بیدر۔ 12؍اپریل (ایک تجزیہ): ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے تو رکھ لئے لیکن بیدر کے مسلم لیڈران اپنااحتساب اس حوالے سے بھی کریں کہ انھوں نے مسلمان صحافیوں کو اپنے گھر دعوت پر آیامدعو کیا؟ ۔ انڈیا گیٹ چاول والے صاحب ہوںیا سمنٹ فروخت کرنے والے صاحب ، یہ تمام کاروباری لوگ فنکشن ہال میں اپنے گاہک اور نیرسٹ اور ڈئریسٹ کو مدعوکرکے دعوت ِ افطار دیاکرتے ہیں لیکن جن مسلم لیڈروں کے ساتھ مسلم صحافیوں کاسال کے 365دن چولی دامن کاساتھ ہے، ان مسلم صحافیوں کوسیاست دانوں نے اپنی رہائش گاہ پردعوت ِ افطار یاپھر عیدپر مدعو کیا؟ ہماری اطلاع کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔ سوائے وارڈنمبر 6کے دومسلم بھائی اور قائدین جناب محمد سمیراور جناب بابا کے علاوہ کسی نے بھی مسلم صحافیوں کو اپنے گھر پر مدعو نہیں کیا۔ گھروں پر مدعو نہ کرکے فنکشن ہال میں مدعو کرنا نئی تہذیب ہے لیکن جو لوگ اپنی رہائش گاہ پر ایک دوسرے کومدعو کرتے ہیں وہ اسلامی تہذیب کو بڑھاوادیتے ہیں اور مدعو سے اپنے قریبی تعلق کااظہار کرتے ہیں۔
گذشتہ 16سال کے دوران ریاستی وزیر جناب رحیم خان نے کتنی دفعہ مسلم صحافیوں کو اپنے مکان پر دعوتِ افطار دی ہے یا عیدپر مدعوکیاہے۔ جواب آپ کونفی میں ملے گا۔ بلکہ جناب رحیم خان نے اپنے 16سالہ سیاسی کیرئیر میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں لی۔ یہ وہی ریکارڈ ہے جو وزیراعظم مودی سے ملتاجلتاہے۔البتہ وزیربلدی نظم ونسق اور حج جناب رحیم خان سوشیل میڈیا سے نہایت قریب ہیں۔ سوشیل میڈیا چینل ان کااوڑھنا بچھونا ہے لیکن مرکزی میڈیاسے وہ آج بھی دور ہیں ۔ اسی طرح مسلم صحافیوں سے بھی ان کی دوری جگ ظاہر ہے۔
ہماراصرف اتناہی کہناہے کہ بیدر میں صحافت کی تنزلی یا مسلمان صحافیوں سے دوری دراصل جمہوریت کا قتل ہے ۔کیوں کہ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے ۔ جب صحافت ہی کو نہ پوچھ کرسوشیل میڈیا کو سیاست دان اپناسہارااوراوڑھنا بچھونا بنالیں گے تو کہاجاسکتاہے کہ جمہوریت کے قتل میں مسلمان سیاست دانوں کاصاف صاف ہاتھ رہے گا۔ وہ سوشیل میڈیا جیسے درمیانی میڈیا کو اپناماتحت اور بھونپوبناکر عوام کو الوبنارہے ہیں۔ درمیانی میڈیا سوشیل میڈیا ہویادرمیانی آدمی کوئی چھپا ہواشخص ہو ، ایک کو مخنث اور دوسرے کو دلال ہی کہاجائے گا۔ اب عوام فیصلہ کرے اور ہوش میں آئے کہ اس کے ساتھ جو کچھ ہورہاہے، آیاوہ درست ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے