بیدر۔ 24؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): جمہوری پارلیمانی انتخابات ملک بھر میں دوسرے مرحلہ میںپہنچ چکے ہیں۔اس کے تعلق سے مہم جوئی کاآج آخری دن تھا۔ انتخابات کو لے کر مختلف شہروں میں مختلف طبقات کے قائدین اپنے مسائل کو لے کر جمہوریت کے چوتھے ستون ’’صحافت‘‘ کے سامنے پہنچ کر اپناموقف رکھ رہے ہیں۔ آج ہی کا واقعہ ہے کہ بیدرکے ’’پتریکابھون‘‘ میں مراٹھا سماج کے افراد نے صحافت کے سامنے اپنے مسائل اور مختلف معاملات میں اپناموقف پیش کیااور اسی طرح پارلیمانی انتخابات پر بھی مبینہ طورپر اپنی رائے دی۔ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی لنگایت طبقہ ، برہمن سماج ، دلت سماج اور دیگر سماجی طبقات آئندہ آتے رہیں گے اور صحافت کے سامنے اپنے مسائل اور اپناموقف رکھتے رہیں گے ۔ جس کی خبریں بنتی اور اخبارکے علاوہ چینل اور ڈیجیٹل میڈیا کی زینت بھی بنتی رہیں گی۔
اس عمل سے پتہ چلتاہے کہ دیگر اقوام کے اپنے مسائل ہیں اور وہ مسائل صحافت کے سامنے رکھنے کا وہ اقوام حوصلہ رکھتی ہیں۔ اسی طرح انتخابات کے حوالے سے اپناموقف بھی لوگوں تک پہنچانے میں سرعت سے کام لیاجاتاہے لیکن دیکھنے میں آتاہے کہ مسلمان اور ان کی مختلف جماعتیں ’’مرکزی صحافت ‘‘ سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ اگر کوئی بیان ویان دے دیاتواردو اخبارات تک اور پھر معاملہ ختم ۔ ایسا لگتاہے جیسے اردو اخبارات تک بات پہنچانے سے ان کے مسائل حل ہوجاتے ہوں ۔اور ان کاموقف حکومت ،عوامی نمائندہ یا دیگر طبقہ سمجھ لیتے ہوں گے ۔ اسی لئے غیرمسلم احباب مسلمانوں کے اس عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور کہہ بھی دیتے ہیں کہ مسلمانوں کوجمہوری اقدار پر کلی بھروسہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا مسلمان اپنارویہ بدلیں۔سال 2024؁ء کے ان پارلیمانی انتخابات میں مختلف شہروں میں جس کسی امیدوار کی تائید کررہے ہیں اس کے بارے میں دس پندرہ ذمہ دار احباب پریس کانفرنس لیں اور جمہوریت کے چوتھے ستون صحافت کوبتائیں کہ ہم نے ووٹ دینے کاان بنیادوں پر فیصلہ کیاہے ۔ ہمارے یہ اور یہ مطالبات ہیں اور ان مطالبات کو پوراکرنے کاوعدہ کرچکے فلاں امیدوار کو اپناووٹ دینے کااعلان کرتے ہیں۔ اِمسال بھی اگر اس طرح کے عمل سے گریز کیاگیاتو یہی پیغام جائے گاکہ مسلمان جمہوری قدروں اور خصوصاً صحافت پر بھروسہ نہیں کرتے۔ اگربہت سارے مقامات پر مسلم ادارے اور جماعتیں اردو کے علاوہ پوری ’’مرکزی صحافت‘‘ سے پہلے سے جڑے ہوئے ہیں ، توپھران کایہ عمل سبھی کے لئے مثال ہوناچاہیے۔جس کی تقلید فوری طورپر شروع ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے