محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک۔
۱۔ جنگل کارنگ
جب سانپ کو معلوم ہواکہ وہ سانپ نہیں حقیقت میں اژدہا ہے۔تو اس کو اپنی غفلت پر غصہ آگیا اورپھر وہ بھی بھس بھس ، شش شش ، کرنے لگا۔ انسان بھی کوئی اشرف مخلو ق ہے ؟بالکل نہیں ۔ اب وہ انسانوں کے خلاف بھس بھس کرنے لگا۔دوسری جانب ضعیف اژدہا اپنی کمزوری کے باعث جھاڑیوںسے نکل نہیں پارہاتھا۔ لیکن کوشش کررہاتھاکہ دیکھ سکے کہ کون اژدہا میری جگہ پر آگیاہے ۔کسی طرح وہ جھاڑیوں کاکچھ حصہ پارکرکے باہر نکلا تو اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سانپ اپنے اژدہا ہونے کااعلان کررہاہے؟!!اژدہا کو لگاکہ جنگل میں اب کوئی قانون نہیں بچاہے۔ضعیف اژدہا جنگل کے مستقبل سے مایوس ہوگیا۔
۲۔ مہرِ بڑائی
تقریر 33منٹ کی تھی اوراس میں گالی نما مہذب اشارے ، جھڑکیاں ، اورطعن وطنز ایک کم 66 تھے۔ یہ سب انہوں نے اسلئے برداشت کیاکہ بولنے والے کو عہدہ حاصل تھا جس پر بڑوں کی مہر لگی ہوئی تھی۔
۳۔ عزت دار بھگوڑے
وہ اپنے آپ کو افضل سمجھتے تھے۔ معاشرے کے پڑھے لکھے اور باشعورلوگوں میں خود کاشمار کرتے ہوئے اچھالگتاہے نا۔ معاشرہ بھی انہیں ایسا ہی سمجھتاتھا لیکن ایک دن پتہ چلاکہ انہیں اپنی تنظیم میں ذلت کو برداشت کرنا ہوگا۔
نہ صرف ذلت برداشت کرناہوگا بلکہ اس کااظہاربھی کسی طرح نہیں کرناہے۔ ایک ہزار افرادذلت کے ساتھ تنظیم میں رہ رہے تھے۔ اسی درمیان میں سیاسی ہنگامی حالات پید اہوئے تواس تنظیم کے سبھی عزت دار جانے کدھر فرار ہوگئے۔ ذلیل افراد نے خود کو تنظیم کا ادنیٰ ورکر بتاکر جیل جاناپسندکیا۔ چھ ماہ بعد جیل سے واپس ہوئے تو دیکھاکہ وہی عزت دار بھگوڑے پھرایک بار تنظیم کے مختلف عہدوں پر فائز ہیں۔
