محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ سوچنے اور جوڑنے والی مشین
’’آپ کابچہ اچھی صحبت میں نہیں ہے ‘‘ میں نے انہیں بتادِیا۔ جس کاکوئی اثر ان پر نہیں ہوا۔ انھوں نے کوئی ایکشن اپنے بچے کے خلاف نہیں لیا۔ میں نے پانچویں دن پوچھا ’’ایسا کیوں حضرت؟‘‘ بولے ’’رات دن موبائل کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہے کہ وہ انسانوں کی صحبت میں رہے۔آج نہیں توکل وہ ان برے انسانوں کاساتھ چھوڑ کراچھے انسانوں میں جابیٹھے گا‘‘
میں نے حیرت واستعجاب سے پوچھا’’کیابچہ موبائل کی صحبت ترک نہیں کرسکتا؟ اس تعلق سے بھی اچھااچھاسوچیں ‘‘ حضرت بولے ’’انسان سوچ سمجھ کر کام کرنے اور تعلقات جوڑنے والی ایک خدائی مشین ہے جبکہ موبائل صرف اپنی طرف کھینچنے والی انسانوں کی بنائی مشین ہے ، اس فرق کی بناپر مجھے توقع ہے کہ میرالڑکا آج نہیں کل ضرور اچھائی کی طرف دوڑے گا‘‘
حضرت نے اور بھی بہت کچھ کہا لیکن میرے دماغ کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی کہ انسان سوچ سمجھ کر کام کرنے اور تعلقات جوڑنے والی ایک خدائی مشین ہے۔
۲۔ آجائیں
میں تھک کر اِدھر مسجد میں آبیٹھاہوں۔ آپ بھی تھک چکے ہوں تواندر آجائیں۔
تھکے نہیں ہیں تو پھرمسجد کے باہر دوڑتے بھاگتے رہیں جو کہ آپکی قسمت ہوگی۔ اب کون خوش قسمت ہے اس کافیصلہ بعدازموت ہوگا۔
۳۔ وائرس پھیل گیا
ماں نے باپ کے متعلق بچوں کو سمجھادیاتھاکہ تمہاراباپ ایک ناکارہ شخص ہے ۔ اس بات کااثرلڑکوں سے زیادہ لڑکیوں نے قبول کیاتھا۔ نتیجہ یہ ہواکہ باپ سے بیٹیوں نے وہ محبت نہیں کی جس کی باپ کو ضرورت تھی۔باپ کو احساس بھی تھاکہ میری بیٹیاں اس طرح مجھے نہیں چاہتی ہیں جیساکہ چاہنے کاحق ہے۔
جب بیٹیاں اپنے اپنے گھر کی ہوگئیں تو وہاں بھی اپنے اپنے شوہروں کے ساتھ اس قدر محبت کارویہ نہیں اپناسکیںجیساکہ شوہرکاحق تھا۔ دراصل ماں کا پھیلایاہوا نفرت کاوائرس باپ سے ہوتاہوا شوہر تک پہنچ چکاتھا۔
۴۔ بے بدل فیکٹری
’’اللہ نے سوچنے کی پوری فیکٹری انسان کے دماغ میں فٹ کررکھی ہے ۔ اگر سوچنا چاہوتو فیکٹری کام کرے گی اور اگر سوچنانہیں چاہتے تب بھی وہ فیکٹری اپنے طورپر کام کرتی ہے‘‘رؤف کالا نے کہاتو مجھے اچھالگا۔
میں نے پوچھا ’’ایسا کیوں کالے بھائی ‘‘ اس نے کہا’’گورے بھائی ، ایسا کیوں مجھے نہیں معلوم لیکن اس فیکٹری کو صرف اللہ رب العزت ہی بندکرسکتاہے۔ کوئی سیاست دان نہیں ۔ کیوں کہ انسانی دماغ کوئی شوگرفیکٹری نہیں ہے کہ سیاست دان کچھ بھی الزام لگاکراس کوبآسانی بند کرسکیں۔یہ ایک بے بدل فیکٹری ہے ‘‘ میں ہونقوں کی طرح کالے کی باتیں سنتاجارہاہوں ۔
۵۔ مٹانے کی قسم
نامِ خدا پر ان کے درمیان نفرتیں اُگ آئیں۔ عجیب لوگ تھے۔ فتوے ، گالیاںاور چھری چاقوسبھی آپس میںایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے تھے۔ اور جب نفرتوں کی یہ فصل بہت زیادہ اونچی ہو گئی اور پکنے کے قریب آگئی تو ایک دوسرے کے معبد خانوں میں بم لگائے جانے لگے ۔پھر توشہداء اور زخمیوں کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا۔
وہ دنیا کے سب سے زیادہ سچے مذہب کے پیروکارتھے۔ جواس دنیا کو پیارمحبت اور رب کاپیغام ِابدی سنانے کے لئے دنیا میں بھیجاگیاتھا۔ اورہاں ! ابھی ابھی اطلاع آئی ہے کہ ان کے علمائے کرام نے ایک دوسرے کو نیست ونابود کرنے کی قسم کھائی ہے۔اوراس کے لئے یہودونصاری کاساتھ لینا بھی گواراکرلیاہے۔
