کھجنی گورکھپور (رفیع نعمانی): تحصیل کھجنی کے تحت موضع ببھنولی مالہن پار گورکھپور کے مدرسہ کاشف العلوم میں آج بتاریخ 14 جنوری کو صبح ساڑھے نو بجے سے ساڑھے 12 بجے تک تکمیل ناظرہ قرآن پاک ایک پروگرام منعقد ہوا ۔ جس میں حافظ وقاری عبداللہ صاحب حلیمی کو پا گنجی کی نگرانی میں مدرسہ کے سات بچوں نے ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا ۔جن بچوں نے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا ان کے نام حسب ذیل ہیں عدہ شیخ، حبیبہ شیخ ،شاہینہ شیخ، محمد عمر، محمد خبیب، محمد ارسلان ،محمد عمیر۔

پروگرام کا آغاز مولانا انصار احمد امام و خطیب مسجد چاند پار گورکھپور کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد نعت نبی کا نذرانہ عزیزہ یرفع بنت محمد آصف نے پیش کیا۔نیز نعت نبی کا نذرانہ حافظ محمد عبداللہ کو پاگنجی نے بھی پیش کیا اس کے بعد علم دین کے موضوع پر مولانا اظہار احمد مظاہری کشن گنجی امام و خطیب مسجد منجھریاں نے زبردست خطاب کیا انہوں نے کہا کہ علم دین کے بغیر انسان اللہ اور اس کے رسول تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا ۔ آج ہمارا معاشرہ علم دین نہ سیکھنے کے سبب ارتداد کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور رسم و رواج میں پھنس کر بربادی کے عمیق دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے مولانا کے تقریر کے بعد ضلع مہراج گنج سے آئے ہوئے نوجوان عالم دین حضرت مولانا محمد عمر فاروق صاحب قاسمی صدر مدرس مدرسہ تعلیم القران بگہا امام و خطیب مسجد بگہا نوتنواں مہراج گنج نے بچوں کو قرآن پاک کا آخری درس دے کر ناظرہ کی تکمیل کرائی اس کے بعد قرآن کریم کے متعلق مختصر جامع خطاب کیا انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے علم دین سیکھنا فرض بتایا ہے مگر آج لوگ علم دین کے بجائے علم دنیا سیکھنے میں مشغول ہیں جس کا نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ آج اللہ کے احکام سے غفلت برتنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے ہم مسلمان دور نظر آرہے ہیں جو ہمارے لیے نہایت ہی خسارے کی بات ہے ۔نظامت کے فرائض حافظ محمد اظہر صاحب نے انجام دیا۔ جلسے کے آخر میں جن بچوں کا ناظرہ ختم ہوا ان کو مولانا محمد رفیع الدین رفیع نعمانی امام و خطیب جامع مسجد ملاؤں ضلع گورکھپور کے ہاتھوں انعامات سے نوازا گیا۔

پروگرام میں موجود سامعین میں شعیب اختر ملاؤں علیم الزماں ڈاکٹر محمد کلیم متولی مسجد ،اعمال الدین جان عالم، محمد شہزاد، محمد سمیر، محمد ندیم وغیرہ موجود تھے اور گاؤں کےمعزز سامعین بھی کثیر تعداد میں موجود تھے جلسے کا اختتام دعا پر ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے