عظیم نعمت ہے .ماں ,باپ, بھائی, بہن اور دوسرے أعزہ واقارب کا ہونا رحمت خداوندی سے کم نہیں. کہا جاتا ہے جن کو اپنے میسر ہوں ان کو دنیا کی تمام خوشیاں میسر ہوتی ہیں. انہیں اپنوں میں سے ایک بڑے بھائی کا ہونا ہے، ماں باپ کے بعد سب سے زیادہ آپ کی دیکھ بھال کرنے والا بھائی ہی ہوتا ہے، معاشرے میں عام طور پر یہی دیکھا جاتا ہے کہ جب چھوٹے بھائی کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے یا کوئی چیز مطلوب ہوتی ہے، سب سے پہلے اپنے بڑے بھائی سے ذکر کرتا ہے، بڑا بھائی چھوٹوں کے لیے مثل والد ہوتا ہے، ان کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے اور پریشانیوں میں خود پریشان ہوجاتا ہے، وہ اپنے چھوٹوں کو والدین کی طرح شفقت و محبت سے پروان چڑھاتا ہے، ان کی نیند, راحت، آرام ،کھانے, پینے کے علاوہ تمام ضروری چیزوں کا خیال رکھتا ہے، ان کے بیمار ہونے پر ماں کی طرح خود بھی راتوں کو جاگتا ہے, اپنی بساط و استطاعت کے بقدر ان کا خیال رکھتا ہے، ان کے اچھے مستقبل اور خوبصورت زندگی کے لیے ہمہ وقت فکر مند اور دعاگو رہتا ہے.اچھے بھائی کا بدل دنیا کی کسی اور چیز میں تلاش کرنا سعی لا حاصل ہے.
بھائی باہمی مدد و تعاون کا وہ ستون ہوتا ہے جس کی نظیر کسی دوسرے رشتے اور تعلق میں نہیں ملتی ہے, بھائی ہی اللہ کی طرف سے ایسی فطرت اور جبلت کا حامل ہوتا ہے جو نصرت و تعاون سے عبارت ہوتی ہے, اس کی پیدائش ہی اپنے بھائیوں کی مدد کے وصف کے ساتھ ہوتی ہے .اس کے علاوہ معاشرے میں بھی بھائی کو محافظ اور معاون کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔
چنانچہ عربی زبان میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ: کثرت الاخوان تدل علی کثرۃ الأعوان۔ یعنی بھائیوں کی کثرت مددگاروں کی کثرت پر دلالت کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بہترین اور مثالی معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں بھائی کو کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپس میں حسد نہ کرو، لڑائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے اعراض و نفرت نہ کرو، ایک بھائی کوئی چیز خرید رہا ہو تو اس چیز کو اس سے پہلے خرید کر بھائی کو محروم رکھنے کا جرم نہ کرو، آپس میں بھائی بن کر رہو، اس کی ہر موقع پر مدد کرو، اسے سہارا نہ چھوڑو، اس کی تحقیر و تذلیل نہ کرو، جو اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے، بھائی کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا اس کے حق میں قبول ہوتی ہے.
ہجرت کے بعد جب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے سب سے پہلے مواخات کی ضرورت محسوس کی اور مہاجر صحابہ کو انصار صحابہ کا بھائی بنا دیا، یہ معمولی بات نہیں تھی، آپسی مدد اور مواخات کے پاکیزہ جذبے نے پوری کایا پلٹ دی، انقلاب آگیا، پوری دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ سب سیسہ پلائی دیوار بن گئے، ان کو جدا کرنا مشکل ہو گیا، ان میں فولادی طاقت پیدا ہو گئی اور دس بارہ سال کی مختصر مدت میں وہ پوری دنیا پر چھا گئے، مواخات کی طاقت ساری طاقتوں کو کچل کر رکھ دیا، وہ سمندر، پہاڑ، وادی، گھاٹی، صحرا، جنگل ہر رکاوٹ کو کاٹتے اور دور کرتے چلے گئے، پوری دنیا ان کی مٹھی میں آگئی اور وہ سب کے امام اور پیشوا بن کر تاریخ میں کامیابی کے نئے معیار قائم کر گئے.
بھائی کا ہونا ایک ایسا وصف اور خوبی ہے جو ہر اعتبار سے باہمی تعاون و مدد اور خیر خواہی سے عبارت ہوتی ہے، یہ ایسا وصف ہے جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتا ہے، زندگی کے ہر موڑ پر، ہر جگہ اور ہر زمانے میں بھائی غم خوار و غمگسار ہوتا ہے. اگر کوئی بھائی مدد و تعاون اور آپسی ہمدردی جیسی صفات سے خالی ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعین کردہ اخوت کے معیار کے مطابق وہ بھائی نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف شریکِ وراثت اور حریص جائیداد ہے.
افسوس ہے کہ آج کی مادی دنیا میں بعض بھائی خود غرض، مفاد پرست اور موقع بن کر آپسی مدد کا مفہوم اور اس کی ضرورت ہی بھول جاتے ہیں،وہ رفیق اور قریب بننے کے بجائے فریق اور رقیب بن جاتے ہیں، لالچ اور موقع پرستی کی وجہ سے وہ آپسی پاس و لحاظ اور اکرام و احترام کو طاق میں رکھ کر نقصان پہونچانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں،
وہ میرا بھائی ہے کیا میں بھی اس کا بھائی ہوں
اسی خیال و تجسس میں کھو گیا ہوں میں
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر بھائی میں وہ تمام اوصاف پیدا فرما دے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کا معیار قرار دیا ہے.
