بر وفات حسرت آیات

شاعر اسلام حضرت مولانا سالک صاحب بستوی

 

رفیع نعمانی مہراج گنج یوپی

پاک طینت، مخلص ودلدار سالک بستوی

 غم کے ماروں کے رہے غمخوار سالک بستوی

نام تھا” ممتاز احمد” کام بھی ممتاز تھا

شاعری میں تھے بڑے فنکار سالک بستوی

دے رہے تھے اہلِ دنیا کو سدا پیغامِ حق

بادۂ الفت سے تھے سرشار سالک بستوی

داعئ توحید و سنّت، ایک عالم با عمل

شرک و بدعت سے رہے بیزار سالک بستوی

اک مصنف،اک مؤلف، تھے ادب کے پاسباں

 خُلقِ حسنہ سے تھے پُرانوار سالک بستوی

عمر ساری ہی گزاری دین کی تبلیغ میں

قوم کو کرتے رہے بیدار سالک بستوی

سونا سونا لگ رہا ہے "جامعہ اصلاح” اب

چھوڑ کر رخصت ہوئے گلزار سالک بستوی

بھول پائے گا نہ "غوری "ان کی صورت کو کبھی

دے گئے ہیں سب کو ایسا پیار سالک بستوی

اے میرے مولا ! دے جنت ہے رفیع کی یہ دعا

تھے بھلے انسان، خوش گفتار سالک بستوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے