عبدالمبین منصوری

سدھارتھ نگر:  گزشتہ ہفتے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر منور رانا کا لکھنؤ کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے 71 سال کی عمر میں آخری سانس لی۔

اطلاعات کے مطابق وہ گزشتہ کئی ماہ سے بیمار چل رہے تھے۔ ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سدھارتھ نگر کی ادبی و سماجی تنظیم نئی آواز کی جانب سے ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں منور رانا کی بے باک شاعری پر گفتگو کی گئی۔

منور رانا کا شاعری کی دنیا میں ایک بڑا مقام تھا۔ ان کی شاعری سچائی پر مبنی ہوتی تھی۔

تنظیم کے صدر ڈاکٹر جاوید کمال نے شاعر منور رانا کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منور رانا حقیقت پر مبنی شاعری کے لیے جانے جاتے تھے اور وہ اپنے اردگرد جو کچھ دیکھتے اور محسوس کرتے تھے اسے اپنے لفظوں سے بڑے ہی خوبصورت انداز میں اشعار کی شکل میں پرو دیتے۔ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر خاص و عام کے دلوں میں سیدھے اُن کے اشعار اُتر جاتے تھے۔

مشاعرہ کا دور ہو یا کوی سمیلن، منور رانا نے ہر جگہ اپنی شاعری کی ایک منفرد پہچان قائم اور دائم رکھا۔ خاص طور سے”ماں” پر مبنی اُن کی شاعری ملک اور بیرون ملک میں بڑی مقبول ہوئی تھی جس کی بدولت اُنہیں کافی مقبولیت اور لوگوں کا پیار ملا تھا۔ ماں کی عظمت پر لکھے گئے اُن کے کچھ اشعار قارئین کی نظر ہیں:

اُداس رہنے کو اچھا نہیں بتاتا ہے

کوئی بھی زہر کو میٹھا نہیں بتاتا ہے۔

کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں

یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے۔

اس طرح میرے گناہوں کو دھو دیتی ہے

ماں بہُت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہی۔

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے ازاں دیکھی ہے

میں نے جنت تو نہیں ماں دیکھی ہے۔

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا۔

میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے۔

کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی۔

تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہونگے فلک

مجھ کو اپنی ماں کی اوڑھنی اچھی لگی۔

منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا

جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں لگتی۔

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن

ماں نے دیکھا مجھے تو تھکن بھول گئی ہے۔

یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا

میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے۔

 

 اس طرح اُنہوں نے اپنے تمام اشعار سے ماں کی عظمت اور بلندی کا ذکر کرکے سب کے دلوں پر حکومت قائم کر رکھی۔

منور رانا نے ماں کی عظمت پر جتنی نظم لکھا ہے، اتنا اور کسی شاعر نے نہیں لکھا ہے جس سے اُن کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہوا تھا۔

اس کے علاوہ اُن کے کچھ چنندہ اشعار مندرجہ ذیل ہیں:

آپ کو چہرے سے بھی بیمار ہونا چاہیے

عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہیے۔

سو جاتے ہیں فوٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر

مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے۔

ایک آنسوں بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے

تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا۔

وہ جو کاندھوں پر سورج کو لیے پھرتے ہیں

مر بھی جائیں تو منور نہیں ہونے والے۔

یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں

اس پیڑ کا سایہ میرے بچوں کو ملے گا۔

پھر کربلا کے بعد دکھائی نہیں دیا

ایسا کوئی بھی شخص کہ پیاسا کہیں جسے۔

گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں

لڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں۔

سگی بہنوں کا جو رشتہ ہے اردو اور ہندی میں

کہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتا۔

تمہارے شہر میں لوگ مئیت کو کاندھا نہیں دیتے

ہمارے گاؤں میں چھپّر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں۔

لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے

میں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہے۔

ہم نہیں تھے تو کیا کمی تھی یہاں

ہم نہ ہوں گے توکیا کمی ہوگی۔

کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا

اگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون با ندھے گا

تعزیتی اجلاس میں نئی آواز تنظیم کے دیگر اراکین کے علاوہ ایڈوکیٹ شاداب شبیری، ہمدم سیوانی، ریاض قاصد، شیو ساگر سحر، سنگھ شیل جھلک، ڈاکٹر فضل الرحمان، ڈاکٹر نوشاد اعظمی، اشفاق ابراہیم، عبدالحکیم وغیرہ موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے