زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مغفرت و اونچے درجات کیلئے دعا کی گئی

بیدر۔ 17؍جنوری (محمدیوسف رحیم بیدری): ماہرتعلیم وماہرسیاسیات مولوی محمد نثاراحمد کلیم مرحوم کے چھوٹے فرزند ممتاز سماجی کارکن جناب شفیق احمد کلیم کے اچانک انتقال کرجانے پرآج انجمن خادم الحجاج کے دفتر نزد جامع مسجد بیدر میں ایک تعزیتی اجلاس کاانعقاد انجمن کے زیرنگرانی منعقد ہوا۔ جس کی صدارت سید صغیراحمد صدر انجمن خادم الحجاج بیدر نے کی۔ شفیق احمدکلیم انجمن کے خازن اور ایک سرگرم کارکن تھے۔ انھوں نے گزشتہ 25سال کے دوران انجمن کے زیراہتمام عازمین حج کی بے لوث خدمت کی۔ جناب سیدصغیراحمد نے اپنے خطاب میں کہاکہ شفیق احمد کلیم نے ایک موقع پر اپنی بے لوث خدمت کے حوالے سے ان سے کہاتھاکہ میں اجر کاطالب اپنے رب سے ہوںکسی اور سے نہیں۔ جناب محمدایازالحق نائب صدر انجمن خادم الحجاج بیدر نے مرحوم کے حسنات کو گناتے ہوئے کہاکہ انجمن میں ان جیسا سرگرم کوئی دوسرا شاید ہی ہو۔ انجمن کے رکن جناب اسحق جنواڑکر نے کہاکہ مرحوم شفیق احمد کلیم زمینی اور عملی کام میں پیش پیش رہاکرتے تھے۔ آج ہمارالیڈر نہیں رہا۔ حج کے لئے پروازکرنے اور واپس آنے تک کے حاجیوں کے سارے کام مرحوم جس خلوص اور بے لوثی سے انجام دیتے تھے وہ ان کے لئے ذخیرہ آخرت ہے۔ شفیق احمد کلیم مرحوم کے جگری دوست عبدالمقتدر تاج ، مرحوم کے منجھلے بھائی انجینئر رفیق احمد اور بڑے بھائی ڈاکٹر سعید احمدکلیم نے بھی خطاب کیااور دونوں بھائیوں نے ایک آوازہوکر انجمن کو یقین دِلایاکہ وہ خود بھی انجمن کے لئے ہمیشہ حاضر رہیںگے۔ آپ تمام ہمارے چھوٹے مرحوم بھائی کی مغفرت کے لئے دعا فرمائیں۔ جناب شاہنواز اور محمدیوسف رحیم بیدری نے بھی تعزیت کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم شفیق احمد کلیم کی تربیت میں ان کے والدین کابڑا ہاتھ رہا۔ وہ صرف انجمن ہی نہیں بلکہ زندگی کے دیگرمیدانوں میں بھی انسانوں کی بے لوث خدمت کی ہے۔دوستوں کے دوست تھے ۔خود اپنے گھر کے لئے سماجی خدمت کاوہ ایک عمدہ نمونہ تھے۔ دیگر افراد نے بھی تعزیتی کلمات کہے اور ان کے حسنات کو قبول کرنے، درجات کی بلندی اور ان کے اہل خانہ ، لڑکے لڑکیوں اوربھائیوں ودیگر لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق کے لئے دعا فرمائی۔ جناب سیدمنصوراحمدقادری معتمد انجمن خادم الحجاج نے نظامت کافریضہ انجام دیا۔ اس تعزیتی اجلاس میں نوجوانوں کی بڑی تعداددیکھی گئی۔ جس سے پتہ چلتاتھاکہ مرحوم شفیق احمد کلیم نوجوانوں میں بے حد مقبول تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے