- قرب وجوار کے ہزاروں سوگواروں نے اپنے پرنم آنکھوں سے آپ کو سپرد خاک کیا۔
- بعد نماز مغرب آبائی وطن کریم الدین پور گھوسی کے املی باغ والے قبرستان میں مدفون ہوئے۔
- نماز جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت حافظ محمد یوسف صاحب استاذ مدرسہ فیض العلوم بڑہل گنج گورکھپور نے ادا کرائی۔
رفیع نعمانی
گھوسی(مئو ناتھ بھنجن): استاذ العلماء حضرت مولانا محمد اسرائیل قاسمی صاحب گھوسوی استاذ حدیث و فقہ مدرسہ مرقات العلوم مئو کا کل بروز چہار شنبہ فاطمہ اسپتال مئو سے علاج کے بعد گھر لوٹتے ہوئے حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال ہو گیا ۔ مولانا مرحوم 80 /سال کے تھے 1995 کے بعد عالمی شہرت یافتہ درسگاہ مرکزی دارالعلوم محمدیہ گھوسی ضلع مئو سے محدث جلیل ابو المآثر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب الاعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ مدرسہ میں تا دم حیات تفسیر و حدیث و فقہ و عربی ادب کی خدمات انجام دیتے ہوئے ہزاروں تشنگان علوم نبویہ کی تشنگی بجھانے میں مصروف تھے۔ ادھر گزشتہ پانچ روز تک فاطمہ اسپتال میں رہ کر داعی اجل کو لبیک کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مولانا کے انتقال کی خبر سنتے ہی قرب و جوار کے علاقے میں صف ماتم بچھ گیا۔ بعد نماز مغرب آبائی وطن کریم الدین پور گھوسی کے املی باغ والے قبرستان میں مدفون ہوئے نماز جنازہ آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت حافظ محمد یوسف صاحب استاذ مدرسہ فیض العلوم بڑہل گنج گورکھپور نے ادا کرائی اور ہزاروں سوگواروں نے اپنے پرنم آنکھوں سے آپ کو سپرد خاک کیا۔
واضح رہے کہ مولانا کی اہلیہ مرحومہ کا انتقال 10/ سال پہلے ہی ہو چکا تھا ۔آپ کے پانچ صاحبزادوں میں سبھی عالم اور حافظ قرآن ہیں اور سبھی درس و تدریس سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ نہایت ہی تقوی، طہارت کے مالک تھے۔ سنتوں کی پاسداری میں آپ نے اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ گزارا شرک و بدعت سے ہمیشہ لڑتے رہے۔ آپ نے کئی کتابیں تصنیف کیں جن سے بندگانِ خدا فیض حاصل کر رہے ہیں۔
اللہ تعالی علاقے کے لوگوں کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے اور مولانا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عنایت فرمائے بال بال مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
