محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ پرلوکی چیرمین
مچھر میرے ہاتھ اور ناک کے دشمن بن چکے تھے۔ میرے جسم کے ان دومقامات پر وہ پے درپے حملہ کیاکرتے تھے۔ کبھی کبھی میری موٹی اور بھدی ٹانگیں بھی مچھروں کے حملہ کاشکار ہوجاتی تھیں۔
جس وقت میں بلدیہ چیرمین کے پاس مچھروں کی شکایت لئے پہنچاتو چیرمین صاحب اپنے اے سی چیمبر میں کرسی پرشاید قیلولہ فرمارہے تھے۔میں نے آوازدی ۔وہ جاگے نہیں ۔ قریب جاکرمیں نے انہیں ہلاجلاکراٹھانے کی کوشش کی ، لیکن اُن کاایک ہاتھ کرسی سے نیچے لٹک گیا۔ ناک بھی ٹیڑھی ہوچکی تھی اور پاؤں بھی پھیلے ہوئے تھے۔پھرتوفوری طورپر ڈاکٹر کو بلایاگیا۔ ڈاکٹر نے ان کاچیک اپ کیااور بری خبر سنائی کہ ’’چیرمین صاحب پرلوک سدھار چکے ہیں ‘‘
بعدمیں پتہ چلاکہ وہ کسی خطرناک قسم کے مچھرکے حملے میں اچانک ہی فوت ہوگئے تھے۔محکمہ صحت اب اس قاتل مچھرکی تلاش میں لگ چکا تھا۔
۲۔ بلی کی سوچ
بلی نے پلٹ کر مجھے د یرتک دیکھا۔ پھراسی اسٹائل کے ساتھ اس نے اپنی راہ لی۔ سوچ رہاہوں کہ مجھے اتنی دیر تک دیکھ کر آخر بلی نے کیاسوچاہوگا؟
۳۔ بے روزگارشوق
شہر میں کرنے کے لئے کچھ نہیں بچاتھا۔ تنگ آکر Gymجوائن کرلیاگیا۔ بے روزگاری بھی کیاکیادِن دِکھاتی ہے
۴۔ اپنی ڈفلی
اس کو ہمیشہ اپنی غزلیں سنانی ہے تاکہ میری رائے لے سکے۔ ایک دِن بھی اس نے یہ نہیں کہاکہ یار! تمہاری اپنی غزلیں سنانے کوتمہارا دل بھی کرتاہوگا، آج تم اپنی غزلیں سناؤ۔ لوگ اپنی ڈفلی بجاتے نہیں تھکتے ۔دوسروں کی ڈفلی بجانے کے لئے وقت کہاں سے نکال پائیں گے ۔
۵۔ بھلی خاموشی
میں افسانچوں کی فصل کاٹ رہاتھا۔ بوائی سے لے کر فصل کی کٹائی تک ہاتھ زخمی ہوئے اور اکلوتا دِل بے شمار مرتبہ چھلنی چھلنی ہوا ۔ یہ سب کس کو بتایاجائے ؟سوخاموشی بھلی ۔ میں ہوں اور افسانچوں کی فصل بہر حال کاٹ رہاہوں ۔
۶۔ کھویاہوا نمبر
چہرہ تو یادہے ، نام یادنہیں ہے۔
AI والے اکیسویں صدی میں بھی ایسا ہورہاہے کہ میں گذشتہ دوماہ سے ہر دوسرے تیسرے دن اپنے آئی فون میںاس چہرے کانمبر تلاش کررہاہوں، لیکن نمبر ہرگز ہرگز نہیں مل رہا ہے۔ مجھے اس نمبرپر فون کرکے صرف اتناکہناہے کہ مجھ سے شادی کرلو، خوش رہوگی۔ ماضی کو بھلاکر مستقبل کی تعمیر ممکن ہے ۔پھول کوچمن میں لگاہونا چاہیے کچرا کنڈی میں پڑا رہنا نہیں چاہیے۔
۷۔ اقدام دراقدام
رِسک کے نام پر گوکھالیاگیاتھا۔ اس اقدام کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اس کے لئے مجھ تک بھی پہنچنے کے لئے سوچاگیا لیکن حوصلہ نہ ہوسکا۔ کیوں کہ ناخدا ئی رکھنے والے لوگ مجھے خدا کہتے ہیں۔
۸۔ ہموارکرنے والا
اس نے اپناتعارف کروایاکہ ’’میں حروف چھاپتاہوں ‘‘پھرتو مجھے بھی اپناتعارف کرواناپڑا’’خاکسارنے حرف حرف جوڑنے میں اب تک اپنی زندگی لگادی تاکہ انسانی زندگی کوہموار راستہ مل سکے ‘‘
۹۔ دستارگر نوحہ
دستار پہن کر گھرسے باہر جانے والے گھر آتے ہی اپنی دستار اُتار دیتے ہیں۔ اب دستار کی بے گھری کانوحہ کون لکھے گا۔
۱۰۔ کتا قسمت
عجیب معاملہ تھا۔ شیرکی سواری کرنے والے گدھوں کی ڈھینچوں ڈھینچوں سے خوف کھانے لگے تھے۔ پھروہ کتوں کے حوالے کردئے گئے
۱۱۔ فائدے کی قربانی
گاؤں میں رہنے کاایک فائدہ یہ تھاکہ وہاں حسدسے لے کر جنازے میں شرکت تک نقصان کم سے کم ہوتاتھا۔ اس کے باوجود ترقی کے نام پر گاؤں چھوڑکرلاکھوں افراد کاسمندر رکھنے والے شہرتک پہنچناپڑا۔
۱۲۔ نگیٹیوجھنڈا
سنڈاس کھانے کی عادت پڑچکی تھی۔ لہٰذا تاویلات کی سولی پرخوشی خوشی چڑھ کرفسطائیت کی تصویر کانگیٹیوجھنڈا اٹھالیاگیا۔ خفیہ فسطائیت زندہ باد
۱۳۔ غیرمؤثر
پوری قوم میں بزدلی کازہر سرایت کرچکاتھا۔ اسلئے انھیں اپنے قائدین کی باتیں اچھی نہیں لگیں۔ اب کی بار انھوں نے پوری قیادت ہی کو مستردکردیاجس کے نتیجے میں قوم بھی غیرمؤثر ہوکر رہ گئی ۔
۱۴۔ 140
وہ جملہ 140تھے۔ سچ کو جانتے تھے لیکن سب کے سامنے سچ کہنے کایارا نہیں تھا۔ وقت کا مؤرخ انھیں ٹُکر ٹُکر دیکھے جارہاتھا۔
۱۵۔ پوجاپاٹ
حضرت جلال الدین بزرگ کی ویڈیوکلپ پر نظر پڑی ۔ کہہ رہے تھے ’’حوصلہ شکن حالات ہی میں پیمبر بھیجے جاتے ہیں۔ تمہیں بھی حوصلہ شکن حالات کے ساتھ جنگ لڑنی پڑے گی کیوں کہ تم اس دور کے پیمبر ہو اورایک خدا کی طرف دعوت دینے کے مکلف بنائے گئے ہو ‘‘میں نے حضرت جلال الدین بزرگ کو فون کیا ۔ ان سے وقت مطلوب تھا۔ انھوں نے فوراً اپنے گھربلالیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ میرے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ’’بظاہر ناامید کردئے جانے والے حالات ہی کے درمیان حقائق سے معمور یہ پیغام پہنچاناپڑے گاکہ انسانوں کاایک خالق ومالک ہے۔ وہی اکلوتی ہستی عبادت کے لائق ہے ۔ اس کانام لے کر لاکھوں کروڑوں اصنام کی پوجاپاٹ نہیں کی جاسکتی ۔ یہ شرک ہے اور شرک اللہ پر ظلم ہے ‘‘
مجھ سے رہانہیں گیا۔ میں نے پوچھا’’ اللہ پرظلم ،مولاناوہ کس طرح ؟‘‘ مولانا مسکرادئے اور کہاکہ’’خدا ایک ہے ۔اگر اس کو لاکھوں کروڑوںچھوٹے چھوٹے خودساختہ خداؤں میں بانٹ دیاجائے تو یہ اللہ پر سراسر ظلم ہوگا‘‘میں نے پوچھا’’اس کاعلاج ؟‘‘ مولانا نے کہا’’مشرکین تک خدائے واحد کی دعوت پہنچائی جائے اورانھیں بتایاجائے کہ جس طرح باپ کو چھوڑ کر دوسرے تمام انسانوں کو باپ نہیں کہہ سکتے ،اسی طرح ایک خدا کو چھوڑ کر دوجا کوئی خدانہیں ہے اور پوجاپاٹ کے لائق وہ تنہاہستی ہے جس نے ہم سب کو پیداکیا ہے ‘‘
۱۶۔ کالے پہاڑ
’’کالے اکشروں سے ڈرتے ہویا متحرک تصویروں سے ؟‘‘ یوپی ایس سی میں سوال کیاگیاتھا۔ امیدوار ذہین تھا اس نے ایک لمحہ توقف کیاپھر کہنے لگا’’اس میں کوئی شک نہیں کہ متحرک تصویریںخواب سے زیادہ خوف پید اکرنے کامخزن ہیں لیکن انسان کوکالے اکشروں سے ڈرناچاہیے کہ یہ کالے پہاڑ کبھی بھی لاوااگل کر پوری بستی کو نیست ونابود کرسکتے ہیں ‘‘
امیدوار کے جواب کی تعریف کی گئی مگر اس کو فیل جیسی خفت کاسامناکرناپڑا۔ اس لئے کہ سوال اس کے اپنے بارے میں کیا گیاتھا۔ لیکن جواب کو خود تک محدودنہ رکھتے ہوئے پھیلا کر سبھی افراد کو اس میں شامل کرنے کی فاش غلطی امیدوار نے کی تھی۔
