زین العابدین بن عبدالرحمن 

جس درد کو میں محسوس کررہا ہوں وہ باقی لوگ بھی کررہے ہیں یا نہیں مجھے نہیں معلوم، مگر بھوک اور بچوں کی محبت کیا ہوتی ہے؟ میں بحثیت انسان اور باپ سمجھ سکتا ہوں ۔ اس رمضان میں بھی فلسطین کے اس قدر نازک حالات کو دیکھ کر دل رو پڑتا ہے، بس دل سے ان کے لئے دعا نکلتی ہے اور ظالموں کے لیئے بد دعا۔

اسرائیل کی چھوٹی سی تعداد ڈیڑھ سو کروڑ مسلمانوں کو تماچہ بہت پہلے مار چکی ہے، اب للکار کر مار رہی ہے، کرلو جو کرنا ہے۔ عرب ممالک کے پاس اتنی تو طاقت ہے کہ متحد ہوکر جنگ کر نہیں سکتے تو کم از کم روک ضرور سکتے ہیں۔ مگر یورپ کا کلچر , یورپ کی ترقی ان کے اندر شدت سے بھوک پیدا کردی ہے اور وہ اسی میں مست ہوگئے، دو دو، تین تین، چار چار بیویاں چاہئے سیکس کے لئے اور کھانے کے لئے اعلی ترین غذا و گوشت چاہئے اور اعلی ترین محلات گاڑیاں بس اسی میں کھو گئے اور بھول گئے کہ نبیﷺ مع اصحاب رسولﷺ کی کتنی جانی و مالی قربانیوں کے بعد اسلام پھیلا تھا اور اسلام کو غلبہ اسی سر زمین عرب میں حاصل ہوا ہے ۔

دوسرے ممالک کیا کررہے ہیں اور کیا نہیں کررہے ہیں اور کیوں نہیں کررہے ہیں؟ ہمیں فرق نہیں پڑتا ہے مگر تم تو اسلام کے علمبردار بننے کا دعوی کئے ہو , قران تمہارے پاس، زبان تمہارے پاس، مکہ و مدینہ تمہارے پاس، بے انتہا دولت و طاقت تمہارے پاس، پھر تمہاری خاموشی ان ننھے منے بچوں کی جانوں کے وقت کیوں ؟ ایمان والا ایمان والے کا بھائی ہے، یہ اللہ کی تعلیم کیوں بھول رہے ہیں؟ کیا تم خونی بھائیوں کے ساتھ ایسا ظلم، ایسے طاقت کے باوجود بھی برداشت کرتے ؟ اگر نہیں تو اسلام میں ایمان کے رشتہ کو خون کے رشتہ پر فوقیت حاصل ہے، پھر کیوں خاموش ہیں ؟ در اصل نہ ایمان باقی رہا، نہ اصل اسلام۔ بس دنیا کے ہوکر رہ گئے ہیں اور من مانی اسلام پر عمل کرکے خوش ہیں ۔

اے اللہ تونے کفار کے مقابلے میں، یہود و نصاری کے مقابلے میں پہلے بھی مدد کی تھی، جب ان کا کوئی سہارا نہیں تھا تب تو سہارا بنا تھا، تو نے ان کو فتح دی تھی، تیرا کلام ہم پڑھتے ہیں، تیرا فرمان ہمیں آج بھی یاد ہے کہ جب تو نے کہا تھا:

فلم تقتلوهم ولكن الله قتلهم وما رميت إذ رميت ولكن الله رمی

مولائے کریم آج ظالم معصوموں پر ٹوٹ پڑے ہیں، ان کے ظالموں کے اندر کوئی رحم باقی نہیں رہا اور دنیا خاموش ان کے ظلم کا اور معصوموں کے موت کا تماشہ دیکھ رہی ہے، مولا تو فلسطین کے مظلوموں کا سہارا بن جا، تو ان کا حقیقی مددگار بن جا، تو اپنے غیب سے ان کی مدد کر یا ان کے اندر ایسی طاقت پیدا کردے کہ وہ ظالموں کا مقابلہ کرسکیں، اپنی جان کی دفاع کرسکیں، مولا تجھے تیری وحدانیت کا واسطہ، تجھے تیرے جبار و قہار کا واسطہ، تجھے تیری شان و جلال کا واسطہ، مولائے کریم اس لاچار بے بس کی دعا کو سن لے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے