محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر،کرناٹک
۱۔ حسن ِ خلع
حسن کی تعریف سبھی کرتے تھے مگر زندگی کی سنگلاخ راہوں میں حسن ِ معصوم نے جب اپنارول کم کردیا۔تو تعریف وتوصیف کے ڈونگرے بھی برسنا خود بخود کم ہوگئے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ راستے جدا ہوں گے۔واللہ جداہوں گے۔
حسن کے شیدائی یوسف کنعان کے بھائی کی طرح حسن کو کسی کنویں کے حوالے تو نہیں کیاالبتہ ’’حسن ِخلع ‘‘ کے لئے راضی ہوگئے۔ وہ حسن اب بھی یادآتا ہے مگر کیاکیجئے کہ حسن ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ اناجب بھنگ پی لیتی ہے تو اس کی ہربات بلاچوں وچرا ماننی ہی پڑتی ہے۔شاید زندگی اسی کو کہتے ہیں کہ آپ پر اپنا اختیار نہیں ہوتا۔ بے بسی رقص کرتی رہ جاتی ہے۔
۲۔ میدانِ بدر
ایک کال تھی، کوئی نوجوان کہہ رہاتھا’’سر،میدانِ بدرکاپیغام نوجوانوں کے لئے چاہیے ، براہ کرم آپ ہمیں اس تعلق سے تفصیل سے بتائیں ‘‘
میری سمجھ میں ہی نہ آسکاکہ کون نوجوان ہے ، راست پوچھ کر نوجوان کو دُکھی کرنا نہیں چاہتاتھا۔کہیں وہ یہ شکایت نہ کردے کہ سرنے مجھے نہیں پہچانا۔
میں نے البتہ بہانہ بنالیاکہ’’اب مجھے پڑھنا پڑے گاکہ میدانِ بدر کاکیاپیغام ہے ؟‘‘ اچانک ہی ذہن میں آیاکہ جنگ ِ بدر یامیدانِ بدر ؟ میں نے
نوجوان سے فوری وضاحت طلب کرلی۔ نوجوان نے کہا’’میدانِ بدر‘‘عنوان سنتے ہی میراموڈ بن گیا۔ میں نے کہا’’میں آرہاہوں ، ان شاء اللہ تفصیل سے
بتاؤں گاکہ میدانِ بدرکاپیغام نوجوانوں کے لئے کیاہے ‘‘دراصل مجھے ہمیشہ ہی ’’میدان ِ عمل‘‘ سے دلچسپی رہی ہے ۔چاہے میدان وہ جنگ ہی کا کیوں نہ ہو۔
۳۔ آوازِ حشر 
راز اس قدر گہر اتھا کہ جاننے والا جھنجلاجائے۔ راز نہاں تک پہنچنے کے لئے ہزار وں سال لگ گئے لیکن پتہ نہ چل سکاکہ ملاقات میں دید کا ارمان
پورا ہواتھاکہ نہیں۔
بڑی تلاش ، تحقیق وتدقیق کے بعد بھی گہرہاتھ نہ لگا۔دورائیں سامنے آئیں ۔ ایک یہ کہ سناٹا ہی سناٹا ہے۔ دوسری رائے صدفیصددید سے متعلق
تھی ۔ دونوں رائیں چل رہی ہیں۔ ہزاروں سال سے یہی دوباتیں سمجھی جارہی ہیں لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ تیسری بات حشر میں سامنے آئے گی لہٰذا
میدانِ حشر کااور آوازِ حشر کا انتظارکرو۔
۴۔ خوف ،ڈر ،اور واپسی 
اس نے جھوٹ کہہ دیاکہ وہ آنے سے مجبورتھا۔ اس کو 40سال کی جدائی میں سمجھ میں ہی نہیں آسکاکہ اس کوایسا کیاکرناہوگاکہ جس سے دل کوقرار
آسکے۔
واپسی ہی قرار دے سکتی تھی لیکن چاردہائیوں تک واپسی ٹالی گئی ۔ بہانے کے کندھوں پر سوار کرواکرواپسی کو روکاگیاتھا۔ چاردہائیوں بعد وہ گھرواپس
پہنچاتو محسوس ہواکہ سناٹا کہہ رہاہے کہ جہاں سے آئے تھے وہاں کیلئے تمہاری واپسی جس قدر جلد ممکن ہویقینی بنالو۔ورنہ مارے جاؤگے ۔اوروہ ڈر گیا۔
۵۔ بادشاہ سلامت  
سیاسی گلیاروں کاکھیل اس کی سمجھ میں نہ آسکا۔ جنہیں ابجد نہیں آتی تھی وہیں اس کھیل کے ماہر سمجھے گئے۔ وہ سمجھ رہاتھاکہ ہرکوئی یہاں مجبور ہے۔ اپنی
شرطوں پریہاں کاکھیل کھیلا نہیں جاسکتا۔ اور جو آنکھیں دیکھنانہیں چاہتی یہاں وہی نظر آتاہے۔مجبورِ محض سبھی تھے اور لولے لنگڑے خوشی سے ناچ اورگارہے تھے۔ وقت
کی عجب درندگی تھی کہ جواس کو پسندنہ آئے وہ بھکاری تھا۔ اورجو پسند آجائے اس کو بادشاہ سلامت بنتے دیر نہیں لگتی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے