~ عبدالمقیت

جب 15 سالہ محمد شامی کو مراد آباد کے کرکٹ کوچ بدر الدین صدیقی کے پاس لے جایا گیا تو کوچ شامی کی بولنگ دیکھ کر بہت حیران اور متاثر ہوئے، وہ کہتے ہیں….

"جب میں نے اس 15 سالہ بچے کو پہلی بار بولنگ کرتے ہوئے دیکھا تو میں سمجھ گیا تھا کہ یہ بچہ عام نہیں ہے، اس لیے میں نے اسے تربیت دینے کا فیصلہ کیا- ایک سال تک میں نے اسے یوپی کے ٹرائلز کے لیے تیار کیا، کیونکہ ہمارے یہاں کرکٹ کلب نہیں ہیں- وہ بہت محنتی، تعاون کرنے والا اور وقت کا پابند تھا- اس نے ٹریننگ کے دوران ایک دن کی بھی چھٹی نہیں لی۔ شامی نے انڈر 19 ٹرائلز کے دوران بہت اچھی بولنگ کی لیکن سیاست کی وجہ سے وہ سلیکٹ نہیں ہو سکا- بورڈ نے مجھ سے شامی کو اگلے سال لانے کو کہا، لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ شامی کا ایک سال ضائع ہو، اس لیے میں نے اس کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ اسے کولکتہ بھیج دیں”۔

شامی نے اپنی تکنیک پر سخت محنت کی، میچ کے بعد وہ استعمال شدہ گیند کو مانگ لاتے تھے تاکہ وہ پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کرنے کا ہنر سیکھ سکیں، جو ان کے مستقبل کے کیریئر کی کامیابی کے لیے لازمی حصہ بن سکے-

اسی دوران آگے بڑھتے ہوئے جب ٹاؤن کلب کی درخواست پر ایک بنگال سلیکٹر سمبرن بنرجی نے شامی کی بولنگ دیکھی تو دنگ رہ گئے، وہ کہتے ہیں کہ "شامی کو کبھی پیسے کا لالچ نہیں تھا، اس کا ہدف اسٹمپ تھا، اسٹمپ سے ٹکراتے وقت جو آواز آتی ہے شامی کو بس وہی پسند تھا”۔

اتر پردیش کے ضلع امروہہ کے ایک معمولی سے گاؤں کی دھول بھری گلیوں سے بین الاقوامی کرکٹ گراؤنڈز تک شامی کا راستہ کافی چیلنجوں سے بھرا تھا- اس کے باوجود ان کا عزم انہیں کامیابی کی چوٹی پر لے گیا- ایک شخص کا آغاز اس کی تقدیر کا تعین نہیں کرتا، یہ اس کی غیر متزلزل عزم ہے جو بالآخر اہمیت رکھتی ہے، شامی نے اسے ثابت کیا ہے-

زندگی کے منفی حالات سے لڑتے، بھڑتے اور جیتتے ہوئے شامی آج ارجن ایوارڈ تک پہنچ گئے ہیں- شامی کی انتہائی دباؤ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور ناکامیوں سے واپسی کی صلاحیت ایک ایسی مہارت ہے، جس سے ہم نئی نسل کو متاثر ہونا چاہیے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے