میرؔ بیدری، بیدر، کرناٹک۔

سوچنا کیا ، دیکھنا کیا ، عید ہے
میں بھی اپنے گھر چلاتھا عید ہے

ہر خوشی قدموں میں تھی ، دیکھے نہ تم
رب کی مرضی ساتھ تھی ، جانے نہ تم

کرنے نکلے بندگی ہم عید کو
ہم نہ ہرگز ترسے رب کی دیدکو

دل کی حالت خوشیوں سے مامور تھی
اک خدا کے سامنے مشکورتھی

رکھاروزہ اور قرآں پڑھتے رہے
رب نے رکھاجیسا ہم ویسے رہے

ٖغم زدہ ہم تھے غریبوں کے لئے
اوردُعامانگی اسیروں کے لئے

دوست سے ، احباب سے پرعیدگاہ
اورنمازیں پڑھ بنایا دیدگاہ

شکرواجب تھا ، خدا کاہم پہ ہی
عزم ہے ، ہوگی قرآں سی زندگی

آئے ہیں ، دنیاسے اک دِن جاتے ہیں
عیدآئی ہے تو سب یادآتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے