محمد یوسف رحیم بیدری،
بیدر، کرناٹک۔
۱۔ منافق دشمن
وہ چاہتاتو اس کی مخالف سیاسی پارٹی کو کسی بھی طرح ختم کرسکتاتھا لیکن اس نے مخالف پار ٹی سے اپنی پارٹی کی دوستی کرلی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کی سیاسی پارٹی پوری طرح اس کی پارٹی میں گھل مل گئی۔ اور ایک دن تمام اراکین اسمبلی اسی کی پارٹی میں شامل ہوگئے اور وہ دوتین ایم ایل ایز کے ساتھ اس کی پارٹی سے باہر نکل آیا۔اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔
بھگوان اور سوامی میں یہی فرق ہوتاہے ۔ سوامی سمجھ نہیں پاتاکہ بھگوان کامنصوبہ آخر کیاہے۔اسی طرح سوامی کو بھی بھگوان سمان دشمن کے منصوبہ کو سمجھنے میں دیر لگی لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتاتھا۔اسلئے اپناسامنہ لے کر دشمن کے خلاف جدوجہد کیلئے پھر ایک بار کھڑا ہوناپڑا۔
۲۔ خوبصورت زینب
من موہنی صورت والی زینب کودیکھ کر افسر ہمیشہ ہی نہال ہوجایاکرتاتھالیکن تین بچوں کی پیدائش کے بعد زینب اور بھی خوبصورت اوردلکش ہوگئی تھی۔ افسر سوچنے لگاکہ یہ اس قدر خوبصورت کیوں کر ہوگئی ہے ؟ جب یہ بات مولوی زاہدعلی خان سے اس نے بتائی تو مولوی صاحب نے کہا’’جو عورت وفا شعار ہوتی ہے اورتھوڑے میں گزار ا کرنے کاہنرجانتی ہے ، اس کی اس قربانی کودیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کاعمل اور اس کاچہرادونوں خوبصورت بنادیتے ہیں۔ خصوصاً شوہر کے لئے وہ آراستہ کردی جاتی ہے تاکہ دونوں کی زندگی اطمینان سے گزرسکے‘‘
افسر کو لگاکہ مولوی صاحب نے درست ہی کہاہوگا ورنہ اسکی اہلیہ زینب واقعی اتنی خوبصورت نہیں تھی جتنی کہ تین بچوں کی پیدائش کے بعد ہوچکی ہے۔
۳۔ این پی آر
بیچار ا بہت جلدی گھبرا جاتاتھا۔کالج کا پرنسپل تھا، کبھی سڑک نہیں دیکھی تھی۔ کسی کے خلاف چلاکر گفتگو نہیں کی تھی۔ کبھی بھوکے پیٹ سویانہیں تھا۔ اسلئے وہ NPRکروانے کی مہم میں شامل ہوگیا۔
ایک دن اس کی سماجی تنظیم کے ایک کارکن نے اس کو NPRکروانے کی اپیل کرتے ایک واٹس ایپ گروپ میں دیکھ لیا۔ فوری اسکرین شاٹ لے کرخود اسی کوبھیج دیااور یہ تحریر چھوڑدی کہ ’’پرنسپل صاحب ، اپناخوف دوسروں پر مت ڈالئے۔ اس ڈر کو خوداپنے پلو سے باندھ کر رکھئے۔ NPR آغاز ہے۔ آپ جس آنے والے دِن سے بچناچاہتے ہیں ، اسی کی تیاری ہے۔ کیاسمجھے ؟اس بھول بھلیاں کو پار کرنا آپ کے بس کی بات نہیں ہے ۔لہٰذا آپ کالج تک محدود رہیے۔ اس مہم میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے ‘‘
سناہے کہ پرنسپل صاحب اپنابی پی چیک کروانے ملٹی اسپیشالٹی اسپتال گئے ہیں۔ اس کے ایک دن بعد پتہ چلاکہ انھوں نے وہ واٹس ایپ گروپ ھوڑ دیا ہے جس میں انھوں نے NPRکروانے کی اپیل کی تھی۔
۴۔ سانپ کی جون
مائیک پر ہوتاہے تو بہت بولتاہے۔ اور جب مائیک چھوڑ دیتاہے تو کسی مرے ہوئے سانپ کی طرح نظر آتاہے۔اور ہمارے سامنے سے ایسے گزرجاتاہے جیسے سانپ نہ ہوکوئی خوف زدہ چوہاہو۔ اورپھر جب کبھی مائیک دوبارہ حاصل ہوجاتاہے تو کسی اژدہے کی طرح بھس بھس ، سُس سُس ، طنزوتحقیر کے تیر چلانے میں لگ جاتاہے۔
آپ نے اس کو ضرور دیکھاہوگا۔ دُعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس کوہدایت دے اور وہ سانپ کے جون سے انسانی جون میں واپس آجائے۔ انسانی بچے ان کے اپنے اصلی جون میں اچھے لگتے ہیں۔
۵۔ مہلتِ محاسبہ
عدالتیں بے راہ روی کاشکار ہوچکی تھیں۔ پھرتو اس ملک کی تباہی قریب تھی۔ سبھی پیش گو کہہ رہے تھے کہ عدالتوں سے انصاف نہیں ہوگاتو پھر ملک کاڈبہ ہی گول ہوجائے گا۔ مگر سناہے کہ عدالتیں کوشش میں ہیں کہ غلطیوں کی اصلاح ہوجائے ۔اس کے لئے بہت بڑا حملہ خود حکومت پر کرتے ہوئے پندرہ دن کی مہلت دے دی گئی ہے کہ 22وزارتوں میں کون سے ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور کتنی رقم خرچ کی گئی ہے ، اس کی ساری تفصیل عدالت کو بتانے کی حکومت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ہر طرف سے عدالتوں اور ججس کی ہمت کی داددی جارہی ہے۔دیکھنایہ ہے کہ آخر ہوتاکیاہے ؟
