انوار الحق قاسمی
(رکن سماج وادی مسلم سنگھ نیپال)

یقینا ہندوستان کا موجودہ منظر نامہ ،انتہائی دل آزار ہے۔ گزشتہ کل جمعہ کو ہندوستان سے دل و دماغ پر یک قلم سکتہ طاری کردینے والی خبر،جوں ہی نظروں کے سامنے آئی،معا میرے دل و دماغ پر بے چینی چھاگئی۔ وہ بےچین کن خبر یہ تھی کہ”دہلی کے اندر لوک میں واقع مکی مسجد میں دوران نمازِ جمعہ اس وقت ہنگامہ آرائی ہوئی،جب سڑک پر نماز ادا کرنے میں مصروف نمازیوں پر ایک پولیس اہلکار نے پہلے دھکا مکی کی،پھر نمازیوں کو لاتوں اور گھونسوں سے مارا”۔یہ منظر دیکھ کر وہاں کھڑے لوگوں نے پولیس اہلکار کو ایسا کرنے سے روکنا چاہا؛مگر پولیس اہلکار نے وہاں کھڑے لوگوں کے ساتھ بھی بدتمیزی اور مارپیٹ کی،جس کے بعد ہنگامہ شروع ہوگیا۔
اس صدمہ کن خبر سے واقعی مسلمان صدمہ میں ہیں اور کف افسوس ملنے پر مجبور ہیں اور ان کے دلوں سے یہ صدائیں نکل کر ہندوستان کے درو دیوار سے کہہ رہی ہیں کہ کیا ہندوستان میں مسلمان ہونا،اتنا بڑا جرم ہوگیا ہے کہ اب مسلمانوں کا مقدر،بس لات اور گھونساہوگیا ہے؟؟
مجھے لگتا ہے کہ ان صداؤں کے جواب میں،بس یہی جواب آئے گا کہ ہاں ‘اب مسلمانوں کا مقدر، بس لات اور گھونسا ہی رہ گیا ہے۔
ہندوستان کے عزیز مسلمانوں سے میری بس یہی گزارش ہے کہ واقعی اگر آپ عزت و شوکت کی زندگی جینا چاہتے ہیں اور عظمت رفتہ کو بحال کرنا چاہتے ہیں،تو پھرچاپلوسی اور خصیہ برداری چھوڑنے میں بالکل دیر نہ کریں اور خود اپنی ایک سیاسی پارٹی بنا کر اسے مضبوط کریں یا اسد الدین اویسی صاحب کی پارٹی ‘مجلس اتحاد المسلمین ‘ہی کو مضبوط تر کرنے کی سعی کریں!
اور اپنی مظلومیت کا شکوہ کرنا،ظالموں سے چھوڑ دیں؛کیوں کہ آپ کے شکوے، ان کے لیے آپ پر ظلم وبربریت کے لیے مزید معین ثابت ہوتے ہیں،جس سے آپ کی بے چارگی اور بےبسی کا نمایاں اظہار ہوتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے