محمد وصی الدین مہراجگنجی

متعلم مدرسہ نور العلوم مدھولیا نولپراسی نیپال

 

مسجد اقصٰی جس کو مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا شرف حاصل ہے فلسطین کے مشہور جگہ القدس نامی شہر میں واقع ہے ۔مسجد اقصٰی کے بارے میں قرآن پاک میں ذکر ہے

سُبْحٰنَ الَّذِيْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاًمِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلیَ الْمَسْجِدِ الْاَقصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ

سورۃ الاسرا آیت نمبر 1

ترجمہ: پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے بندہ کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک جس کو گھیر رکھا ہے ہماری برکت نے تاکہ دکھلائیں اس کو کچھ اپنی قدرت کے نمونے وہی ہے سننے والا دیکھنے والا:( ترجمہ شیخ الہند صفحہ 373)

اس آیت میں مسجد اقصٰی کا ذکر ہے اور مسجد اقصٰی کے ارد گرد کی زمین کے بابرکت ہونے کا بھی تذکرہ ہے تفسیر بیان القرآن سے پتہ چلتا ہے کہ "دینی برکت یہ ہے کہ وہاں بکثرت انبیاء علیہم السلام مدفون ہیں ۔دنیوی برکت یہ ہے کہ وہاں اشجار وانہار اور پیداوارکی کثرت ہے”۔

آیت کا اصل مقصد تو تاجدار مدینہ امام الانبیاء والرسل جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کو بیان فرمانا ہے ۔تاہم اسی ضمن میں مسجد اقصیٰ کی فضیلت واہمیت بھی کا بھی ذکر ہوگیا ہے ۔

مسجد اقصٰی کے متعلق احادیث میں کئی اہم واقعات کا تذکرہ ملتا ہے۔ انہیں واقعات میں ہے معراج کے لیے اللہ تعالی نے جب اپنے پاس عرش پر پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانا چاہا تو امام الملائکہ حضرت جبریل علیہ السلام کوایک براق نامی سواری لے کر بھیجا جس پرمحبوب رب العالمین سوار ہوکر جبریل علیہ السلام کے ساتھ مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تشریف لے گئےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصٰی میں امامت فرمائی جہاں آپ کے پیچھے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء ورُسُل علیہم السلام نےنماز ادا کی اور نماز کی فرضیت کے بعد 16 سے 17ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے تھے ۔پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانۂ کعبہ ہوگیا۔ بقول ڈاکٹر محمد اظہر خالد ؂

تو رہا قبلہ ہمارا ترى عظمت ہے بہت

ذکر قرآں میں ہے پایا ترى برکت ہے بہت

تیرے آنگن میں ملے رب کے پیمبر سارے

ہم کو معلوم ہے اقصٰی تری حرمت ہے بہت

روئے زمین پر قائم تین مساجد ایسی ہیں کہ جن کی طرف سفر کئے جانے کا حکم ہے جیسا کہ بخاری ومسلم کی اس روایت سے پتہ چلتا ہے:

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لاتُشد الرّحال اِلاّ اِلٰی ثَلاثۃ مساجد مسجد الحرام و مسجدی ھذا ومسجد الأقصٰی

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین مساجد مسجد حرام میری اس مسجد( یعنی مسجد نبوی) اور مسجد اقصٰی کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے۔

حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے ساتھ ساتھ مسجد اقصٰی کو بھی مقدس مقام شمار کیا ہے۔

اس بیت المقدس کو اللہ کی عبادت کے لیے سب سے پہلے سیدنا حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعمیر فرمایا ۔ متفق علیہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں سب سے پہلی مسجد کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجدِ حرام ۔حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے پھر دریافت کیا کہ اس کے بعد کون سی مسجد دنیا میں وجود آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسجد اقصٰی ۔حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے تیسری مرتبہ سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کیا مدّت ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دونوں کے درمیان چالیس سال کی مدت ہے (بخاری کتاب الانبیاء)۔

تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے قبل تقریبا 3000 قبل مسیح عرب کنعانیوں (یبوسیوں) نے شہر بیت المقدس کی تعمیر کی اس 970 سال قبل مسیح یا 930 قبل مسیح سے چالیس سال کی مدت سے بیت المقدس سیدنا حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت میں رہا اور انہیں کے حکم سے اس مسجد اقصٰی کی جدید تعمیر کی گئی اور 17 ھ مطابق 638 ء میں خلیفۂ دوم امیر المؤمنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فتح کیا ۔پھر 583ھ مطابق 1187ء میں فاتحِ بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایّوبی رحمۃ اللہ علیہ نے بیت المقدس کو صلیبیوں کے چنگل سے آزاد کرایا۔

ایک روایت میں ہے کہ بیت المقدس میں ایک نماز پڑھنا عام مساجد سے پانچ سو نمازیں پڑھنے سے افضل ہے (الترغیب والترہیب جلد 2 صفحہ 140حدیث نمبر 10)۔

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کردیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا اے مسلمان اے عبد اللہ یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کردو سوائے شجر غرقد کے کیوں کہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے (کیوں وہ گونگا درخت ہے)۔

اس کا مکمل ثبوت یہ ہے کہ اسرائیل اور دنیا بھر کے یہودی بڑی تیزی سے اس غرقد درخت کی کاشتکاری میں عوام سے فنڈ لے رہےہیں تاکہ مسلمانوں سے جنگ کے دوران اس کے پیچھے پناہ لے سکیں مگر اس وقت فلسطینی مسلمانوں کی صورتِ حال کافی ناگفتہ بہ ہے اللہ تعالی فلسطینی مسلمانوں اور مسجد اقصٰی کی حفاظت فرمائے اور مظلوموں کی امداد اور فتحیابی فرمائے اور ارضِ فلسطین کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور سلطان صلاح الدین ایّوبی جیسے فاتحین نصیب فرمائے آمین ؂

اپنی گود میں پالے ہیں پیغمبر اس نے

مومن پر واجب ہے اقصٰی کا تحفظ کرنا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے