بیادگار: شیخ محترم جناب سالک بستوی صاحب مرحوم
عبدالقیوم ہمدم علی نگری
ادب کی کلیاں سسک رہی ہیں ہمارا سالک کہاں گیا ہے
یہ کوچے گلیاں بلک رہی ہیں ہمارا سالک کہاں گیاہے
خیال آتا ہے دل میں ہر دم کسی نے ایسے ہی کہہ دیا ہے
چمن میں بلبل بھی کہہ رہی ہے ہمارا سالک کہاں گیا ہے
لگا تھا مہمان تھا کوئی وہ جو آکے واپس چلا گیا ہے
ہوائیں ہر سمت یہ کہہ رہی ہیں ہمارا سالک کہاں گیا ہے
اداس بیٹھے ہیں ہم اے سالک کہ رنج تیرا ستا رہا ہے
ہماری انکھیں بھی کہہ رہی ہیں ہمارا سالک کہاں گیا ہے
ہوا ہے رخصت سجا کے حشمت انوکھاپن تھا وہ شاعری میں
فضائیں تر نم یہ کہہ رہی ہیں ہمارا سالک کہاں گیا ہے
یقین کانوں کو ہوگیا ہے وہ دور ہم سےکیوں ہوگیا ہے
یہ کان گدیاں بھی کہہ رہی ہیں ہمارا سالک کہاں گیا ہے
مدرسہ اصلاح سونا سونا، چمن بھی ہمدم ہے سونا سونا
یہاں کی بغیاں بھی کہہ رہی ہیں ہمارا سالک کہا گیا ہے
