جماعت اسلامی ہند، شہر لکھنؤ کی جانب سے جامع مسجد میں پروگرام
لکھنؤ: دنیا کے ہر ملک میں، ہر جماعت میں، ہر ادارہ میں چند ایسے افراد ہوتے ہیں، جنہیں تھنک ٹینک کہا جاتا ہے۔ ان کے مشورہ اور پلاننگ کے بعد اسے نافذ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے افراد نہ صرف اپنے ادارہ اور جماعت کے کاموں پر نظر رکھتے ہیں بلکہ اپنے حریفوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ادارہ تحقیق و تصنیف، علیگڑھ کے سکریٹری ڈاکٹر اشہد جمال ندوی نے کیا۔ وہ جماعت اسلامی ہند شہر لکھنؤ کی جانب سے جامع مسجد منشی پلیا میں ہونے والے پروگرام کو خطاب کر رہے تھے۔
’’علوم و فنون میں مہارت، وقت کی اہم ضرورت‘‘ کے موضوع پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے اشہد جمال ندوی نے کہا کہ جیسے کرکٹ کے کھیل میں بھی ایک کپتان ہوتا ہے، اور اس کے مشورہ کے مطابق بالر اور بلے باز اپنی اپنی کارکردگی انجام دیتے ہیں۔ اس وقت بھی ملکوں اور اداروں میں موجود تھنک ٹینک نے اپنا حریف اسلام کو متعین کر رکھا ہے، بلکہ اس کے لیے یونیورسٹیز میں شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں۔الگ الگ ادارے قائم کیے گئے ہیں، جن کا صرف قرآن وحدیث اور نبی اکرمؐ کی ذات پر کیچڑ اچھالنا محبوب مشغلہ ہے۔
ڈاکٹر اشہد جمال ندوی نے کہا کہ اسرائیل کے تھنک ٹینک کا یہ سوچنا ہے کہ فلسطین کے جیالوں کو ختم کر دو نہیں تو یہ ہمارے ناپاک ارادوں کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ جبکہ اسرائیل کے یہ تھنک ٹینک یہ کام اپنے ملکی اصولوں، اپنی عوام، اپنے مذہبی پیشواؤں کی منشا کے خلاف کر رہے ہیں۔بلکہ یہ کام تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔
اشہد جمال ندوی نے کہا کہ صحیح لائحہ عمل دنیا کے سامنے پیش کرنا اسلام کی عین فطرت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ترجیحی طور پر پڑھنے لکھنے کا رواج عام کیا۔ مختلف علوم و فنون میں ماہرین پیدا کرنے کی خاطر قیدیوں کو پڑھانے کی ذمہ داری دی۔ قرآن، حدیث، فقہ، سیاست و معاشیات اور جنگوں کے الگ الگ ماہرین پیدا کیے۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے درمیان تمام ہی شعبوں کے ماہرین اور تھنک ٹینک پیدا کریں۔ ڈاکٹر اشہد جمال ندوی نے بتایا کہ ادارہ تحقیق و تصنیف، علیگڑھ اسی نہج پر کام کر رہا ہے کہ زمانہ کے چیلینجز کے مطابق ماہرین تیار کیے جائیں، جو اسلامی تعلیمات پر، اسلامی شخصیات پر، اسلامی اصولوں پر اور اسلام اس کے بنیادی ارکانوں پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دے سکیں اور امت کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔
پروگرام کے آغاز میں ڈاکٹر امجد فلاحی نے سورۃ البروج کا درس دیا۔ صابر خان نے پروگرام کی نظامت کی۔ مذکورہ اطلاع جماعت اسلامی ہند، یوپی مشرق کے شعبۂ میڈیا کی جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں دی گئی۔
