میرؔبیدری ۔بیدر
ہم نہ ملیں تو کیا ہوجائے گا؟
تاکنے والا اور نچائے گا
پیڑہے اونچی ندی کے نیچے کھڑا
روزوشب رہ رہ کے نہائے گا
سوچ کے نکلے سفر پر ہو ، سورج
واسطے اس کے ہستی مٹائے گا
قسمت وسمت سے پرے ہٹ کر بھی
جو کھو سکتاہے ، وہی پائے گا
پاس اس کے سویانہ کروتم
سونے والا اور سُلائے گا
دیکھا خواب اونچے ہیں ، ساتھ نہ رہ
ساتھ رہا،’ جوکر‘ بن جائے گا
میرؔنہیں گھوڑے ، دریاکو نیند
جاگنے والوں کو وہ جگائے گا
