سبھی مقدمات میں ضمانت ملنے کے باوجود بھی کلکٹر نے پاسا ایکٹ میں مفتی سلمان ازہری کو جیل بھیجا!
سہارنپور(احمد رضا): ملی رہبر اور سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے نوح کے ممبر اسمبلی اور مولانا مفتی ازہری پر اسپیشل ایکٹ کے تحت کی گئی کاروائی کی مزمت کرتے ہوئے اس من ما نے عمل کو عام آدمی کے حقوق پر حملہ قرار دیا ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ ملک میں جگہ جگہ صبح سے شام تک سیکڑوں بھگوا دھاری افراد فیس بک ،ویڈیوز اور ٹویٹر پر دین اسلام ،بيغمبر اسلام اور ہمارے مدارس عربیہ ، ہماری مسجد اور لائق احترامِ مزارات کے لئے ناقابل معافی الفاظ استعمال کرتے رہتے ہیں اعلانیہ دارالعلوم اور مساجد پر بلڈوزر چلانے کی دھمکیاں دینے ہیں مگر آج تک ایک ملزم کے خلاف بھی پولیس نے یا سرکار نے کچھ بھی ائکشن نہی لیا یہ کھلی آنکھوں سے سبھی دیکھ رہے ہیں مک میں کیا کچھ چل رہا ہے یہ بھی اب سبھی پر عیاں ہو چکا ہے، لگاتار غیر قانونی طور سے آپ کے سامنے آپ کے مدارس ،مساجد اور مزارات پر بلڈوزر چلا رہے ہیں بيقصور ہوتے ہوئے بھی سالوں سے آپکے لوگ جیلوں کی اذیتیں برداشت کر نے کو مجبور ہیں!
ملی رہبر ایڈوکیٹ محمد علی نے صاف صاف کہا کہ قصور واروں کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے اور بيقصور افراد پر جھوٹے الزامات لگا کر آپکے مکانات اور دکانات کو مٹی میں ملا یا جا رہا ہے الٹے دنگا فساد پھیلانے اور ملک دشمنی کر نے کے فرضی مقدمات میں ہمارے بزرگوں ،جوانوں ،بچوں اور خواتین کو جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے ہلودانی کے بنِ پھول پورا ،نوح , میوات ، دہلی , اور گجرات کے بہت سے معاملات آپ کے سامنے ہیں سب کچھ لوٹ کر اور جلاکر آپکو ہی محرم قرار دیا جاتا ہے یہ صرف اور صرف اسلئے ہورہاہے ہے کہ آپ کی صفوں میں انتشار پیدا ہوگیا ہے آپ اور ہم اپنے سیدھے راستے والے دین اسلام سے بھٹک کر دنیائے فانی کے عارضی لذت عیش و آرام میں الجھ گئے خالق کائنات کی تعریف اور عبادت بھول گئے سجدے بھول گئے دنیا کے عارضی حکمرانوں کے تلوے چاٹنے لگے نتیجہ کے طور پر ایمان کمزور پڑ گئے آپ سچ اور باطل میں تمیز کرنا بھول گئے اگر آپ اس جبر کے خلاف اب بھی نہی اٹھے تو پھر ہاتھ ملتے رہنا بہت دیر ہو جائیگی یہ بھی واضع کل دیر شام ہمکو یہ افسوسناک خبر ملی ہے کہ گجرات میں جن تین مقامات پر مفتی سلمان ازہری کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی ان تینوں مقامات سے انکو کورٹ نے ضمانت دے دی ہے ضمانت کے کاغذات لیکر جب سابر متی جیل ضمانت کا آڈر بھیجا گیا تاکہ مفتی صاحب کو وہاں سے رہائی کے آرڈر کے مطابق ان کو جیل سے باہر لایا جائے تو وہاں پر آج اچانک جونا گڑھ کے ڈسٹرکٹ کلیکٹر کی جانب سے "پاسا ایکٹ” کے تحت آرڈر آگیا تو ان کو پاسا ایکٹ کے تحت احمد آباد سابرمتی جیل سے بڑودہ جیل لیجانا ضروری ہوگیا ہے، اب ان کو سابرمتی جیل سے بڑودا جیل کو لے جایا گیا ہے، مفتی صاحب کے وکلاء کی ٹیم کی جانب یہ کہنا ہے کہ ہم لوگوں نے ان کو بچانے کی جتنی کوشش کرنی تھی ہم نے کی اور ان پر جو ،،ہیٹ اسپیچ،، کے کیسز لگے تھے ان کے اس اسپیچ میں کوئی ایسی بات نہیں تھی اسی لئے ہمیں ان کو تینوں کورٹ سے ضمانت لینے میں آسانی ہوئی!
واضع ہو کہ” پاسا ایکٹ "ایک ایسا ایکٹ ہے کہ جس میں بیل لینے کے لئے ہمیں ہائی کورٹ کو جانا پڑیگا اور اس ایکٹ کے تحت ایک تفتیشی محکمہ ہوتا ہے "پاسا”کا ایک بورڈ ہوتا ہے اس بورڈ کےمیٹنگ ہی میں یہ کاروائی ہوتی ہے اور اس بورڈ کے بیٹھک کے بعد گجرات ہائی کورٹ میں اس کے تعلق سے سنوائی ہوتی ہے، مگر یہ کاروائی کب تلک ہوگی کب یہ بورڈ بیٹھے گا اس کا کچھ کہا نہیں جا سکتا کم از کم بیس سے پچیس دن تو لگ ہی جائینگے! اللہ ملت اسلامیہ پر رحم کرے آمین ۔
