محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ عنقریب ٹھیک ہوگا
مہینہ ختم ہورہاتھا، جتناکچھ مالیہ تھاقریب الختم تھا۔ آس تھی کہ نئے مہینہ کے ساتھ ہی پیسہ آئے گاتو پھر سے ایک نئی طاقت کے ساتھ زندگی آگے کی سمت دوڑے گی ۔ ہر ماہ یہی کچھ کھیل تھا۔
وہ یہ بھی دیکھ رہاتھاکہ مہینہ ختم ہونے پر مالیہ کی طرح نفرتیں اور دراڑیں کم نہیں ہورہی تھیں بلکہ ہر اک جانب ان کاہی دوردورہ تھا۔ نفرتوں اور رشتوں میں دراڑوںکے لئے کوئی وقت متعین نہیں تھا۔ بے وقت اور بے لگام نفرتیں اور دراڑیں بھاگی بھاگی آرہی تھیں اور رشتے ٹوٹتے چلے جارہے تھے۔ جس کاکوئی علاج اس کے سوا سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ اپنی انا کو مارا جائے اور دوسرے کے جذبہ کوٹھنڈے کرنے کی اپنی سی سعی کی جائے۔
ایساہی کیاگیا لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں ہواہے پھر بھی توقع ہے کہ عنقریب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔
۲۔ لہٰذا
میں نے کہا’’سفر کبھی کبھی ہوتاہے، اس لئے کبھی کبھی کے اس سفر میں گھبراناکیسا؟ ‘‘
وہ بولا’’گھبراتانہیں ہوں، اصل میں سفر کو اب رائیگاں اس لئے سمجھ رہاہوں کہ کوئی خضر مل سکے ممکن نہیں لگ رہا ہے ‘‘
میں نے معنی خیز انداز میں کہا’’خضر کوخضر کی تلاش نہیں ہوتی ‘‘ وہ بھی بڑی دھانسو چیز تھا۔ سراٹھائے بغیراس نے کہاکہ ’’سوائے خدا کے سبھی کوکسی نہ کسی کی تلاش رہتی ہی ہے۔ کوئی بندہ متلاشی نہ ہو ایساممکن نہیں ہوتا ‘‘
اس کے جواب سے مجھے خاموش ہوجاناپڑا۔ پھر کچھ یادآیاتو کہہ دیاکہ ’’نہ ملنے کے ایقان کوایمان کی ضدکہاجاسکتاہے ۔لہٰذا ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
۳۔ پرسکون چہرہ
سبھی اپنی اپنی بات کررہے تھے۔وحیدہ ناز کو ایسا کچھ نہیں کرنا آیا۔ سبھی کے چہرے وہ تک نہیں رہی تھی۔ پتہ نہیں کیا کررہی تھی۔ ایک پرسکون چہرے کو پڑھنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ پرسکون چہرہ مجھ سے آج تک پڑھانہ جاسکااورنہ ہی کئی ایک نقصانات کے باوجود اس سے متعلق کوئی کہانی ہی میں بُن سکی۔
۴۔ تائید چاہنے والا
’’سہی کہہ رہاہوں نامیں شاعر صاحب؟ ‘‘ اس نے اپنی کسی بات کی مجھ سے تائید چاہی۔ میں کوئی جواب نہ دے سکا۔ میں سوچ رہاتھاکہ اس کو کس طرح پتہ چلاکہ میں شاعربھی ہوں۔ خاموش بیٹھے ہوئے شخص کو چھیڑنا ، اور پوری معلومات کے ساتھ چھیڑنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔مجھ سے مخاطبت ایسے ہی نہیں کی گئی تھی۔ کوئی تو بات تھی جو میں سمجھ نہ سکا۔آپ کیاسوچتے ہیں ؟ کیاکبھی آپ نے میری شاعری سنی ہے ؟
۵۔ پریشان حالی
ان کے پاس پیسہ ہی پیسہ تھا، وہ پریشان تھے ۔کیوں کہ انہیںمزید پیسوں کی ضرور ت تھی۔ دوسری طرف کچھ لوگ کوڑی کوڑی کے محتاج تھے لیکن اس قدرپریشانی نظر نہیں آتی تھی جتنی پریشانی پیسہ والوں کے مقسوم میں تھی۔
۶۔ گھاٹا
سودا تو ہواتھا۔ پتہ نہیں چل رہاتھاکہ اس سودے کے نتیجہ میں کس کوگھاٹے کاسامناہوگا۔ ہزار ہا سال کی تگ ودو کے نتیجہ میں بھی گھاٹے کاپتہ نہ چل سکا۔ تھک ہارکر مان لیناپڑاکہ کوئی گھاٹانہیں ہے۔دونوں کے لئے ففٹی ففٹی چانسز ہوں گے۔ اسلئے پتہ نہیں چل رہاکہ گھاٹے کاسامناکس کو ہے ؟ آپ بھی سوچیں کہ بنانے والے نے بنایا۔ بننے والابن گیا۔ بنانے والا اور بننے والا دونوں میں تقسیم ہوا کتنا نفع اور کتنا گھاٹا؟۔ بندہ ء ناچیز کو تو سب کچھ صفر کاکھیل لگتاہے۔
