اٹوا(سدھارتھ نگر): مشہور و معروف شاعر جناب منور رانا کی رحلت پر بزمِ اربابِ ادب اٹوا کی جانب سے ایک تعزیتی نشست جمال ٹریڈرس پر منعقد ہوٸی جس کی صدارت ڈاکٹر ایاز اعظمی صاحب نے کی اور نظامت ہدایت اللہ خان شمسی صاحب نے انجام دی۔ اس موقع پر جناب جمال قدوسی صاحب نے کہا کہ منور رانا صاحب کا انتقال اردو ادب کا ایسا خسارہ ہے جس کی بھرپائی ناممکن ہے۔ ایسی شخصیات نایاب ہوتی ہیں، ان کے انتقال سے ایک عہد کا اختتام ہے۔

اس موقع پر ڈاکٹر ایاز اعظمی نے ان کی زندگی اور شاعری پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوۓ کہا کہ منور رانا بنیادی طور پر ترقی پسند تھے۔ ان کی شاعری سماجی ناہمواریوں کے خلاف احتجاج کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کی فکر صالح روایات کی ترجمانی کرتی ہے۔ شاعری کے علاوہ ان کا نثر بھی ادبی دنیا کا بہترین سرمایہ ہے ۔ انھوں نے پوری زندگی اردو غزل کو سنوارنے میں صرف کردی ۔ مشاعروں میں کافی مقبولیت کے باوجود انھوں نے کبھی معیار سے سمجھوتا نہیں کیا ۔ ان کی شاعری کا ایک خاص رنگ ہے جسے بآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری کی معنویت بڑھتی جاۓ گی۔

جناب ہدایت اللہ خان شمسی نے کہا کہ منور رانا نے ماں کے تقدس کو جو غزل کے سانچے میں ڈھال کر اردو شاعری کو نئی سمت عطا کی ہے یقیناً اردو ادب میں نمایاں اضافہ ہے اور اس سے انکار کی جرآت نہیں کی جا سکتی کہ عصر حاضر میں اردو کا چراغ روشن کرنے میں منور رانا کا بھی خون جگر شامل ہے۔ آپ نے زندگی کے حقائق کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ انتہائی سادگی سے ادبی تقاضوں کی رعایت اور تہذیبی روایت کے ساتھ حالات و تجربات کو شعری قالب میں ڈھال کر پیش کرنے کا ہنر کوئی آپ سے سیکھے۔

سید عزیز الرحمٰن عاجز نے کہا کہ جناب منور رانا صاحب ایک عظیم صاحب زبان و قلم شاعر تھے۔ ان کی شاعری اصلاحی شاعری ہوتی تھی۔ اللہ ان کی مغفرت فرماۓ، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرماۓ۔

اس موقع پر جمال اجمل، ،برہمادیو شاستری پنکج، نور صدیقی، عبدالرب جوہر، جمیل چوکھڑاوی وغیرہ شریک رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے