ڈاکٹر انجم شکیل احمد، بیدر
محلہ کے بس اسٹاینڈ پر صبح دو بسیں رکتی تھیں۔ ایک کسی کالج کی خانگی بس، دوسری  سرکاری بس جس میں بھی اکثر اسکول، کالج جانے والے طلبہ کی ہی تعداد زیادہ ہوتی تھی۔ کالج کی بس میں سوار ہونے کے لیے ایک لڑکی آ تی تھی اور بس میں سوار ہوکر چلی جاتی۔ آج کل چند دنوں سے ایک نوجوان شخص بھی بس اسٹاینڈ پر آ نے لگا تھا اور وہ سرکاری بس میں سوار ہوتا تھا۔ صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس ہمیشہ ان شرٹ کئے ہوئے، کبھی ٹائی کبھی بغیر ٹائی کے ساتھ، چہرے پر چھوٹی سی داڑھی کے ساتھ پڑھا لکھا آدمی لگتا تھا۔ یہاں سے صبح کے وقت یہ ہی دو لوگ بس میں سوار ہوتے تھے، اس لئے اس وقت بس اسٹاینڈ خالی ہی ہوا کرتا تھا۔ چند دنوں میں ایک ہی جگہ پر ملتے ملتے دونوں میں شناسائی ہوئی اور و ہ دونوں اپنی اپنی بسیں آ نے تک آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ایسا لگتا تھا کے وہ شخص لڑکی کو کچھ سمجھا رہا ہے، کبھی کبھی وہ لڑکی کی نوٹ بک پر کچھ لکھتا بھی تھا۔ پہلے تو یہ لڑکی بس آ نے سے ذرا دیر پہلے ہی آتی تھی اور یہ شخص بھی اپنی بس سے کچھ دیر پہلے ہی مگر آج کل یہ دونوں کچھ جلد ہی آ رہے تھے اور زیادہ گھل مل کر بات چیت کر رہے تھے۔ انکی یہ حرکتیں اپنے آپ کو کرتا دھرتا اور خود کو خدائی فوجدار سمجھنے والے محلہ کے چندلڑکے دیکھ رہے تھے اور اسکا نوٹس لے رے تھے۔
ایک دن وہ حسبِ معمول آپس میں باتیں کر رہے تھے کے پانچ لڑکوں کے ٹولے نے جو ہاتھوں میں ہاکی اسٹکس اور لوہے کی زنجیریں لئے ہوئے تھے ، ان دونوں کو گھیر لیا، انکے تیور ٹھیک نہیں تھے، بشرے سے غصہ ٹپک رہا تھا۔ وہ دونوں گھبرا گئے، وہ شخص ڈر کے مارے دوڑنے کی تیاری کرنے لگا مگر اس سے پہلے ہی وہ لوگ اس کو دبوچ لئے۔ ان میں سے ایک چلّا کر کہنے لگا، یہ کیا ہو رہا ہے بے سالے، لڑکی کو پٹا رہا ہے۔
پھر اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ لگاؤ سالے کو یہ لوگ ایسے ہی اپنی بہنوں کو پٹا کر انکا دھرم پریورتن کراتے ہیں، ان سے لو جہاد کرتے ہیں۔ وہ شخص ڈرا ڈرا ان سے کہہ رہا تھا کہ دیکھیں آپ لوگ غلط سمجھ رہے ہیں، میں کوئی ایسا ویسا کام نہیں کر رہا ہوں،
میں تو بلکہ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ پورا کرتا وہ لوگ ہاکی اسٹکس اور لوہے کی زنجیروں سے اس پر وحشی درندوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ شاید کسی نے اسکے سر پر ہاکی اسٹک سے زبردست چوٹ لگائی ،وہ چکرا کر گر پڑا اور دو تین جھٹکے لیکر ٹھنڈا ہو گیا۔ ’’مرگیا سالہ‘‘ کہکر وہ لوگ لڑکی کی طرف متوجہ ہوے، وہ ایک کونے میں کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔ اور بار بار اس گرے ہوے شخص کی طرف دیکھ رہی تھی۔ انہیں اپنی طرف آتے دیکھ کر وہ روتے روتے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی’’ بھیا آپ لوگ غلط سمجھ رہے ہیں، وہ ایک لیکچرر تھے، کسی کالج میں فزیکس پڑھاتے تھے، میں ان سے اپنے ڈاوٹس پوچھ لیا کرتی تھی،
چند دن سے وہ مجھے کچھ نوٹس لکھا رہے تھے، کیونکہ میں ایک غریب خاندان کی لڑکی ہوں اور ٹیوشن نہیں پڑھ سکتی اور یہی بات جب میں نے انہیں بتائی تو وہ صبح بس آنے سے پہلے کچھ پڑھا دیا کرتے تھے۔ وہ لڑکے ابھی بھی بپھرے ہو ئے تھے، کہنے لگے بس کر، یہ بدمعاش لوگ ایسا ہی کرتے ہیں، اور تم بھولی بھالی لڑکیاں ان کے لو جہاد کے چکر میں پڑ جاتی ہو۔ نام کیا ہے بتا، اپنے پتا کا نام اور پتہ بھی بتا۔ وہ ڈرتے ڈرتے بولی بھیا میرا نام سلمہ ہے اور ابو کا نام اسلم خان ہے، یہیں کالونی میں رہتے ہیں۔ کیا کہا سلمہ؟ یعنی مسلمان ہے، ہندو نہیں، انہیں ایسا لگا کہ  جیسے انکے جسم سے ہوا نکل گئی ہو۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور کہاکہ چلو بے خوامخواہ کے پھڈے میں ہاتھ پڑ گیا۔ وہ وہاں سے رفوچکر ہونے ہی والے تھے کہ کسی بھلے مانس کی فون کال کی وجہہ سے پولیس کی ویان وہاں پہنچ گئی۔ اور پولیس کی فوج گھیرا ڈال کر انہیں گرفتار کرلے گئی۔ بس کی روٹ تبدیل کردی گئی، جگہ پر آمد و رفت روک کر ضروری کارروائی کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھیج دیا گیا۔ لڑکی کا بیاں لیکراسے لیڈی کانسٹبل کے ساتھ اسے اسکے گھر پہنچانے کا بندوبست کرکے، انسپکٹر پولیس ویان میں پانچوں کو لیکر تھانہ چلا گیا۔ تھانہ میں انہیں لاک اپ میں بند کرکے چند ایک سوال کرکے حقیقت جاننے کے بعد وہ ان سے انکے فون جمع کروانے کو کہا۔ وہ لوگ التجا کرنے لگے کہ سر ہمیں دو ایک کال کرنے دو، ہماری سنگھٹن کے لوگ ہماری مدد کو آئیں گے۔ انسپکٹر انکی بات کو مان کر انہیں فون کرنے کی اجازت دے دیا۔ ان میں سے ایک لیڈرنما لڑکا اپنے فون سے کسی کو فون لگا کر مختصر واقعہ بتا کر اپنے پکڑے جانے اور تھانہ کا پتہ بتایا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ابھی بھائی آئیگا، بات ہوگئی ہے، سب ٹھیک ہو جایئگا۔ تھوڑی ہی دیر میں تین لیڈر نما نوجوان منہ میں پان کی پیک رکھے، ہاتھوں میں موٹی موٹی انگوٹھیاں پہنے تھانے میں نمودار ہوئے اور قدرے اکڑ سے انسپکٹر سے پوچھنے لگے ’’کیا ماجرہ ہے، لڑکوں کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے، کیا قصور ہے انکا‘‘ انسپکٹر بہت ہی تحمل سے انہیں سنا اور طنزیہ لہجہ میں کہا جا کہ اپنے لاڈلوں سے خود ہی دریافت کر لو۔ وہ لاک اپ کے قریب جاکر ان سے پوچھنے لگے اور جیسے ہی انھوں نے بتایا کہ وہ لو جہاد یا دھرم پریورتن کا چکر سمجھ کر جس لڑکی کے لئے جس شخص کو قتل کر بیٹھے وہ اسی کے دھرم کی سلمی ٰتھی۔ یہ سنتے ہی وہ تینوں اپنے سروں کو پیٹنے لگے، کہنے لگے، بے وقوفو !کس نے کہا تھا تمہیں اس پھڈے میں ہاتھ ڈالنے کے لیے۔ اگر لو جہاد کا سلسلہ ہوتا، یا دھرم پریورتن کا کچھ ہوتا تو بچانے کی کچھ کوشش کی جاتی۔ کیس کواُ ُٗچھالا جاتا۔ ہندو مسلمانوں میں نفرت بڑھائی جاتی۔ سنگٹھن کابھی
 فایدہ ووٹ بنک ذیادہ ہونے کی شکل میں ہوتا اور تمہارے کیس لڑنے میں آسانی ہوتی۔ اب تمہاری اس بیوقوفانہ حرکت سے کسی کو کچھ فایدہ نہیں اور تمہارے فیور میں کوئی کیس بھی نہیں لڑے گا۔ وہ پانچوں ان سے منت کرنے لگے کہ بھائی کچھ تو کرو، ہم اپنے دھرم کی لڑکی سمجھ کر غلطی کر بیٹھے۔ ان  تینوں میں سے ایک جو انکا لیڈر لگ رہا تھا کہا ٹھیک ہے،  ہم بات کرتے ہیں اور ضمانت وغیرہ کا کچھ بندوبست کرتے ہیں کہہ کر آہستہ سے وہ سبھی تھانے سے کھسک گئے۔
انسپکٹر نے ان سے موبائل فون جمع کروانے کو کہا تو وہ بولے ’’سر تھوڑا اور وقت دو۔ شاید ایک آدھ گھنٹے میں بھائی کچھ کرے‘‘انسپکٹرنے زیرلب مسکرا کر کہا’’ ٹھیک ہے آدھ گھنٹے کے بعد فون جمع ہوجانا چاہئے‘‘
آدھ گھنٹے کے بعد ایک لڑکے نے فون کیا، فون کی گھنٹی بج رہی تھی، کسی نے فون نہیں اُٹھایا، اسکے چارو ںساتھی امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے، وہ نفی میں گردن ہلا کر کہنے لگا کہ یارو فون نہیں اُٹھا رہا ہے۔ انسپکٹر انکے قریب کھڑا انکی باتیں سن رہا تھا، کہا بے قوفو! اب اُ ٹھے گا بھی نہیں۔ تم نوجوان لوگ بنا سوچے سمجھے سیاسی نیتاؤں کے ہتھے چڑھ جاتے ہو۔  تمہیں استعمال کیا جاتا ہے اپنا کام نکالنے تک، پھر پونچھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ تم لوگ ہزار دو ہزار روپیوں اور کچھ پینے پلانے کے شوق میں دھرم کے نام پر بھڑک جاتے ہو۔ کیا تم نے دیکھا کسی نیتا کا بیٹا تمہارے ساتھ اس قسم کے کام میں آتا ہے، نہیں نا۔ وہ تو کسی اعلی یونیورسٹی میں پڑھ رہاہوتا ہے۔ اور کیا کوئی دھرم کسی کی جان لینے کو کہتا ہے۔ اور تم لوگ کون ہوتے ہو  قانون کو ہاتھ میں لینے والے۔ تمہیں لگتاہے کہ کوئی لو جہاد کا معاملہ ہے، کوئی لڑکی کو پٹا رہا ہے، یا کوئی کسی کو دھرم پریورتن کے لیے مجبور کررہا ہے تو پرساشن کو اسکی اطلاع دیتے۔
دیکھو تم لوگوں نے ایک معصوم شخص کا قتل کردیا، سوچو، اسکے بیوی بچوں، اسکے ماں باپ پر کیا گز رہی ہوگی۔ اب بھگتو اپنے اس کئے کی سزا اور جیل کی ہوا کھانے کی سوچو، اور ہاتھ بڑھا کر بولا ’’لاؤ اپنے اپنے فون دے دو‘‘ انھوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اپنے اپنے فون انسپکٹر کے حوالے کرکے زمین پر اکڑوں بیٹھ گئے جیسے کہ ان کے جسم سے ساری طاقت چھین لی گئی ہو، اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
٭٭٭٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے