محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک
۱۔ تقریری کردار:
افسانچہ کیاتھا، ایک بھرپور تقریر تھی۔ میرے افسانچوں کے سارے کردار اس افسانچہ کے تقریری کردار پر ہنسنے لگے۔پھر ایک بونے سے کردار نے آگے بڑھ کر اس تقریری کردار سے کہا’’بہت بولتے ہو، یہاں کم بولنایاپھر نہ بولناہی کامیابی ہے، سمجھے کہ نہیں‘‘ تقریری کردار ہونقوں کی طرح بونے کردار کامنہ دیکھے جارہاتھا۔
۲۔ بغیر چیلنج کاخوف:
عورت بدظن ہوچکی تھی۔اسلئے اس نے شوہر کو چھوڑ کرپوری آزادی حاصل کرلی اوراپنے پسندیدہ فیشن کواختیار کرتے ہوئے کم سے کم کپڑوں میںاِدھر اُدھر دکھائی دینے لگی ۔ بیس تیس سال بعد وہ پوری طرح بوڑھی ہوچکی تھی لیکن اس نے اپنی کوکھ سے جو بچے مختلف شہروں میں دے کر رفوچکر ہوتی رہی تھی اسکی نسل میں ا س قدر بڑھوتری ہوگئی کہ ہر شہر میں اسی بدظن عورت کی نسل دکھائی دینے لگی۔
آج شرفاء خوف کھائے ہوئے ہیں کہ اس کی نسل کی کوئی لڑکی بہوبن کرگھرنہ آجائے۔ عورتیں بھی نہیں چاہتیں کہ بدظن عورت کی نسل کاکوئی لڑکاان کادامادبنے۔
سناہے کہ اس شہر میں خوف کو کسی قسم کاکوئی چیلنج نہیں ہے۔ لوگ خوف کی صورت دیکھے بنا ہی لرزاٹھتے ہیں۔
۳۔ قدم بہ قدم:
کوئی منہ پھٹ قسم کابدتمیز نوجوان تھا۔ اس نے کہاکہ ’’تیرے افسانچے کون پڑھتاہے بڈھے ؟ اور افسانچے لکھنے سے ہوگاکیا؟ کوئی انقلاب نہیں آنے والا ،کوئی تبدیلی تیرے منہ پر تھوکے گی بھی نہیں ‘‘
میں خاموش رہا۔ یہ دوماہ پہلے کی بات ہے۔شدید تکلیف ہوئی لیکن یہ سوچ کر خاموش ہوجاناپڑاکہ نئی نسل احمق ہے ، اس کو دنیا کا پتہ ہی نہیں ہے ۔ چوں کہ ہم نے ان کی تربیت بھی اچھی طرح سے نہیں کی اس لئے نئی نسل کے منہ لگنا درست نہیں۔ دوماہ بعدمجھ سے مل کر وہ نہایت ہی خاکساری سے کہہ رہاتھاکہ ’’سر، میں افسانچہ لکھنے کافن سیکھناچاہتاہوں ‘‘ میں کہناتو چاہتاتھاکہ کل تک میرے افسانچوں کے خلاف بکواس کرتارہا ، اس لئے تجھے کوئی ضرورت نہیں ہے افسانچے کافن سیکھنے کی لیکن میں اپنے مزاج کے ہاتھوں مجبور تھا۔ میں نے افسانچہ لکھنے سے متعلق دوتین باتیںاس کو بتادیں۔اس کو حوصلہ دیا۔ وہ موبائل سے رابطہ بھی کرنے لگاتھا۔ تین چار بڑے ہی خوبصورت اور انقلابی انداز کے افسانچے اس نے لکھ لئے تھے ۔
ایک دن میں نے پوچھا’’افسانچے کا فن سیکھ کر کرنا کیاچاہتے ہو؟‘‘ اس نے بتایاکہ وہ سماج کو بے نقاب کرناچاہتاہے ، اس پرچڑھے ہوئے مکاری اور عیاری کا نقاب نوچ پھینکنا چاہتاہے ۔سیاست کی گمراہیوں سے نوجوانوں کوہٹاکر جراء ت آمیز آفاقی سچائیوں سے واقف کراناچاہتاہے۔
میں اس کے جواب سے خوش ہوگیا۔ مجھے لگاکہ میرے مقصد کے حصول کے لئے نئی نسل میرے قدم بہ قدم چل پڑی ہے۔
۴۔ ووٹ ضروری ہے:
جب سے رام مند رکاافتتاح ہواہے ۔ ہندی اور مراٹھی نیوز پورٹل پردیگر منادر اور پتھروں کی پوجا کی ایسی ایسی سجی سجائی تصویریں سامنے آرہی ہیں، جیسے ہر بت کہہ رہاہو ،پوجاضروری ہے اسی طرح ووٹ بھی ضروری ہے۔ ووٹ دیاکرو۔ ورنہ ہم کب اس قابل تھے کہ ہمارا آن لائن دیدار کرپاتے تم ۔یادرکھو، ووٹ ضروری ہے ۔
۵۔ وہ آدمی:
وہ ایک چھوٹا ساآدمی تھا ، اس کو شہر میںکوئی نہیں جانتاتھا۔پھر اس نے اپنی خاکساری اور نرم مزاجی کے ذریعہ سبھی کادل جیتے ہوئے اپنے کاروبار کووسعت دینی شروع کردی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب پر چھاگیا۔
پھرایک دن شہر کی نبض ٹہرسی گئی جب اچانک ہی اس پر دل کادورہ پڑا۔ مختلف لوگوں کی پرارتھنا اور اس کی اپنی تپسیا نے اس کو موت کے منہ سے بچالیالیکن موت کے منہ سے واپسی نے اس کو دنیا کی سیرکے دروازے کھولنے کی ترغیب دی۔مختلف پروگراموں کی بنیاد پر اس کاقد اونچاہوتاجارہاتھاکہ اسی دوران اس نے بیرون ممالک کے دورے بھی شروع کردئے ۔ مختلف ثقافتی پروگرام کو بڑے خرچ کے ساتھ کرنے کااہتمام کیاجانے لگاتاکہ ان پروگراموں کوساری دنیا آن لائن دیکھ سکے۔
ہرپروگرام اوراس سے متعلق خبروں کی اشاعت کے ساتھ اس کے قد کی اونچائی بڑھتی چلی گئی۔ پھر وہ دن بھی آیا جب اس نے شہرت کی انتہائی اونچائی پرکھڑے ہوکر ایک اخبار کے جونیئر صحافی سے صاف کہہ دیاکہ’’ میں اخبارنہیں پڑھتا‘‘
اس جونیئر صحافی کی سمجھ میںہی نہیں آسکاکہ اس کو یوں کیوں کہاگیا ؟جب کہ آج ہی کے ایک ہفت روزہ میں اس کے کاروبار کااشتہاربھی شائع ہواہے ؟تو کیا بڑے صاحب ! اشتہار بھی نہیں پڑھتے ؟توپھریہ سب ناٹک کیوں ہے؟
