محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر، کرناٹک
۱۔ گونگی مساجد  
ان کے نزدیک شب بھر رت جگا کرنے کی رات آئی تھی ۔ وہ پوری طرح نہادھوکراور عطر لگاکر مسجد پہنچے ۔ چاررکعت نماز اداکی اور مسجد سے باہر نکل آئے اور پھر انہیں مسجدیںدیکھتی رہ گئیں۔مساجد کو زبان ہوتی تو ضرور کہتیں
’’میرے بچو!مجھے تنہاچھوڑ کر کہاں جارہے ہو۔ تمہارارت جگا بازاروں میں نہیں یہاں میری گود میں ہوناچاہیے ‘‘زبان نہ دے کر مسجد کے پیدا کرنے والے نے انھیں بے بس کررکھاتھا۔
۲۔ جوابی وار 
قانون چولے بدل بدل کر لایاجارہاتھا۔میری قوم ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ میرا بھی قوم جیسا ہی حال تھا۔ پھر ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔کسی آواز کی بازگشت تھی ’’ان جادوگروں پر (پوری طاقت سے حملہ آور ہوتے ہوئے) اپنا عصا پھینکو‘‘
مجھے اور میری داعی قوم کو اب پلٹ کروارکرناہے جوابی عصاپھینکتے ہی پھر قصہ تمام ہوگا۔ قانون کی کھال پہنے ہوئے تمام چھوٹے بڑے زہریلے سانپ ہماراطرفدارعصائی اژدہا نگل جائے گا۔
۳۔ دوبزدل 
ہم دونوں دوستوں کے ساتھ عجیب معاملہ تھا۔ وہ بزدل تھا ، بھاگ جاتاتھااورانتہائی حساس معاملات سے دور دور رہنے کی شعوری سعی کرتا۔ میں بھی بزدل ہی تھالیکن جہاں موجودہوناہوتاوہاں ضرور کھڑارہتا۔ سناہے کہ دنیا کو دوسرے قسم کے بزدل چاہیے لیکن مجھ تک لوگ نہیں پہنچے جوآکر یہ کہہ سکے ہوں کہ ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔
۴۔ ٹوٹا قلم 
اس نے اپنے مرحوم دوست پر تفصیل سے مضمون لکھااور سینے کی تکلیف کو مسلتے ہوئے قلم توڑ دیا۔یہ تو اس کاتڑپاتا ہوادل ہی جانتاتھاکہ اس نے دوست کی منفی باتیں ، اس کی عیاشیاں اوراس کی انوکھی علمی بدمعاشیوں کواپنے اس تعزیتی مضمون میں کیوں نہیں بیان کیاتھا۔ اسے لگاکہ اس نے اس مضمون کے ذریعہ خود کو سزائے موت سنائی ہے ۔ اسی لئے تو قلم توڑ دیاہے۔
۵۔ چانول  
’’بچی کی شادی ہے ، مجھے تمہارے پیسے نکو۔۔۔۔۔۔کووووچ نکو۔۔۔۔۔۔۔ صرف اتتا کرو ، ایک تھیلا چانول کا دِلا دیو ، اور اپنے پیسے اپنے پاس رکھ کو چھوڑو‘‘
کتنی عظیم خاتون ہے، اس کو پیسے بالکل بھی نہیں چاہیے ۔ ایسی مہان ہستیوں سے آپ لوگوں کی ملاقات بھی ضرور ہوئی ہوگی ۔ اور انھیں سلام کرناآپ لوگ پسند کرتے ہوں گے۔ سلام نہ کرنے کو بداخلاقی اور سلام کرنے کو اسلامی تہذیب کامعقول التزام کہتے ہیں ۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے ، پیسے دیتے ہیں کہ چانول
۶۔ پانسات افراد
ان پانسات افراد نے بہت زیادہ پیسہ کمایاتھا۔ اس قدر پیسہ کمایاتھاکہ ان کے پاس پیسے کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتاتھا۔ وہ پانسات افرادسے کہاگیاکہ حکومت کے غلط اقدامات بلکہ غریب مخالف اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے میں مدد کریں ۔انھوں نے صاف جواب دے دیاکہ ’’ہم سے کسی قسم کی امید نہ رکھیں ۔تمہاری مددکرنے سے ہمارے کاروبار پر حکومت کی گاج گرے گی‘‘
ان کے ساتھ نہ دینے کے باوجود بھی حکومت کے کالے قوانین کے خلاف جدوجہد جاری رہی ۔ پھر وہ دن بھی آیاجب حکومت تبدیل ہوئی اور ان پانسات افراد کو پچھتاوؤں کے ٹنڈر پر اکتفا کرنا پڑا۔
۷۔ رہنمائی ونیکی 
مذہب کے حوالے سے کبھی اس کو تکلیف نہیں ہوئی لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد وہ محسوس کررہاتھاکہ اس کے ملک کی زمین اس پر تنگ ہوچکی ہے۔ چاروںجانب سے مسائل کاایک نہ تھمنے والا طوفان اٹھ کھڑا ہواہے۔ اور وہ اس طوفان میں کسی ابھیمنیوکی طرح گھراہواہے۔
پھرجانے کیاہواکہ اس نے ایک تنظیم کھڑی کی جس کا نام ’’کھیلو اور جیو‘‘ رکھا۔ جس کے تحت نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت کی جاتی رہی تاکہ نوجوانی داغدار نہ ہواور دشمن کاوارپیٹھ پرنہ کھایاجائے۔ تنظیم’’کھیلواور جیو‘‘تیزی سے شہرت حاصل کرتی جارہی ہے اور میں سوچ رہاہوں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نیاکام کرتے ہوئے رہنمائی کی جاسکتی ہے اور بھرپورنیکی کمائی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے