ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک ہوئے ۔

پکھرایاں کانپور (پریس ریلیز): شہر پکھرایاں کی رجال ساز شخصیت قوم کے بے لوث خادم چشمہ نورانی کے عظیم مرد مجاہد مشہور عالم دین جناب مولانا مشتاق احمد صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ بانی مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم پکھرایاں کانپور دیہات، یوپی کا بروز سوموار حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب انتقال ہوگیا،جسکی خبر سن کر علاقے میں غم کا ماحول قائم ہوگیا،مولانا ایک بڑے عالم مصنف مدرس اور باکمال ناظم تھے ،انکی ولادت 1964ء ضلع سیتا مڑھی بہار کے ایک گاؤں کنچن پور میں ہوئی ابتدائی تعلیم آپنے یہی سے حاصل کی اسکے بعد جامعہ اشرف العلوم کنہواں سے تعلیم حاصل کی اسکے بعد تقریباً دو سال جامعہ رحیمیہ دہلی میں تعلیم حاصل کی۔

دارالعلوم دیوبند سے 1984ءمیں فراغت حاصل کرنے بعد اپنے زمانے کے نابغہ روزگار شخصیت عارف باللہ حضرت مولانا قاری سید صدیق صاحب باندوی کی خدمت میں ہتھورا پہونچے اور حضرت کی خدمت میں رہ کر اصلاحی تعلق قائم کیا اور فیض یاب ہوتے رہے ،اسکے بعد تدریس کے لئے پکھرایاں قصبہ کے مدرسہ فیض العلوم آئے اور کئی سال تک یہاں تعلیم و تربیت کے ساتھ اپنے فیض کو عام کرتے رہے بدعات وخرافات کے سامنے ہمیشہ سینہ سپر رہے اور مسلک اہل سنت والجماعت کی حفاظت اور تبلیغ کے ہر ممکن کام کیا کتابیں لکھی بیانات وخطبات کے ذریعہ مناظروں کے ذریعہ لوگوں کو راہ حق کی طرف بلاتے رہے ،

کچھ سالوں کے بعد انہوں نے قاری صدیق احمد صاحب باندوی نوراللہ مرقدہ کے حکم پر پکھرایاں میں ہی دوسرے کنارے پر ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی یہ مدرسہ 1989 میں قائم ہوا اور باقاعدہ عمارت کے طور پر 1992ء میں اسکا آغاز ہوا یہ مدرسہ ایسے پرخطر ماحول میں قائم کیا گیا جہاں پورے علاقے کے اندر کفرو شرک بدعات و رسومات کا دور دورہ تھا مولانا کی انتہائی محنت اور جہد مسلسل کی نتیجے میں اللہ نے اس مدرسہ کے فیض کو بے پناہ عام کیا پورے علاقے کے بچے کے ساتھ پورے ملک کے طلباء جوق در جوق تعلیم حاصل کرنے کےلئے مدرسے میں آنے لگے اورانکا لگایا ہوا شجر سایہ دار ہونے لگا علاقے کے اندر علم کی شمع روشن ہوئی،سیکڑوں بچے حافظ قرآن بن کر نکلے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے عالمیت کی تعلیم حاصل کرکے دارالعلوم دیوبند سے تکمیل کی بہت سے مولانا کے بہت سے شاگرد ملک اور بیرون ملک میں، اپنے اپنے طور پر دین کی خدمات انجام دے رہے ہیں،علم کی سیرابی کے ساتھ مولانا نے روحانی سلسلے کے ذریعہ بھی قوم کی خدمت کی۔

خلق خدا کا ہجوم ان کے آستانے پر ہمیشہ لگا رہتا دعائیں لینے کے لئے ملک اور بیرون ملک سے لوگ تشریف لاتے بلا تفریق مذہب و ملت ہر طبقہ کے لوگ ان سے روحانی فیض حاصل کرنے کے لئے آتے اور مولانا بلا تفریق مذہب وملت پورے خلوص سے انکی خدمت کرتے ،اللہ نے انکی دعاوں میں بڑا اثر رکھا تھا بے پناہ حسن اخلاق کے مالک تھے جو ان سے ملتا گرویدہ ہوجاتا مولانا کو اپنے زمانے کے ہم عصر اور اکابر علماء کا اعتماد حاصل رہا خواص طور سے حضرت باندوی ، مولانا انظر شاہ کشمیری علیہ الرحمہ دارلعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم خطیب الاسلام مولانا سالم قاسمی علیہ الرحمہ مولانا غلام وستانوی دامت برکاتہم کا اعتماد حاصل رہا اور ان سے دیرینہ مراسم رہے،یہ حضرات خواص طور سے مولانا کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے اور انکے کام سے خوش ہوتے تھے، مولانا کے پسماندگان میں چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں،جنازہ کی نماز آپ کے تیسرے نمبر کے صاحبزادے مفتی محمد شاہد قاسمی نے پڑھائی۔ بڑی تعداد میں چاہنے والوں نے شرکت کی اور عظیم جم غفیر کے ذریعہ آپ کو نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے