میرؔ بیدری ، بیدر، کرناٹک
کوئی مرا اپنا بھی نہیں تھا
جوچلے وہ سکہ بھی نہیں تھا
دور مری آنکھوں سے ہوا وہ
دور جِسے رکھتا بھی نہیں تھا
بوجھ اٹھاپائے نہ وہ کندھے
کندھوں پر بستہ بھی نہیں تھا
پیار بھروسے زندگی گزری
پیارمگر ہوتا بھی نہیں تھا
حوصلہ چلنے کانہ تھا کیوں کر
ساتھ مرے دھوکا بھی نہیں تھا
گھر کی عجب حالت تھی ، کیاکہیں
غلہ نہیں ، پیسہ بھی نہیں تھا
میری ہوئی ہے جیت ، مگر میرؔ
میرے لئے جلسہ بھی نہیں تھا
