لکھنو: جہاں ایک طرف پورے ہندوستان میں یوم جمہوریہ امن و شانتی سے منایا گیا وہیں دوسری طرف دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں اکثر اساتذہ و طلباء کی موجودگی میں بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا گیا۔یوم جمہوریہ پر ندوہ میں پرچم کشائی دونوں نائب مہتمم مولانا عبد القادر ندوی اور مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی نے اساتذہ واسٹاف کی موجودگی میں کی۔

چنانچہ اس پرگرام کا آغاز عبد القادر نے تلاوت کلام پاک‌سے کیا ، جبکہ ترانہ انتخاب احمد مع رفقا نے پیش کیا ،اسی طرح تمہیدی کلمات اور نظامت کا فریضہ ناظم جمعیۃ الاصلاح محمد رافع اسہی اعظم پوری نے دلجمعی کے ساتھ نبھایا ۔
اس کے بعد مولانا فرمان ندوی کا  پر مغز خطاب ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ یوم جمہوریہ آزاد ہندوستان کا ایک یادگار دن ہے ۔ یہ یوم تجدید عہد ہے ۔ جمہوریت ایک نظام حکومت کا نام ہے ۔ اس کے عناصر میں مقننہ ۔عدلیہ ۔ انتظامیہ اور میڈیا ہیں ۔ دستور ہند میں آزادی ۔ مساوات ۔ اخوت اور عدل پر زور دیا گیا ہے ۔
مولاناخالد صاحب ندوی غازی پوری نے اس موقع پر جمہوریت کے اغراض و مقاصد ، اسکی تاریخ و خصوصیت اور اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے اسلامی نظامِ حکومت پر بھی بہترین خامہ فرسائی کی ، ساتھ ہی بابری مسجد کی تاریخی ،قانونی اوراسلامی‌حیثیت سے حاضرین کو واقف کرایا، نیز موجودہ حالات میں مسلمانوں کی آزمائش کے اسباب و حل پر بھی روشنی ڈالی، اخیر میں اسلاف کی قربانی اور انکا ملک ہند کے تعلق سے بے مثال رول جیسے موضوعات پر  خطاب فرمایا ۔
اخیر میں دارالعلوم کےنائب مہتمم مولانا عبدالعزیز صاحب ندوی بھٹکلی نے اپنے صدارتی خطاب میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پوری تاریخ نوجوانوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے ، مختلف حالات کا مقابلہ ہمیشہ نوجوانوں نے ڈٹ کر کیا ہے، ان میں وہ طاقت ہے کہ کامیابی کی تاریخ رقم کرسکتے ہیں ، اس ملک میں انہیں آئین ہند کے مطابق اپنے تشخص کا خیال رکھتے ہوئے ہر میدان میں فتح و کامرانی کی جد و جہد کرناچاہئے ۔انہی کی دعاء پر تقریب کا اختتام ہوا۔
واضح رہے کہ اس‌ موقع پرحافظ عتیق الرحمن طیبی، مولا نا سلیم اللہ ندوی ،مولانا ڈاکٹر ہارون رشید ندوی ، مولانا حافظ فضل الرحمٰن ندوی ، مولانا ظفر عالم ندوی ، مولانا‌مستقیم ندوی،مولانا رشید احمد ،مولانا انیس احمد ندوی ، مولانا فیصل ندوی بھٹکلی ، مولانا عبد الرحیم ندوی ،مولانا ساجد‌ندوی ، مولانا امجد‌ندوی ، ارشاد اعظمی ندوی ،احمد میاں وغیرہ موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے