سہارنپور(احمد رضا): بروز جمعہ جس پولیس اہلکار نے نماز پڑھتے ہوئے افراد کو ٹھوکریں ماری تھیں اس کی حمایت میں ہندو شدت پسند دہلی پولیس ہیڈ کواٹر پر مظاہرہ کر رہے ہیں، ممبئی کے بیشتر علاقوں میں متھرا اور کا شی ابھی باقی ہے کے نعروں سے مسلم آبادی کو خوف زدہ کیا جا رہا ہے، سرکاری مشینری خاموش ہے وہیں ہریانہ سے اتراکھنڈ آکر بٹو بجرنگی جیسا شرپسند مسلم دشمن گروہ کا سرغنہ مسلم طبقہ کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ اترا کھنڈ سرکار تماشائی بنی ہے، وہیں بھگوا لباس میں ملبوس شدت پسند لوگوں کے ذریعہ لگاتار مسلم افراد کو اپنے ظلم و ستم کا شکار بنانے میں سرگرم ہیں لیکن سرکار صرف اور صرف ایک طرفہ مسلم افراد کے خلاف ایکشن لے رہی ہے۔ ہندو شدت پسند افراد کا قصور ہونے پر بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے! سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے حالات حاضرہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ حالات کو امن و استحکام کے لئے نقصان دہ بتاتے ہوئے کہا کہ سرکار کو مضبوطی کے ساتھ تعصب پھیلانے والے افراد کے خلاف ایکشن لینا چاہئے، یہ ملک کسی ایک مذہب کی جاگیر نہیں، یہاں سبھی کو آئین کے مطابق زندگی گزارنے اور رہنے سہنے اور کام کاج کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ اگر فرقہ پرست طاقتیں سوچتی ہیں کہ وہ مسلم آبادی کو غلام بنا کر اس ملک پر قبضہ کر سکتی ہیں تو یہ بڑی بھول ہے، یہ ملک ہم سب کا ہے یہاں کا آئین سب سے مقدم ہے!
سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ لوجہاد، اذان، حجاب، حلال کٹ جیسے مدعوں پر سیاست کرتے ہوئے ملک بھر میں ہندؤں اور مسلمانوں میں نفرت پھیلانے کے لئے ہندو شدت پسند افراد کی طرف سے لاکھ کوشش اور سازشیں رچائی گئیں مگرعوام نے حاسدوں اور نفرت پھیلانے والے افراد کی نفرت اور حسد پرمبنی سبھی سازشوں کو درکنار کر اچھا سبق سکھا دیاہے، جگہ جگہ عوام ان کی پالیسیز کےخلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے کو مجبور ہیں، بیروزگاری اور مہنگائی نےعوام کا چین اورسکون چھین لیا ہے، اس کوشش میں بھلے ہی بی جے پی کو ناکامی ہوئی اور انہیں ریاست کی عوام نے نفرت پھیلانے کے بدلے آپسی اتحاد کے سامنے ٹھکرا دیا تھا، اب پارلیمانی انتخابات قریب آتے ہی پھر ایک مرتبہ بھاجپا کے اقتدار والی ریاستوں میں علانیہ تعصب کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، ہندوؤں اور مسلمانوں میں نفرت کی آگ لگانے کی کوشش ہورہی ہے جہاں اترپردیش میں مساجد مدارس عربیہ اور مزارات پر حملہ تیزی کے ساتھ جاری ہیں وہیں اب حلال گوشت ، حلال اشیاء اور جھٹکہ گوشت کے نام سے سیاست ہورہی ہے مرکزی وزیر بہار میں جھٹکہ کی دکان کا افتتاح کرنے میں مصروف ہیں وہیں کرناٹک میں بھی ان دنوں ایک نیاشوشہ چھوڑا گیاہے وہ یہ کہ ہندوئوں کا ٹیکس ہندوئوں کیلئے ہونا چاہئے نہ کہ مسلمانوں کےحق میں استمعال کیا جائے۔ دراصل بھاجپا لوگوں میں یہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش میں ہے کہ کرناٹک کی کانگریس حکومت مسلمانوں کو خوب مال لٹا رہی ہے اور ہندو افراد کی جانب سے ادا کئے جانے والے ٹیکس کو مسلمانوں کیلئے خرچ کیاجارہاہے۔ دیکھاجائے تو اس دفعہ کرناٹک کی حکومت نے اپنے بجٹ میں 01 فیصد سے بھی کم کا بجٹ اقلیتوں کے فلاحی کاموں کے نام کیاہے، باوجود اس کے سنگھ پریوار اس کوشش میں ہے کہ مسلمانوں کو نشانہ بناکر ٹیکس کا مدعہ کھڑا کیا جائے۔ سنگھ پریوار کا کہنا ہے کہ رام کے نام پر وصول ہونے والا ٹیکس رحیم کو دیا جا رہا ہے، یعنی کہ ہندو افراد اور ہندو مندروں سے جو ٹیکس وصول ہو رہا ہے، اُس ٹیکس کو مسلمانوں اور اوقاف سے منسلک اداروں کو دیا جا رہا ہے۔ ریاست میں سنگھ پریوار اسی مدعے کو ہوا دیتے ہوئے اگلے پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں و ہندو افراد کے درمیان منافرت پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔
واضح ہوکہ کرناٹک میں مجرائی محکمہ جو ہندوئوں کے مندروں کی دیکھ بھال کرتاہے اور اس کی آمدنی کا حساب رکھتاہے،اس کے مطابق مجرائی محکمہ سے کرناٹك سرکار کو سالانہ450 کروڑ روپئے کی آمدنی ہے،جبکہ اس کے اخراجات آمدنی سے بہت زیادہ ہیں وہیں اوقاف کی املاک ریاست کی بیش قیمتی وراثت ہے،اس کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے اگر کچھ بجٹ جاری ہوتاہے تو اس میں بُرائی ہی کیا ہے یہ اربوں کی قیمتی زمین ہے جو سرکار کو مضبوطی فراہم کرتی ہے لیکن سنگھ پریوارکی طر ف سے مسلسل اس فنڈس کو لیکر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں جو صرفِ مسلم آبادی سے نفرت کا نتیجہ ہے کرناٹک میں اس وقت سنگھ پریواریہ دعویٰ کررہی ہے کہ ہندوئوں کا ٹیکس مسلمانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے استمعال جارہاہے غور طلب ہے کہ اس ریاست کی ترقی کیلئے جہاں ہندو افراد کی محنت ہے وہیں مسلمانوں کی بھی قربانیاں اس ریاست کی ترقی اور خوشحالی میں شامل ہیں،اگر سنگھ پریواریہ سمجھ رہاہے کہ اگر ہندو افراد کے ٹیکس سے یہ ریاست ترقی کررہی ہے توانہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر سال عرب ممالک سے جو ہزاروں ارب روپیوں بھارت کو مل رہے ہیں،سال2019 میں50 بلین ڈالرس کی رقم بھارت کو دستیاب ہوئی تھی،جبکہ 110 بلین ڈالر23-2022 میں ملے ہیں،یہ رقم ہندوستانیوں نے عرب ممالک سے کما کر بھارت کو بھیجے ہیں۔اس میں سے70 فیصد بھارتی مسلمان ہیں تو کیا مسلمان اس بات کا دعویٰ کرینگے کہ جو رقم ہم نے بھارت کو روانہ کی ہے،اُس رقم کا فائدہ صرف مسلمانوں کو ہی دیاجائے۔بھارت میں کئی ایسی کمپنیاں ہیں جو مسلمانوں کی ملکیت میں شمارہوتی ہیں، کرناٹک میں لولو،بیریز،پرسٹیج جیسی کمپنیاں سالانہ حکومت کو کروڑوں روپیوں کا ٹیکس اداکررہی ہیں تو کیا ان کمپنیوں کے مالکان اس بات کا دعویٰ کرینگے کہ ہماراٹیکس صرف مسلمانوں کو اداکیاجائے۔
سنگھ پریوارکی طرف سے ہندوئوں کا ٹیکس، مسلمانوں کا ٹیکس کا جو ٹیاگ لگایاجارہا ہے وہ دراصل حماقت اور آنے والے پارلیمانی انتخابات کیلئے صرف ایک مدعہ ہے اور اس مدعے کو سامنے رکھتے ہوئے سنگھ پریوارپارلیمانی انتخابات میں نفرت کی سیاست کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ ان حالات میں مسلم دانشوروں اور تنظیموں کو ان کے اس متعصبانہ مدعوں کونظراندازکرنے کے علاوہ اس کا ردِ عمل ظاہرکرنے کی ہرگز بھی ضرورت نہیں ہے!
