از: محمد مقصود عالم قادری۔ اتردیناجپور مغربی بنگال-
اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے ہمارے درمیان پھر ایک بار رمضان المبارک کا عظیم الشان مہینہ ہمارے لئے اپنے دامن میں بے شمار رحمتیں, برکتیں اور مغفرتیں لیکر سایہ فگن ہونے والا ہے ,خوش بخت تو وہ شخص ہے جس نے اس ماہ کی اہمیت کو سمجھا اور اپنےرب سے اپنے گناہوں کو بخشوا کر اپنی مغفرت کرالی, اور بدخت ہے وہ شخص جس نے اس کی قدر نہ کی اور غفلت میں اس ماہ کو بھی گزار دیا۔
اکثر و بیشتر لوگ اس ماہ مبارک میں روزہ تو رکھتے ہیں,ل یکن اس کی تعظیم و تکریم اور ادب کما حقہ بجا نہیں لاتے, روزہ کی حالت میں بھی گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں,یہی وجہ کہ رمضان کے تمام تر روزے رکھ کر بھی پرہیز گاری نہیں ملتی , رمضان المبارک کی رات ودن کس طرح گزارا جائے کہ ہم پرہیز گار بن جائیں؟
تو اس کے لئے چند مفید باتیں قارئین کرام کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں , گرقبول افتد زہے عزو شرف۔
(1) اس ماہ میں گناہوں بھرے کاموں سے خوب پرہیز کیجئے کہ اسے روزے کی نورانیت چلی جاتی ہے , روزہ بھی رکھے اور گناہوں میں بھی ملوث رہے تو پھر تقویٰ کہاں سے حاصل ہوگا, جس طرح کہ ایک شوگر کا مریض اگر دوا کھائے اور مٹھائی وغیرہ سے پرہیز بھی نہ کرے تو دوا اثر کن نہیں ہوگا, اسی طرح روزے کی حالت میں بھی اگر گناہوں سے بچا نہیں تو پرہیز گاری حاصل نہیں ہوگی ,جب یہ نہ ہو تو پھر روزے کا مقصد لعلکم تتقون (تاکہ تمہیں پرہیز گاری حاصل ہو جائے) فوت ہو گیا , روزے کے مقصد کی بجا آوری کے لئے گناہوں سے بچنا بے حد ضروری ہے۔
(2)اس ماہ میں وقت کی خوب قدر کریں, موبائل ضرورتاً استعمال کریں, بازار وغیرہ میں زیادہ دیر تک نہ ٹھریں, دوستوں کے ساتھ فضول گویئ میں پورا وقت نہ نکال دیں, یعنی ہمہ وقت عبادت و ریاضت, تلاوت قرآن اور درود شریف پڑھنے میں گزاریں۔ کیا معلوم کہ یہ بابرکت وقت پھر ہمیں دوبارہ میسر آئے یا نہ آئے, لیکن آج ہمارے مسلمان بھائیوں کا حال یہ ہے خاص کر شہروں میں کہ سحری تک تو مبائل, گپ شپ اور لہو لعب میں گزار دیتے ہیں اور سحری کے بعد بارہ بجے تک سوتے رہتے ہیں ,بعض لوگ تو ٹائم پاس کے لئے لڈو وغیرہ گیم کھیلتے ہیں, اللہ ایسے لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے۔
(3)روزے کے متعلق علمائے دین سے مسائل پوچھیں,اور دینی مجالس میں شرکت بھی کریں-
(4)سحر و افطار کے وقت اپنے غریب پڑوسیوں اور رشتے داروں کا بھی خاص خیال رکھیں-
(5)اس ماہ میں اپنے مال کے زکوٰۃ اور نفلی صدقات کے ذریعہ مدارس کا بھرپور تعاون کریں-
(6)اس مہینے میں پانچوں وقت کے نماز باجماعت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تلاوت قرآن اور قضا نمازوں یا نفل نمازوں کی بھی خوب کثرت کریں-
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہ کی صحیح طور پر تعظیم و تکریم کرنے اور خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے-
آمین بجاہ النبی الامین صلیٰ اللہ علیہ وسلم –
