نظام شمسی کا مرکز اور کواکب کا رہبر یعنی سورج کامل اعتدال کے ساتھ حرارت اور روشنی دنیا کو مہیا کروارہا ہے اگر اس میں خلل واقع ہوجائے تو انسان عالم طبعیات ، نباتات، بخارات کے ذریعہ ہونے والی بارش اور دیگر منافع سے مستفید نہیں ہوسکے گا۔ چاند کی مقناطیسی قوت سے سمندروں میں طلاطم اور مد و جزر پیدا ہوتا ہے، اس کی روشنی سے تاریک رات روشن ہوتی ہے اور کھیتوںپر مثبت اثرات ہوتے ہیںاگر چاند اپنی چاندنی بکھیرنا چھوڑ دے تو انسان ان تمام فوائد سے محروم ہوجاتا ہے۔ زمین کی اوپری سطح جسے ہم اوزون کہتے ہیںوہ سورج کی تابکاری شعاعوں سے تمام حیاتیات کو محفوظ رکھتی ہے اور زمین تمام نوع حیات کے لیے قابل سکونت ہے ۔اگر یہ اپنا کام کرنا چھوڑ دے تو سورج کی الٹراوائیلنٹ شعاعوں کے مضر اثرات تمام حیاتیات پر پڑیں گے۔ پہاڑ جو کانپتی ہوئی اور لرزتی ہوئی زمین کی بقا کے ضامن ہیں اگر ان کا ثقل ختم ہوجائے تو انسان آرام دہ زندگی گزارنے سے محروم ہوجائیں اور حیاتیاتی ارتقاء تعطل کا شکار ہوجائے ۔ پانی انسانی حیات کا ایک اہم جزو ہے جس پرہر جاندار کی زندگی اور ہر چیز کا بقا ہے ۔اگر پانی زمین میں جذب ہوجائے تو انسانی زندگی کا کارواں تھم جائے۔ رات کی تاریکی اس لیے چھاتی ہے تاکہ انسان رات کے تاریک سناٹوں میں اپنی تھکاوٹ کو دور کرکے استراحت حاصل کرسکے اگر ساری کائنات پر ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک آفتاب زمین کے نیچے ہی رہے اور طلوع ہی نہ تو ہماری زندگی کی گاڑی رک جائے گی، دن میں روشنی ہر سو پھیل جاتی ہے تاکہ انسان کسب معاش کے لیے بہ آسانی محنت و مشقت کرسکے اگرپوری دنیا میں ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک آفتاب اپنی جگہ قائم رہے اور غروب ہی نہ ہوتو انسان کا سکون و راحت غارت ہوجائے گا جس کے منفی اثرات انسان کی صحت پر مرتب ہوتے ہیں اگر یہ سلسلہ دراز ہوا تو پھر انسان نقاہت و کمزوی اور لاغری کے باعث کوئی کام کرنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ علاوہ ازیں اگر انسان کو درکار سکون نہ ملے تو وہ اپنی قوتوں کو مستعد و توانا بنانے میں بھی ناکام ہوجاتا ہے جس سے اس کی فکری صلاحیتیں بھی شدید متاثر ہوجاتی ہیں۔ بارش کے ذریعہ ہمیں ہر قسم کا سبزہ، غلہ اور باغات میسر آتے ہیں اگر بارش کے برسنے میں کمی واقع ہوجائے تو انسان اور جانور روزی سے محروم ہوجائیںگے ۔ الغرض اللہ تعالی کی پیدا کردہ تمام مخلوقات (سوائے انس و جن ) کے تقلبات وتصرفات معبود برحق کے دست قدرت میں ہے کسی کی مجال نہیں کہ اپنے دائرہ یا مدار سے باہر قدم نکال سکے ۔پوری دنیا میں بھی یہ طاقت نہیں کہ وہ ملکر اس میں کوئی تغیر و تبدل کرسکے یہی وجہ ہے کہ یہ شمس و قمر، ہوا و بارش، زمین و آسمان، لیل و نہار، حجر و شجر، پہاڑ و دریا الغرض تمام مخلوقات بروقت انسانی ضروریات کی تکمیل کررہی ہیں اگر اس میں رمق برابر میں کمی و پیشی واقع ہوجائے تو انسان کے تمام کام ٹھپ ہوجاتے ہیں اور انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ اب اس تناظر میں دیکھیں کہ انسان جس کے سر پر اشرف المخلوقات کا تاج ہے اگر وہ اپنی مفوضہ فرائض و ذمہ داریوں کے نبھانے میں کوتاہی کرے گا تو انسان نہیں بلکہ انسانیت دم توڑدے گی۔
ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی
انسان کے فرائض و ذمہ داریوں میں ایک یہ ہے کہ متمول حضرات غرباء و مساکین اور محتاجوں کی مالی مدد و اعانت کریں۔اللہ تعالی کے غیر محدود انعامات و احسانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے اپنی قدرت کاملہ سے مال و دولت کو بندوں کے درمیان تقسیم کیا ہے ۔ رب کی اس عطا و تقسیم میں کسی کی مرضی و مشورہ کو کوئی دخل نہیں ہے۔ تقسیم دولت میں کئی حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں مثلاً اگر ہر کوئی مالدار ہوتا ہے تو کوئی کسی کی تابعداری و خدمت کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا اور انسان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل بھی مشکل ہوجاتی ہے اس طرح نظام معیشت درہم برہم ہوجاتا ۔ تقسیم مال و دولت ہی کے باعث انسان مصلحت، خدمت اور دیگر امور میں ایک دوسرے کا سہارا بنتا ہے اس طرح ہر شخص آرام و راحت کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جس ذات نے ہمیں امیر بنایا اسی نے مفلوک الحال کو غریب بنایا ہے اور وہ ایسی قدرت والا ہے جو لمحہ بالبصر میں غنی کو فقیر اور غریب کو امیر بناسکتا ہے اسی لیے نہ ہمیں امیر ہونے پر فخر کرنا چاہیے چونکہ یہ اللہ رب العزت کے ہاںہماری قدر و منزلت کی دلیل نہیں ہے اور نہ غریب ہونے پر مایوس کیونکہ یہ اللہ تعالی کے ہم سے ناراض ہونے کی کوئی علامت نہیںہے۔ البتہ امیر و غریب کے درمیان رشتہ اخوت و محبت کو مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے دین اسلام نے اپنے ماننے والوں کو زکوٰۃ ، صدقات و خیرات کا نظام عطا فرمایا جس سے باہمی محبتوں کو فروغ دینے کا موثر ترین ذریعہ اور ہمدردی کا سرچشمہ ہے لیکن ہماری بعض کوتاہیوں کی وجہ سے اسلام کے اس انسانیت نواز نظام سے امت مسلمہ کماحقہ مستفید نہیں ہوپارہی ہے۔
قرآن مجید نے زکوٰۃ، صدقات و خیرات کی صحت و درستگی اور اس کی بقا کے لیے بالترتیب خلوص و للہیت اور عدم احسان و ایذارسانی کی شرائط مقرر کی ہے جن کے بغیر ہماری سخاوت کا عمل نہ شرف قبولیت پاتا ہے اور نہ اس پر اجر و ثواب مرتب ہوتا ہے جس سے ہم بروز محشر مستفید ہوسکیں۔ شریعت اسلامی نے روزہ کے وجوب کے لیے چند شرائط جیسے (i) اسلام، (ii) بلوغ، (iii) معذور نہ ہونا کو ضروری گردانا ہے اگر ان شرائط میں سے کوئی بھی شرط پائی نہ جائے تو انسان پر روزہ واجب ہی نہیں ہوتا۔ اسی طرح صحت زکوٰۃکے لیے کچھ شرائط مقرر کیے ہیں ان میں سے کوئی شرط پوری نہیں ہوتی ہے تو زکوٰۃ ، صدقات و خیرات کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق زکوٰۃ، صدقات و خیرات کی ادائیگی من (احسان جتلانے)، اذی (ایذا رسانی) اور ریا (دکھاوے) کی آفتوں سے محفوظ و مامون ہو۔ لیکن جب ہم زکوٰۃ ادا کرتے ہیں تو یہ تینوں پہلو اس میں بدرجہ کمال پائے جاتے ہیں جس سے غربا کو جسمانی ، روحانی اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ارشاد قرآنی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ آج ہم پہلے تو غریب کو زکوٰۃ لینے کے لیے اپنے گھر یا کسی روڈ کے کنارے بلاتے ہیں، کھڑی دھوپ میں قطار میں ٹہراتے ہیں پھر ان کی تصاویر لیکر سوشیل میڈیا پر ڈالتے ہیں جس سے ان کو مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ریاکاری کے عمل سے ان کی عزت نفس بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کو ان افعال قبیحہ سے حد درجہ اجتناب کرنا چاہیے چونکہ زکوٰۃ ، صدقات و خیرات کی ادائیگی کا اصل مقصد محتاج و سائل کی تکلیف کو دور کرنا ہے جب یہ مقصد ہی فوت ہوجائے تو ہمارے اس عمل کا کیا فائدہ ؟ مسلم معاشرے میں یہ چلن تیزی سے عام ہورہا ہے کہ آج کا مسلمان انفاق فی سبیل اللہ کا کام اللہ اور اس کے حبیبؐ کی رضا و خوشنودی اور آخرت کے ذخیرہ کے لیے کم دنیا کو دکھانے کے لیے زیادہ کررہا ہے جو دراصل منافقین کی خصلت ہے ہمیں اس سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہیے۔ جب غلطی ثابت ہوجاتی ہے تو عقل مند اپنے آپ کو درست کرلیتا ہے اور جاہل ضد پر اڑ جاتا ہے۔جب ہم کو معلوم ہوگیا کہ مقاصد زکوٰۃ کیا ہیں تو اب ہمیں زکوٰۃ ، صدقات و خیرات کی ادائیگی کے وقت خرافاتی خیالات سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نظام زکوٰۃ کے بے شمار اہداف و مقاصد اور فوائد و منافع ہیںمنجملہ ان کے ایک بنیادی فائدہ یہ ہے کہ زکوٰۃ ، صدقات و خیرات دینے والا شخص حرام ذرائع جیسے سود، چوری، رشوت، حرام ملازمت، عہدے وغیرہ سے حاصل ہونے والی کمائی و ناجائز آمدنی سے پرہیز کرتا ہے چونکہ اللہ تعالی نے محتاجوں کی مالی امداد اس مال سے کرنے کا حکم فرمایا ہے جو اس نے ہمیں دیا ہے یعنی پاکیزہ و حلال اموال۔ اب کوئی حرام ذرائع سے پیسہ کماکر اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف نہیں کرسکتالہٰذا جب بھی ہم غریب و نادار لوگوں کی مالی امداد و اعانت کریں گے تو سب سے پہلے ہمیں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ زکوٰۃ و دیگر صدقات جس مال سے ادا کیے جارہے ہیں وہ حلال ذرائع سے کمایے ہوئے ہیں یا نہیں۔ زکوٰۃ کا دوسرا بنیادی مقصد یہ ہے کہ غربت کا تدارک و خاتمہ ہو، حاجت مند کا معاشی تعطل ختم ہو تاکہ انسانی معاشرہ غربت سے نجات پاسکے ۔ غریب کو زکوٰۃ اسی لیے دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ملک و قوم کے معاشی استحکام میں اپنا بہترین کردار ادا کرسکے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زکوۃ سے اتنی رقم مستحق کو ادا کریں جس سے وہ کاروبارمیں مشغول کرکے اپنے لیے اور دیگر مفلوک الحال لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرسکے ۔آج ہم زکوٰۃ کی ادائیگی میں اس پہلو کو مکمل نظر انداز کرچکے ہیں۔عموماً آج ہم زکوٰۃ ان لوگوں کو دے رہے ہیں جنہوں نے گداگری کو اپنا پیشہ بنالیا ہے اگر ان میں سے کوئی بھی صاحب نصاب ہو تو ہماری زکوٰۃ ہی ادا نہیں ہوگی۔ ہماری اسی غلط روش کا سبب ہے کہ مسلم معاشرے سے غربت کا خاتمہ نہیں ہوپارہا ہے بلکہ مرور زمانہ کے ساتھ اس میں مزید اضافہ ہی ہورہا ہے۔ جبکہ ہمارے اسلاف کے ادوار میں زکوٰۃلینے والے نہ ہونے کی صورت میں حاصل شدہ زکوٰۃ کی رقومات سے مستحق مقروض لوگوں کے قرضے ادا کیے جاتے تھے، نادار لڑکیوں کی شادیاں کی جاتی تھیں۔ ہمیں زکوۃ ، صدقات و خیرات سے ایسے لوگوں کی مالی امداد و اعانت کرنا چاہیے جن کے چہرے سوال ہوتے ہیں لیکن زبان بے سوال ہوتی ہے۔ہمیں غربا و مساکین کی مالی امداد کرتے ہوئے یہ تصور ہرگز اپنے ذہن میں نہیں لاناچاہیے کہ ہم ان پر کوئی احسان کررہے ہیں بلکہ ہمارے اموال میں ان کا حق ہے جو ہم انہیں واپس لوٹا رہے ہیں۔ اس نظریہ کو ذہن میں رکھ کر زکوٰۃ، صدقات و خیرات ادا کریں تو مسلم معاشرے میں اپنائیت کے جذبات کو فروغ ملے گا۔دین اسلام نے ابنائے معاشرہ کی کفالت اور معاشی مساوات قائم کرنے کے لیے امیر طبقہ کے اموال میں غربا کا حق مقرر فرماکر دین کا بنیادی رکن بنادیا۔ اگر کوئی نماز پڑھ رہا ہے تو وہ کسی پر احسان نہیں کررہا ہے اسی طرح زکوٰۃ بھی دین کا رکن ہے اس کی ادائیگی کے ساتھ متمول حضرات کسی پر احسان نہیں کررہے ہیں بلکہ ارکان اسلام پر عمل پیرا ہوکر اپنی دنیا و آخرت سنوار رہے ہیں۔ غربا و مساکین زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات دینا دراصل متمول حضرات کا اپنے اموال پر رب کا شکریہ ادا کرنا ہے جس پر رب ان کے اموال میں مزید اضافہ فرمائے گا۔
جب یہ حقیقت ہے تو زکوٰۃ کی ادائیگی پر فخر کیسا؟ حدیث شریف میں یہاں تک آیا ہے کہ اہل دولت و ثروت کو متمول بنایا ہی انسانی معاشرے کے غریب و نادار لوگوں کی وجہ سے یعنی امیر طبقہ پر اللہ تعالی کی نعائم کا نزول ضعیفوں اور کمزوروں کی دعائوں کی برکت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لہٰذا متمول حضرات پر لازم ہے کہ وہ مستحقین کی تلاش کریں اور ان کی انتہائی عزت و احترام کے ساتھ مالی مدد کریں۔ علماء کرام نے لکھا ہے کہ غربا کی عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہونچے اس لیے ان کو تحفہ کہہ بھی زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات دی جاسکتی ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قرآن اور صاحب قرآنؐ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔
