🖋️ مقیت احمد قاسمی گونڈوی

آج ۲۵/ رمضان المبارک جمعہ کی نماز کاپڑیا نگر کرلا ویسٹ میں پڑھنے کا موقع ملا، یہ مسجد کافی وسیع و عریض ، منقش و دیدہ زیب ہے، کافی اونچائی پے بنائی گئی یہ مسجد خانۂ خدا کی عظمت و رفعت کی شاندار شاہکار نظر آتی ہے، اس مسجد کے امام صاحب مشرقی یوپی کے ضلع گونڈہ میں واقع گاؤں بگھیلوا سے تعلق رکھتے ہیں، کافی عرصے سے اس مسجد میں اپنی شاندار امامت و خطابت کے ذریعے نہ صرف اپنی بلکہ اس مسجد کی جداگانہ شناخت کے طور پر متعارف ہیں۔

آپ کی مدلل بےباک خطابت، بہترین لب و لہجہ میں خطبہٴ جمعہ، بہترین ادائیگی اور خالص فرقانی طرز میں قرأت، نماز کے اخیر میں پُرسوز آواز میں رقت آمیز دعاء ہر عام و خاص کے دلوں کو گرما دیتی ہے، اور آنکھوں کو آنسو گرانے پر مجبور کر دیتی ہے، لوگ دُور دُور سے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنے اور آپ کی تقریر سننے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

    آج کی جمعہ میں کچھ تاخیر سے جب مسجد میں حاضر ہوا تو معلوم ہوا کوئی اور صاحب بیان کر رہے ہیں، اور بیان بھی وہی قدیم ترین موضوع پر، دوران بیان کم و بیش ۷۰/ مرتبہ بزرگوں، دوستوں دہرائے ہونگے، میرے خیال سے جمعہ کا بیان حالات حاضرہ کے اعتبار سے ہونا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات اور موجودہ مسلمانوں کی کمیوں کو واضح طور پر اجاگر کرنا چاہیے، حالات اور مواقع کو دیکھتے ہوئے اس تناظر میں مسلمانوں کے لئے لائحہ عمل طے کرنا چاہیے، ممبئی جس کو عروس البلاد کا درجہ حاصل ہو اور وہاں کی اتنی بڑی بڑی مسجدوں میں ، جہاں ہزاروں کی تعداد میں ہر قسم کے مزاج و عادات کے، ہر دُور و قریب کے، بلکہ ملک کے مختلف خطوں سے مسلمان نماز پڑھنے آتے ہوں، وہاں کے بیانات بھی ہم جیسے ناکارہ، کمزور و معذور بیانات کے جیسے ہوں، بڑی حیرت کی بات ہے۔۔۔۔

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے

 اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

    حضرت جی کے بیان کے بعد امام صاحب نے ووٹ کی شرعی حیثیت اور اس کی اہمیت و ضرورت اور اس سلسلے میں ہماری کوتاہیوں کو کھل کر بیان کیا، بہت ہی مختصر وقت میں بہت اہم گفتگو کی اور کھل کر کہا : ووٹ اور سیاست کو اہم سمجھو ورنہ نماز و تلاوت کے لئے بھی جگہ نہیں پاؤ گے۔

اِسی جیسی گفتگو سے ہماری منبریں آج محروم ہوتی جارہی ہیں ، آج حال تو یہ ہے کہ مسجدوں کے ٹرسٹیان،  اماموں کے بیان کا موضوع طے کرتے ہیں اور مخصوص گفتگو کا مکلف بناتے ہیں،

اللہ عزوجل ہمیں حق گو و سچ گو علماء کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہر مداہن و چاپلوس قسم کے علماء کے فتنوں سے پوری امت کی حفاظت فرمائے، آمین ثم آمین

 

مقیت احمد قاسمی گونڈوی

واردِ حال

کرلا ویسٹ ممبئی

05/04/2024

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے