مجاہد الاسلام قاسمی
مدھےپورہ بہار
22 جنوری کو رام مندر کی پران پرتسٹھہ ہے ۔۔جس کے لئے پورے ملک کے سرکاری خزانہ کا دروازہ کھول دیا گیا ہے ۔۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک باضابطہ طور پر ہندو راشٹر کے طرف رواں دواں ہے۔۔ گودی میڈیا کا حال دیکھیں آپ ایسا محسوس کریں گے۔۔ ان کے ذمہ ملکی حالات کے بارے میں حکومت سے سوال کرنے کی زمہ داری نہیں بلکہ ان کا کام بس صرف برسر اقتدار پارٹی کے لیے بھجن گانا ہی رہ گیا ہے۔۔ ان کی زبان پر مہنگائی، بے روزگاری کے نام آتے ہی منہ پر تالا لگ جاتا ہے۔۔۔ 9 سال سے صرف ایک ہی شخص کو لگاتار دکھایا جا رہا ہے.
کسی شاعر نے ایسے ہی میڈیا کے بارے میں کیا خوب کہا ہے :-
لفافوں اور پلاٹوں کے عوض بکتی ہے خودداری
یہاں پر میڈیا کا سیٹھ افلاطون بکتا ہے
اسے کہتے ہیں فرعونی سوچ۔۔ کہ۔کسی زمانے میں فرعون کو بھی طاقت کا ایسا نشہ سوار ہوا تھا کہ اس نے کتنے اسرائیلیوں کا گلہ دبا کر انہیں کے نعش پر حکومت کی محل تعمیر کر لی تھی ۔۔ 18 سال کی عمر میں بادشاہ بنا اور 48 سال اس طرح حکومت کی کہ اس کے مدمقابل کوئی حزب مخالف لیڈر نہیں تھا ۔۔ اسی طاقت کے نشہ میں آکر اس نے خدائی کا دعویٰ کیا- مگر خدا کا کرشمہ دیکھئے جس نہر کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا یہ میرے حکم سے جاری ہوتا ہے ۔ خدا کے حکم سے اسی میں غرق ہوگیا ۔۔۔ اس کے مدمقابل اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا اور سب تدبیریں دھری کی دھری رہ گئی: الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا-
موجودہ بی جے پی حکومت جس کا اصل باگ ڈور آر ایس ایس کے پاس ہے وہ بھی "ون مین شو” ون مین آرمی” کے رستے پہ گامزن ہے۔ ملک کے موجودہ بادشاہ کو بھی طاقت کا ایسا نشہ سوار ہے کہ ان کے سامنے اس وقت کوئی حزب مخالف لیڈر ہے ہی نہیں جو اس کے مدمقابل کھڑا ہو سکے، اس کی وجہ سوائے بزدلی کے اور کچھ نھیں۔۔ حمام میں سبھی ننگے ہیں، سب کا دامن داغدار ہے، کرپشن کے جال میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ ان کے سامنے سوائے سرینڈر کے اور کوئی چارہ ہی نہیں۔۔ سب تو ایک جگہ جمع ہوکر میٹنگ کرتے ہیں۔۔۔ پلاننگ کرتے ہیں۔۔ گلے میں گھنٹی باندھنے کا عہد کرتے ہیں، ارادہ کرتے ہیں ؛ مگر جب گھنٹی باندھنے کی باری آتی ہے تو دم دبا کر بھاگ نکلتے ہیں ۔۔۔۔۔اپوزیشن سے کہنا چاہونگا جو شاعر "شہاب جعفری ” نے کہا تھا:
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
اس لئے "انڈیا گٹھ بندھن” کے متحدہ اپوزیشن سے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کی سالمیت اور مضبوطی کے لیے متحدہ طور پر 2024 کے انتخابات میں حصہ لیجئے ۔۔ اس میں آسام کے "اے آئی یو ڈی ایف ” جس کے بانی مولانا بدر الدین اجمل صاحب ہیں ان کی پارٹی اور "اے آئی ایم آئی ایم ” جس کے سربراہ بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب ہیں انھیں ضرور شامل کریں تبھی بی جے پی سے مقابلہ ممکن ہے ۔۔ ورنہ یاد رکھیے ۔۔۔ کہا کسی شاعر نے ۔۔۔۔
متحد ہو تو بدل ڈالو نظام گلشن
منتشر ہو تو مرو چلاتے کیوں ہو۔۔؟
رہی بات 22 جنوری کو رام مندر کی پران پرتسٹھا کی تو ہم بحیثیت مسلمان ہونے کے ہمارا عقیدہ ہے جس جگہ مسجد صحیح اور وقف کی ہوئی زمین پر مسجد بن جاتی ہے ۔۔ وہ حصہ فرش سے لیکر عرش تک مسجد رہتی ہے اور وہ مسجد ہے اور تا قیامت مسجد رہے گی ۔۔۔۔ بقول قائد ملت اسلامیہ صدر جمیعۃ علمائے ہند مولانا ارشد مدنی صاحب کے ۔۔ الحمدللہ مسلمانوں کے کندھے پر یہ الزام کہ انہوں نے مندر گرا کر "بابری مسجد” بنائی تھی، اس الزام سے بری ہیں جس پر کورٹ نے مہر لگادی اور آستھا کی بنیاد پر وہ زمین ہندو بھائیوں کو دیدی اور جن لوگوں نے مسجد گرائی تھی انھیں کٹگھرے میں کھڑا کیا۔ آج ان کا حال دیکھئے کہ رام مندر ٹرسٹ کے چیئرمین "چمپت رائے” نے دنیا کے سامنے انہیں اس سرزمین پر 22 جنوری کو آنے سے منع کردیا۔۔۔ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو!!!!!
ہم مسلمانوں کو ان حالات سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔۔اپنی مسجدوں کو آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اپنے خالق حقیقی سے رشتہ مضبوط کرنا چاہئے ۔۔ ورنہ یہ یاد رہے کہ ایک مسجد ہم نے گنوادی ۔۔۔ کورٹ نے آستھا کی بنیاد پر فیصلہ کیا سنایا کہ ان کا نعرہ بھی بدل گیا کہ بابری مسجد تو جھانکی ہے ” کاشی متھرہ باقی ہے ۔۔۔۔
اخیر میں موجودہ بادشاہ محترم سے کہیں گے کہ ملک کا وزیر اعظم کا عہدہ کسی ایک مذہب کی وکالت نھیں کرتا ۔
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی ایک کا ہندوستان تھوڑی ہے
جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہونگے
کرائے دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
رہی یہ بات کہ عدالت نے کس تناظر میں یہ فیصلہ سنایا اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ فیصلہ کے کچھ ہی دن بعد سابق چیف جسٹس "رنجن گوگوئ ” راجیہ سبھا بھیج دیے گئے، تو کسی کو گورنر بنادیا گیا۔ غرض سبھی کی حصہ داری کا پورا پورا خیال رکھا گیا ۔۔۔ منظر بھوپالی لکھتے ہیں :
آپ ہی کی عدالت ہے آپ ہی منصف بھی ہیں
یہ تو کہیے آپ کے عیب وہنر دیکھے گا کون؟
الغرض عدالت کے اس یکطرفہ فیصلہ نے ہمیں کچھ سبق سکھائے ہیں: پہلا یہ کہ ہمیں بھی اور ملی تنظیموں کے سربراہان خاص طور سے جمیعۃ علمائے ہند، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، آل انڈیا جمیعۃ اہل حدیث اور دیگر تنظیموں کو وکلاء کی وہ ٹیم تیار کرنی ہوگی جو دینی غیرت و حمیت سے سرشار ہوں ۔۔
دوسرا سبق یہ کہ اپنے سیاسی وجود کو مضبوط کرنا ہوگا۔۔ ووٹوں کے بکھراؤ کو روک کر متحد ہوکر متحدہ اپوزیشن کو کامیاب کرکے ان سے اپنے مطالبات کے حساب سے ڈیل کرنا ہوگا ۔۔
شاعر مشرق علامہ اقبال کے اس سبق پر عمل کرنا ہوگا ۔۔۔۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا
