محمدیوسف رحیم بیدری ، کرناٹک
ہندی ہمارے ملک ہندوستان کی راج بھاشا اور سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ جس کو ملک کے چاروں سمتوں میںبولا، سمجھااور برتاجاتاہے ۔1949ء کو ہندی زبان کو راج بھاشا کادرجہ دیاگیاتھا۔ذرائع کے بموجب 1949 کو اقوام متحدہ کے اجلاس (UNGA)میں پہلی دفعہ ہندی زبان بولی گئی تھی۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ ہندوستان کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان اور راج بھاشا ہندی کی سختی سے مخالفت آج بھی جنوبی ہندکے صوبہ جات ٹملناڈاور کرناٹک وغیرہ میں کی جاتی ہے۔
تاہم آج کاہماراموضوع ’’عالمی ہندی دِن ‘‘ ہے ۔ مختلف ممالک میں بسنے والے ہندوستانی وہاں کے ممالک میں ’ہندی ز بان‘ بولتے ہیں۔ اس لئے دیگر ممالک میں بھی ہندی کو خاص درجہ دِلانے کے لئے ہرسال 10؍جنوری کو ’’وشواہندی دِوس‘‘ (عالمی ہندی دِن ) منایاجاتاہے۔ آئیے ، ہم اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔
ہندی روزنامہ ’’امراُجالا‘‘ کے مطابق ہندی پوری دنیا میں بولی جانے والی پانچ زبانوں میں سے ایک ہے۔ چھوٹے سے ملک فجی میں ہندی کو پوری پوری اہمیت حاصل ہے۔ ’’وشواآرتھک منچ‘‘ کے سروے کے مطابق ہندی زبان دنیا کی 10طاقتور زبانوں میں سے ایک ہے۔ سال 2017 ء میں آکسفورڈ ڈکشنری نے بچہ ، بڑا دن ، اچھا ، سوریہ نمسکارجیسے الفاظ اپنے اندرشامل کئے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ ہندی دنیابھر میں معروف ہورہی ہے۔ غیرممالک میں رہنے والے بھی ہندی کی اہمیت سے واقف ہیں۔ یہ دن سب سے پہلے 10؍جنوری 1974ء کو مہاراشٹر کے ناگپور میں منعقد ہ ایک عظیم الشان جلسہ میں منایاگیاتھا جس میں 30ممالک کے 122نمائندوں نے حصہ لیاتھا۔ اس جلسہ کے بعد ناروے کے انڈین ایمبیسیڈر نے پہلی دفعہ ’’وِشوا ہندی دِوس‘‘ منایا۔ سال 2006ء کواس وقت کے وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے اعلان کیاکہ 10؍جنوری کو ’’عالمی ہندی دِن ‘‘منایاجائے گا تب سے یہ دن بڑی دھوم دھام سے منایاجاتاہے۔ چند نعرے اورشاعری نما چیزیں ہمیں ہندی نیوزپورٹل اور سوشیل میڈیا پر مل جاتی ہیں ۔ نعرے لکھے ہیں۔
وشواہندی دِوس پر ہم نے ٹھانا ہے
لوگوں میں ہندی کا سوابھیمان جگاناہے
ہندی کو آگے بڑھاناہے
اُن نت( Unnat)کی راہ پر لے جاناہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی ویردیش کاپیارا ہے
ہندی ہی جس کا نعرا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے دیش کی آشا ہے
ہندی اپنی بھاشا ہے
ذات پات کے بندھن کو توڑے
ہندی سارے دیش کو جوڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مختلف اہل علم نے ہندی کی اہمیت پر جو کچھ کہاہے ، اس میں سے چند جملے یہاں نوٹ کئے جاتے ہیں۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا ’’ہندی کا سوال سوراج کا سوال ہے ‘‘ ، کملاپتی ترپاٹھی نے کہاتھا’’ہندی بھارتی ثقافت کی روح ہے ‘‘ لال بہادر شاستری نے زور دیا تھا کہ’’ ہندی پڑھنا اور پڑھانا ہمارا فرض ہے ۔ اسے ہم سب کو اپنانا ہے ‘‘ اگیات کا کہنا تھا’’ جو عزت ، ثقافت اور اپناپن ہندی بولنے سے ملتاہے ، وہ انگریزی میں دور دور تک دکھائی نہیں دیتاہے‘‘ ۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کے بقول ’’ہندی دیش کی ایکتا کی کڑی ہے ‘‘سوامی دیانند کہتے تھے ’’ہندی کے ذریعہ سارے بھارت کو ایک لڑی میں پرویا جاسکتا ہے‘‘۔
واضح رہے کہ ہمارے ملک کی زبان ہندی 40 ممالک کے 600 سے زیادہ معروف یونیورسٹیز ، کالجوں اور اداروں میں ہندی پڑھائی جاتی ہے ۔
