جاوید سرورکشی نگری
وہ کرگیا ہے زمانے کو آج رنجیدہ
چمک رہا تھا جو علم و ادب کی دنیا میں
کہ جس کا نام تھا سالک ادب شناسوں میں
ادب کی بزم میں سالک رہا، رہا نہ رہا
عجیب سانحہ گذرا ہے اس کے جانے سے
ادب یتیم ہوا گرمیٔ کشش نہ رہی
سبھی کے دل پہ حکومت تھی جس کے لفظوں کی
سبھی کے دل پہ ہے طاری سکوت کا عالم
غموں کے بوجھ تلے ہیں دبے ادب والے
سبھی کے دل کا سکون و قرار جاتا ہے
وہ دین کا بھی ادب کا بھی اک معلم تھا
نگاہِ اہل تخیل میں کتنا قابل تھا
خدا سے کرتا ہے سرور یہ مغفرت کی دعا
رہیں سکون سے جنت میں حضرتِ سالک
